Download as docx, pdf, or txt
Download as docx, pdf, or txt
You are on page 1of 114

‫نَحَمَدَهََوَنَصَلَيََعَلَىَرَسَوَلَهََالَكَرَيَمَ َ‬

‫َ‬

‫رسالہ لکھنے کا سبب‬


‫حمدًا‪َ،‬وسَل ًما‪َ،‬بالغينَسابغين‪َ .‬‬

‫اس زمانے میں جو بعض مسلمانوں میں دىنى عقیدےکی‬


‫كچھ اندرونى خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں‪ ،‬اور (چونکہ اعمال کی‬
‫بنیاد عقیدے ہی ہیں‪،‬اس لیے عقیدے کی خرابی سے ) پھراعمال‬
‫میں بھی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں‪ ،‬بلکہ مزید پیدا ہوتی جا رہی‬
‫ہیں‪ ،‬تو ان سب باتوں كو دیکھ کر اس بات كى ضرورت اکثر‬
‫زبانوں پر آ رہی ہے کہ ‪ :‬علم کالم کو نئے سرے سے لکھا جانا‬
‫چاہیے۔ َ‬

‫اگرچہ جوعلم کالم پہلے سے لکھا ہوا موجودہے‪ ،‬اس کے‬


‫محل نظر معلوم ہوتا ہے‬
‫ِّ‬ ‫اصول وقواعد کودیکھا جائے‪ ،‬تو یہ کہنا‬
‫کہ نیا علم کالم لکھا جائے‪ ،‬کیونکہ وہ اصول بالکل پورے اور‬
‫کافی ہیں۔ چنانچہ اہ ِّل علم کو جب ان اصولوں کے استعمال کی‬
‫ضرورت پڑتی ہے‪ ،‬تو انہیں اس بات کا اندازہ اور تجربہ عین‬
‫الیقین‪ ،‬ىعنى آنكھوں دىكھى چىز کے درجے میں ہو جاتا ہے۔‬
‫لیکن اصولوں كى روشنى مىں ذىلى بحثىں بھى كى جاتى‬
‫ہىں ‪ ،‬تاكہ جسے شبہات پىش آئے ہىں‪ ،‬اس كے شبہات كو دور كىا‬
‫جا سكے‪،‬تو اس قسم كى ذیلى اور وقتى بحثوں كے لحاظ سے‬
‫اس بات کو صحیح تسلیم کیا جا سکتا ہے كہ علم كالم كو نئے‬
‫سرے سے لكھا جائے۔لیکن اس صورت میں جدید علم کالم کا‬
‫«جدید» ہونا‪ ،‬اس لحاظ سے ہے کہ ‪ :‬شبہات نئے ہیں‪( ،‬نہ یہ کہ‬
‫انہیں حل کرنے کے لئے نئے اصول استعمال کرنے پڑتے ہیں)‬
‫۔ بلكہ اس سے پرانے اور قدیم علم کالم کا جامع ہونا بڑى‬
‫وضاحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے ‪،‬کہ گو شبہات کیسے ہی ہوں‪،‬‬
‫اور کسی زمانے کے ہى ہوں‪ ،‬مگر ان کے جواب کے لئے وہی‬
‫پرانا علم کالم کافی ہو جاتا ہے۔ لہذا‪ ،‬ایک ضروری اصالح تو‬
‫اسى بات كے اندر كرنى ضرورى ہے کہ ‪ :‬علم کالم نئے سرے‬
‫مدون ہونا چاہیے۔ َ‬
‫سے َّ‬
‫ایک دوسری اصالح اس سے بھی ضروری اور زیادہ‬
‫اَہمیت والی ہے۔وہ یہ کہ ‪ :‬جب کہنے والے یہ کہتے ہیں ‪ :‬علم‬
‫کالم کو نئے سرے سے لکھا جائے‪ ،‬تو ان کا کہنے کا مقصد یہ‬
‫ہوتا ہے کہ ‪ :‬شریعت کے وہ علمی اور عملی مسائل‪ ،‬جن پر امت‬
‫کے جمہور علماء کا اتفاق ہے‪ ،‬اور کتاب وسنت کی نصوص کا‬
‫صاف صاف مطلب ہیں‪ ،‬اور پرانے علماء سے وہ معانی منقول‬
‫اور محفوظ چلے آ رہے ہیں‪ ،‬ان میں جدید تحقیق کے نام سے‬
‫ایسی تبدیلی اور تصرف کیا جائے کہ پرانے علمی اور عملی‬
‫تسلىم شدہ اصول ‪ ،‬اِّن جدید تحقیقات پر منطبق اور‬ ‫طور پر‬
‫چسپاں ہو جائیں‪ ،‬گو مشاہدہ یا پکی ٹھكى عقلی دلیلیں ان جدید‬
‫تحقیقات کے صحیح ہونے کی شہادت بھی نہ دے سکیں۔سو یہ‬
‫توایسى بات ہے کہ اس کا باطل اور غلط ہونا بالکل ہی ظاہرہے۔‬
‫آج كل جن دعووں کانام (جدید تحقیقات) رکھ لیا گیا ہے‪ ،‬ان كے‬
‫بارے مىں‪َ :‬‬

‫اىك تو ىہ بات ذہن نشىن كر لىنا ضرورى ہے كہ نہ تو وہ‬


‫سب جدىد تحقیقات ‪ ،‬تحقیق کے درجے کو پہنچى ہوئى ہیں‪ ،‬بلکہ‬
‫ان کا زیادہ حصہ تومحض خیاالت ‪ ،‬اندازوں اور وہمی باتوں پر‬
‫مشتمل ہے۔ َ‬

‫اور نہ ہى ان میں سے اکثر باتیں جدىد ہى ہیں‪ ،‬کہ انہیں‬


‫جدید کہا جاسكے۔ بلکہ پرانے فالسفہ کے کالم میں بھی ان کا ذکر‬
‫ملتا ہے‪ ،‬اور ہمارے مسلمان متکلمین نے ان نكتوں پر کالم بھی‬
‫کیا ہے‪ ،‬چنانچہ علم کالم کی کتابیں دیکھنے سے اس کی تصدیق‬
‫ہو سکتی ہے۔ َ‬

‫‪2‬‬
‫البتہ اس بات میں شبہ نہیں کہ کچھ شبہات ایسے تھے کہ‬
‫زبانوں پر ان کا تذکرہ بھی باقی نہیں رہا تھا‪ ،‬اور ان کا ذکر اب‬
‫دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ َ‬

‫اور بعض شبہات ایسے ہیں کہ اصل میں تووہ پرانے ہی‬
‫ہیں‪ ،‬لیکن اب کسی نئے نام سے ذکر کئے جا رہے ہیں‪ ،‬یعنی‬
‫عنوان نیا ہو گیا ہے۔ َ‬

‫اور بعض شبہات ایسے پیداہو گئے ہیں کہ ان کی بنیادیں‬


‫ایسی ہیں کہ انہیں نیا عنوان دیا جانا چاہیے‪ ،‬سو ان کو واقعی‬
‫ت جدیدہ کہنا صحیح ہو سکتا ہے۔ اس اعتبار سے ان شبہات‬
‫تحقیقا ِّ‬
‫کے اس مجموعے کوجدید کہنا مناسب ہے۔ اور ان شبہات کے‬
‫دور کرنے ‪ ،‬حل کرنے اور جواب دینے کو (جدید علم کالم) کہنا‬
‫‪ ،‬اس بنىاد پردرست اور صحىح ہو سكتا ہے کہ جدید شبہات ‪،‬‬
‫ذکر شدہ شبہات کے مقابلے میں ہیں‪ ،‬اور نیز اس وجہ سے بھی‬
‫کہ ہرزمانے کے لوگوں کے ذوق کا لحاظ کرکے ‪ ،‬بیان کے طرز‬
‫میں نیا پن اختیار کر لینا مفیدثابت ہوا ہے۔ چنانچہ ہماری بیان‬
‫کردہ تفصیل کے لحاظ سے ‪ ،‬اس بات کا کہ ‪« :‬علم کالم کو دوبارہ‬
‫لکھا جانا ضروری ہے»‪ ،‬انکار نہیں کیا جا سکتا۔‬
‫خىر‪ ،‬جس معنى كے لحاظ سے بھى «جدىد علم كالم » كا‬
‫لكھا جانا ضرورى قرار دىا جائے‪ ،‬اىك عرصے سے اس‬
‫ضرورت كو پورا كرنے كى مختلف قسم كى صورتىں ذہن مىں‬
‫آىا كرتى تھىں۔ ان صورتوں مىں سے بعض كا خاكہ بہت مكمل‬
‫رہ‬ ‫تو تھا‪ ،‬لىكن وہ بڑى طوىل اور لمبى بحثىں تھىں۔اس لىے‬
‫رہ كر ذہن مىں ىہ بات آتى تھى كوئى ایسى تحرىر لكھى جائے‬
‫جو مختصر سى ہو۔ اور اس وقت جتنے نئے شبہات لوگوں كى‬
‫زبانوں پر ہىں‪ ،‬ىا كتابوں مىں لكھے جا رہے ہىں‪ ،‬ان سب كو‬
‫جمع كر كے اىك اىك جزئى ‪ ،‬اور اىك اىك مسئلے كا جواب لكھ‬
‫دىا جائے۔ اس مىں ىہ فائدہ نظر آتا ہے كہ ‪:‬‬
‫چونكہ اس صورت مىں خاص طور پر ان شبہات كا‬
‫ذكر ہوگا جو زبان زد عام ہىں‪ ،‬اور عام لوگوں كے ذہنوں مىں‬

‫‪3‬‬
‫گردش كر رہے ہىں‪ ،‬اور پھر ان كا جواب دىا جائے گا‪ ،‬اس‬
‫لىے لوگوں كے شبہات دور كرنے كے لحاظ سے ىہ صورت‬
‫زىادہ مفىد معلوم ہو تى ہے۔‬
‫اور اگر ان چھوٹےچھوٹے شبہات كا اس طرح جواب‬
‫دىا جائے كہ اىك اىك جزئى كو ذكر كىا جائے‪ ،‬اور پھر اس كا‬
‫اور اسى جواب كے ضمن مىں ایسے‬ ‫جواب دىا جائے‬
‫ضرورى كلیات اور قاعدے بھى ذكر كر دىے جائىں ‪ ،‬جن كو‬
‫سمجھ لىنے سے اىك تو پرانے شبہات كا جواب مل جائے‪ ،‬اور‬
‫دوسرا ىہ كہ اگر زندگى مىں پھر كبھى ان شبہات جىسا كوئى‬
‫دوسرا نىا شبہ سامنے آ جائے‪ ،‬تو اپنا ذہن بھى ان شبہات كو‬
‫دور كر سكے ‪ ،‬اس لىے كہ خود اپنا ذہن بھى ان قاعدوں اور‬
‫اصولوں كو سمجھ چكا ہو گا۔ تو امىدہے كہ اس طرح جواب دىنے‬
‫إن شَاء هللاُ تعَالَى‪.‬‬
‫سے زىادہ نفع حاصل ہو گا‪ْ ،‬‬

‫لىكن اس طرح كى كتاب لكھنے كے لىے اس بات كى‬


‫ضرورت تھى كہ پہلے عوام كے ذہنوں مىں گردش كرنے والے‬
‫شبہات كو اكٹھا كر لىا جائے۔ اور ظاہر ہے كہ ىہ كام صرف‬
‫جواب دىنے والے كا تو نہىں ہے‪ ،‬اس لىے مىں نے اس بارے‬
‫مىں بہت سارے ساتھىوں سے مدد چاہى‪ ،‬كہ وہ اس قسم كے‬
‫عوامى شبہات اكٹھے كر كے مجھے دے دىں۔‬
‫بہت عرصے تك مجھے اس بات كا انتظار رہا كہ شبہات‬
‫كا كافى سارا ذخىرہ جمع ہو جائے‪ ،‬تو هللا كا نام لے كر ان كا‬
‫جواب دىنے كے كام كو شروع كىا جائے۔چنانچہ مجھے اس كا‬
‫انتظارہى تھا كہ ذو القعدہ ‪َ1327‬ﻫ ‪( ،‬نومبر ‪ 1909‬ء)‪ ،‬مىں‬
‫بنگال كا سفر پىش آ گىا۔ راستے مىں اپنے چھوٹے بھائى سے‬
‫ملنے كے لىے على گڑھ اُترا‪( ،‬اس لىے كہ وہ وہاں سب انسپكٹر‬
‫ہىں)۔‬
‫كالج كے كچھ طالب علموں كو اس كى اطالع ہو گئى۔ وہ‬
‫ملنے كے لىے آئے‪ ،‬انہى مىں سے كچھ طالب علموں نے‬
‫سیكرٹرى صاحب ‪ ،‬ىعنى جناب نواب وقار االامراء كو اطالع كر‬

‫‪4‬‬
‫دى‪ ،‬اور كوئى بعىد نہىں كہ وعظ كى سفارش كى درخواست بھى‬
‫كى ہو۔ جناب نواب صاحب كا رقعہ‪ ،‬رات كے وقت اسى مضمون‬
‫ت خود ما بدولت تشرىف الئے‪ ،‬اور‬
‫كا پہنچا‪ ،‬اور صبح كو بذا ِّ‬
‫اپنے ساتھ ہى كالج لے گئے۔‬
‫جمعہ كا دن تھا۔ وہاں ہى نماز پڑھى‪ ،‬اور ان كے كہنے‬
‫كى وجہ سے‪ ،‬عصر كى نماز تك كچھ بىان كىا‪ ،‬جس كا خالصہ‬
‫آگے «افتتاحى تقرىر» كے عنوان كے تحت مذكور ہے۔ كالج كے‬
‫طالب علموں نے جس توجہ سے بىان كو سنا‪ ،‬اس سے ىہ اندازہ‬
‫ہوا كہ ان كو اىك درجے مىں حق كى طلب اور انتظار ہے‪ ،‬اور‬
‫فہم اور انصاف كے آثار بھى معلوم ہوئے۔چنانچہ آئندہ كے لىے‬
‫بھى وقتًا فوقتًا ‪ ،‬اصالحى مضامىن اور مواعظ سنانے كے خواہاں‬
‫ہوئے‪ ،‬جس كو احقر نے دىنى خدمت سمجھ كر خوشى سے‬
‫منظور كر لىا۔‬
‫اور اس حالت كو دىكھ كر ذہن نے ىہ تجوىز كر لىا‪ ،‬كہ‬
‫گذشتہ سطور مىں جس مختصر انداز مىں كتاب لكھنے كا خاكہ‬
‫بىان كىا ہے‪ ،‬اسے مزىد مختصر كروں‪ ،‬چنانچہ اس تجوىز كے‬
‫بعد سابقہ صورت مىں تبدىلى بھى ہو گئى۔ وہ ىہ كہ جزئى جزئى‬
‫شبہات كے جمع ہونے كا كام ‪ ،‬جو كہ اوروں كے كرنے كاہے‪،‬‬
‫اس كا انتظار چھوڑ دىا جائے۔ اور جو شبہات اب تك كانوں سے‬
‫خود سنے ہىں‪ ،‬اور جو اعتراضات كتابوں مىں خود پڑھے ہىں‪،‬‬
‫صرف اُن كو سامنے ركھ لىا جائے‪ ،‬اسى كى روشنى مىں‬
‫ضرورى مقدار متعىن كر لى جائے‪،‬اور پھر اپنے وعظوں كے‬
‫ذرىعے ‪ ،‬ان شبہات كے جوابات كو‪ ،‬ان طالب علموں كے سامنے‬
‫بىان كر دىاجائے۔‬
‫اور جو لوگ ان مجلسوں مىں موجود نہ ہو سكتے ہوں‪،‬‬
‫ان كو فائدہ پہنچانے كى غرض سے انہى باتوں كو مختصر كر‬
‫كے‪ ،‬اور اس كا خالصہ تىار كر كے ‪،‬لكھ كر شائع بھى كر دىا‬
‫جائے۔اور وقت اور حالت كے اختالف كى بنا پر‪ ،‬خواہ تقرىر‬

‫‪5‬‬
‫پہلے كى جائے اور تحرىر بعد مىں شائع كى جائے‪ ،‬ىا اس كے‬
‫برعكس ‪ ،‬تحرىر پہلے شائع كى جائے‪ ،‬اور تقرىر بعد مىں ہو۔‬
‫اور اگر اس كام كے دوران ہى كچھ حضرات ہمت‬
‫فرمائىں‪ ،‬اور عمومى شبہات كو جمع كر كے مجھ تك پہنچا دىں‪،‬‬
‫تو جس مختصر تصنىف كا خاكہ پہلے بىان ہو چكا‪ ،‬اس خاكے‬
‫كے مطابق عمل كر كے اسے بھى مرتب كر دىا جائے۔اور اُس‬
‫تحرىر كو‪ ،‬اِّس رسالے كا دوسرا حصہ بنا دىا جائے۔ ورنہ ْ‬
‫إن‬
‫شَا َء هللاُ تعَالَىاس ابتدائى رسالے كے بھى‪ ،‬قرىب قریب كافى ہو‬
‫جانے كى امىد ہے۔ اور اگر كوئى استاد اىسا مل جائے‪ ،‬جو اس‬
‫رسالے كو سبقًا سبقًا پڑھا دے‪ ،‬تو اور بھى زىادہ اور كامل نفع‬
‫ہو۔‬
‫اور اگر هللا تعالى كسى كو ہمت دے‪ ،‬اور وہ ملحدىن اور‬
‫اعتراض كرنے والوں كى كتابوں كو پڑھے‪ ،‬اور ان كتابوں مىں‬
‫سے‪ ،‬تمدن كے اپنى طرف سے گھڑے ہوئے قواعد‪ ،‬ىا سائنس‬
‫كے‪ ،‬اسالم كے ساتھ تعارض كى بنىاد پر جو شبہات پىش كىے‬
‫گئے ہىں‪،‬انہىں جمع كرے اور ان كے تفصىلى جوابات اىك كتاب‬
‫مىں قلم بند كر دے‪ ،‬تو اىسى كتاب «علم كالم جدىد » كے مفہوم‬
‫كا ٹھىك ٹھىك مصداق ہو جائے‪ ،‬جس كا اىك جامع نمونہ‪،‬فاصل‬
‫طرابلسى كے افادات سے‪ ،‬ال َح ْمدُ هللِّ تعَالى‪« ،‬رسالہ حمىدىہ» كى‬
‫مدون بھى ہو چكا ہے‪ ،‬اور جس كا ترجمہ «سائنس‬
‫صورت مىں َّ‬
‫واِّسالم»‪ ،‬كے نام سے ہندوستان مىں شائع ہو چكا ہے‪ ،‬اور اكثر‬
‫طبىعت والوں كو مطبوع ونافع بھى ہوا ہے۔‬
‫ق‪ .‬اَللَّ ُھ َّم یَس ِّْر لَنَا َھذَا‬
‫ق‪َ ،‬وبِّیَ ِّد ِّہ أ َ ِّز َّمةُ التَّحْ ِّق ْی ِّ‬
‫ي الت َّ ْوفِّ ْی ِّ‬
‫وهللاُ َو ِّل ُّ‬
‫ق‪.‬‬ ‫ع ْون ََك لَنَا َخی َْر َرفِّ ْی ِّ‬ ‫َّ‬
‫الط ِّریْقَ ‪َ ،‬واجْ عَ ْل َ‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪6‬‬
‫افتـتاحی تقـریر‬
‫جوبطورخطبے کے ہے‬
‫ﭷﭸﭹﭺﭻ‬

‫(‪)1‬‬
‫‪.‬‬ ‫ںﮠﮊَ[سورةَلقمان‪]15َ:‬‬ ‫ﮋﮛﮜﮝں‬
‫آج کی تقریر کسی خاص موضوع پر وعظ نہیں ہے‪ ،‬بلکہ‬
‫مختصر طور پر صرف ان اسباب کا بیان کرنا مقصد ہے جن کی‬
‫وجہ سے علماء کرام کے بیانات سننے كے باوجود آپ کو پورا‬
‫فائدہ نہیں ہوا ہوگا۔ اور اگر ان اسباب کی صحیح تشخیص کر‬
‫کے‪ ،‬ان کی تالفی نہ کی گئی‪ ،‬اور ان غلطیوں کودور نہ کیا گیا‬
‫‪ ،‬توآئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ‪،‬کہ اگر علماء کے بیانات سنے‬
‫بھى گئے‪،‬توفائدہ نہىں ہو گا۔ان اسباب کا حاصل آپ حضرات کی‬
‫چند ایک کوتاہیاں ہیں۔‬
‫یہ ہے کہ شبہات روحانی بىمارىاں ہیں ‪،‬‬ ‫پہلی کوتاہی‪:‬‬
‫مگر اس کے باوجود انہیں بىمارى نہیں سمجھا گیا۔ یہی وجہ ہے‬
‫کہ ان کے ساتھ وہ برتاؤ بھی نہیں کیا گیا جو جسمانی بیماریوں‬
‫کے ساتھ کیا جاتا ہے۔دیکھیے! اگر خدا نخواستہ کبھی کوئی‬
‫مرض الحق ہواہوگا‪ ،‬تو کبھی یہ انتظار نہ ہوا ہو گا کہ کالج میں‬
‫جو طبیب یا ڈاکٹر مقرر کیا گیا ہے‪ ،‬وہ خودہمارے کمرے میں آ‬
‫کر ہماری نبض دیکھے‪ ،‬اور عالج کرے۔ بلکہ خود اس کی قیام‬
‫گاہ پر حاضر ہوکر‪ ،‬اس سے اظہار کیا ہو گا۔ اور اگر اس کے‬
‫عالج اور تدبیر سے فائدہ نہ ہوا ہو گا‪ ،‬تو کالج کی حدود سے نکل‬
‫کر شہر کے سول سرجن کے پاس ہسپتال جا پہنچے ہوں گے۔‬

‫سورۂ لقمان كى آیت كا مذكورہ باال ٹكڑا تالوت كر كے‪ ،‬اىك لمبا مضمون‬ ‫(‪)1‬‬
‫بىان كىا گىا تھا‪ ،‬مگر ىہاں پر اس كا خالصہ لكھا جاتا ہے۔وهللاُ ال ُم َوفِّ ُق‪.‬‬

‫‪7‬‬
‫اور اگر اس سے بھی فائدہ نہ ہوا ہو گا‪ ،‬تو اپنا شہر چھوڑ کر‬
‫دوسرے شہروں کا سفر کیا ہو گا۔اور سفر کے مصارف‪ ،‬معالج‬
‫کی فیس‪ ،‬اور دوائیوں کا سامان‪ ،‬سب کچھ میں بہت کچھ خرﭺ‬
‫بھی کیا ہو گا۔ غرض‪ ،‬جب تک بیماری سے شفا نہ مل جائے‪،‬‬
‫تب تک صبر نہ آیا ہو گا۔‬
‫پھر كىا وجہ ہے كہ ان شبہات کے پیش آ جانے کے وقت‬
‫اس کا انتظار ہوتا ہے کہ‪ :‬علماء خودہماری طرف متوجہ ہوں۔ آپ‬
‫خود ان کے پاس جا کر ان سے کیوں نہیں پوچھتے؟۔اور جا کر‬
‫کسی عالم سے پوچھا‪ ،‬مگر آپ کو شفا نہیں ہوئی‪ ،‬اور شبہ دور‬
‫نہیں ہوا‪( ،‬خواہ اس وجہ سے کہ ان کا جواب کافی نہیں تھا‪ ،‬خواہ‬
‫اس وجہ سے کہ وہ جواب آپ کے ذوق کے مطابق نہیں تھا)‪ ،‬تو‬
‫کیا وجہ ہے کہ دوسرے علماء سے جا کر پوچھا نہیں جاتا؟۔یہ‬
‫کیسے سمجھ لیا جاتا ہے کہ ‪ :‬اس شبہے کا جواب کسی سے نہ‬
‫ہو سکے گا۔ تحقیق کر کے تو دیکھنا چاہیے۔حاالں کہ جس قدر‬
‫خرچہ جسم کے عالج میں ہوتا ہے‪ ،‬یہاں اس کے مقابلے میں‬
‫کچھ بھی خرﭺ نہیں ہوتا۔ ایک جوابی خط بھیج کر‪ ،‬جس عالم سے‬
‫چاہو‪ ،‬جو چاہو‪ ،‬پوچھنا ممکن ہے۔‬
‫دوسری کوتاہی‪ :‬یہ ہے کہ ‪ :‬اپنی سوﭺ ‪ ،‬فہم اور رائے‬
‫پر پورا اعتماد کر لیا جاتا ہے‪ ،‬کہ ہمارے خیال میں تو کوئی‬
‫غلطی نہیں ہے۔اور یہ خىال بھی كسى سے پوچھنے کے لیے‬
‫کسی سے رابطہ نہ کرنے کی بڑی وجہ ہے۔ سو یہ بھی بڑی‬
‫غلطی ہے۔ اگر اپنے خیاالت کی تحقیق علماء سے کی جانے‬
‫لگے‪ ،‬تواپنی غلطیوں پر اسی وقت اطالع ہونے لگے۔‬
‫یہ ہے کہ ‪ :‬اتباع‪ ،‬یعنی ماننے کی‬ ‫تیسری کوتاہی‪:‬‬
‫عادت کم ہے۔ اور اسی وجہ سے کسی معاملے میں ماہرین کی‬
‫تقلید نہیں کرتے‪ ،‬یعنی ان کا کہا نہیں مانتے۔ ہرہر معاملے میں‬
‫دالئل‪ ،‬اور اَسرار ‪ ،‬اور ِّل ِّمیَّات ڈھونڈے جاتے ہیں‪ ،‬حاالں کہ جو‬
‫خود کامل نہ ہو‪ ،‬اسے تقلید کے سوا ‪ ،‬یعنی ماہر کی بات مانے‬
‫بغیر چارہ نہیں۔‬

‫‪8‬‬
‫اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ‪ :‬شرىعت كے ماہر‬
‫علماء کے پاس دالئل اور علتوں کا علم نہیں ہے۔ سب کچھ ہے‪،‬‬
‫مگر بہت سے معامالت ایسے ہیں جو آپ کی عقل سے اوپر کے‬
‫ہیں۔ جیسے اقلیدس کی کسی شکل کا ایسے شخص کو سمجھانا‬
‫بہت مشكل ہے‪ ،‬جو اس علم كے لىے متعىن كى گئى حدود ‪ ،‬اس‬
‫كے لىے وضع كردہ اصول‪ ،‬اور اس كے متعارف علوم سے‬
‫ناواقف ہو ۔اسی طرح شرائع کے لیے کچھ علم ایسے ہیں جن کا‬
‫سیکھنا آالت کے درجے میں ہے‪ ،‬اور ابتدائی درجے میں ان کا‬
‫سیکھنا اس لیے بہت ضروری ہے کہ تحقیق کے طالب کے لیے‬
‫ان کا حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور جس شخص کے پاس ان‬
‫بنیادی علوم وفنون کے حاصل کرنے کى فراغت اور وقت نہ‬
‫ہو‪ ،‬اس کا حل یہی ہے کہ وہ تقلید کرے‪ ،‬یعنی اس علم كے ماہر‬
‫شخص كى مان کر چلے۔‬
‫چنانچہ آپ حضرات اپنا دستور العمل اس طرح قرار دیں‬
‫کہ ‪ :‬جوشبہ بھی پیش آئے‪ ،‬اس کو علماء سے پوچھیں۔ اور جب‬
‫تک وہ شبہ حل نہ ہو‪ ،‬برابر ان کے سامنے پیش کرتے رہیں‪،‬‬
‫اور اپنی رائے پر اعتماد نہ فرمائیں۔ اور اگر کوئی شبہ ایسا پیش‬
‫آ جائے کہ تحقیقی طور پر سمجھ نہ آئے‪ ،‬تو اس وقت ىہ سمجھىں‬
‫كہ ہمارے اپنے اندر کمی ہے‪ ،‬اور ماہر علماء پر اعتماد کریں‪،‬‬
‫اور ان کا اتباع کریں‪ ،‬یعنی ان کی بات کومان لیں۔ اِّن شا َء هللا‬
‫تعالی‪ ،‬بہت جلد پوری اِّصالح ہو جائےگی۔‬

‫تمہید‬
‫مع تقسیم حکمت‪ ،‬جو بطور مقدمہ کے ہے‬
‫جس کوفلسفہ کہتے ہیں‪ ،‬ایک ایسا عام مفہوم‬ ‫حکمت ‪:‬‬
‫ہے‪ ،‬جس سے کوئی علم خارج نہیں۔ اور اسی میں شریعت بھی‬

‫‪9‬‬
‫داخل ہے۔اور اسی تعلق کی وجہ سے اس جگہ حکمت سے بحث‬
‫کی جارہی ہے۔‬
‫وجہ یہ ہے کہ «حکمت»‪ :‬موجودہ حقائق کے اىسے علم‬
‫کا نام ہے‪ ،‬جو واقع کے مطابق ہو‪ ،‬اس حیثیت سے کہ اس سے‬
‫نفس کو کوئی معتد بہ کمال بھی حاصل ہو۔ اور جتنے بھى علوم‬
‫ہیں‪ ،‬سب میں کسی نہ کسی حقیقت ہی کے احکام ذكر كىے جاتے‬
‫ہیں۔‬
‫غرض‪ ،‬پہلے درجے میں اس حکمت کی تقسم کی جائے‪،‬‬
‫تو دوقسمىں بنتی ہیں‪ ،‬کیوں کہ جن موجودات(موجود چىزوں)‬
‫سے بحث کی جاتی ہے‪ ،‬یا تو وہ ایسے افعال واعمال (یعنی‬
‫حرکات اور کام) ہیں‪ ،‬جن کا وجودہماری قدرت اوراختیار میں‬
‫ہے‪ ،‬یا ایسے موجودات ہیں‪ ،‬جن کا وجود ہمارے اختیار میں نہیں۔‬
‫ت عملیہ ہے‪ ،‬اور‬
‫پہلی قسم کے احوال جاننے کا نام ‪ :‬حکم ِّ‬
‫ت نظریہ ہے۔ اور ان‬
‫دوسری قسم کے احوال جاننے کانام‪ :‬حکم ِّ‬
‫دوقسموں میں سے ہر قسم کی تین تین قسمیں ہیں‪ ،‬کیوں کہ ‪:‬‬
‫ت عملیہ یا تو ایک ایک شخص کے مصالح کا علم‬ ‫حکمی ِّ‬
‫ب اَخالق کہتے ہیں۔‬
‫ہے‪ ،‬اور اسی کو تہذی ِّ‬
‫اور یا ایک ایسی جماعت کے مصالح کا علم ہے‪ ،‬جو ایک‬
‫گھر میں رہتے ہیں۔ اسے تدبیر المنزل کہتے ہیں۔‬
‫اور یا ایسی جماعت کے مصالح کا علم ہے جو ایک شہر‬
‫ت مدنیہ کہتے ہیں۔ یہ‬
‫یا ایک ملک میں رہتے ہیں۔ اس کو سیاس ِّ‬
‫ت عملیہ کی ہوئیں۔‬
‫تین قسمیں حکم ِّ‬
‫ت نظریہ ‪ :‬یا توایسی چیزوں کے حاالت کا علم‬ ‫اور حکم ِّ‬
‫ً‬
‫اصال مادَّہ کی محتاج نہیں‪ ،‬نہ وجود ِّ خارجی میں‪ ،‬نہ‬ ‫ہے‪ ،‬جو‬
‫علم الہی کہتے ہیں۔‬
‫وجو ِّد ذہنی میں۔ اس کو ِّ‬
‫اور یا ایسی چیزوں کے احوال کاعلم ہے جو خارجی‬
‫وجود میں تو مادے کی محتاج ہیں‪ ،‬مگر ذہنی وجود میں نہیں۔ اس‬
‫علم ریاضی کہتے ہیں۔‬
‫کو ِّ‬

‫‪10‬‬
‫اور یا ایسی چیزوں کے احوال کا علم ہے‪ ،‬جو ذہنی وجود‬
‫علم طبعی‬
‫ہویا خارجی‪ ،‬دونوں میں مادے کی محتاج ہیں‪ ،‬اس کو ِّ‬
‫ت نظریہ کی ہیں‪ ،‬پس حکمت کی کل‬
‫کہتے ہیں۔یہ تین قسمیں حکم ِّ‬
‫یہ چھے قسمیں ہوئیں۔‬
‫ب اخالق۔‬
‫تہذی ِّ‬ ‫‪.1‬‬
‫تدبیر منزل۔‬ ‫‪.2‬‬
‫سیاست مدنیہ۔‬ ‫‪.3‬‬
‫علم الہی۔‬ ‫‪.4‬‬
‫علم ریاضی۔‬ ‫‪.5‬‬
‫علم طبعی۔‬ ‫‪.6‬‬
‫اور ان قسموں کی آگے بہت سی ذیلی قسمیں بنتی ہیں‪،‬‬
‫مگر بنیادی اوراصولی قسمیں ان ہی میں منحصر ہیں۔‬
‫اب جاننا چاہیے کہ شریعت کا اصلی مقصد (اس بات كى‬
‫تعلىم‪ ،‬ىعنى) ىہ بات بتانا اور سكھانا ہے كہ‪ :‬خالق (ىعنى هللا تعالى)‬
‫كے حقوق كى ادائى‪ ،‬اور سارى مخلوق كے حقوق كى ادائى ‪،‬‬
‫اس طریقے سے كرنا ضرورى ہے جس سے ان سب حقوق كى‬
‫ادائى ‪،‬هللا كى رضا كا ذرىعہ بن جائے‪ ،‬گو اس كا ىہ فائدہ بھى‬
‫ہو سكتا ہے كہ دنىا كے كام بھی بہتر انداز سے ہونے لگىں۔ َ‬
‫اور كبھى كبھى ایسا لگتا ہے كہ شرىعت كے حكم كو پورا‬
‫كرنے سے دنیا كا فائدہ حاصل نہىں ہو سكتا‪ ،‬ىا دنىاوى نقصان‬
‫ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے‪ ،‬تو جان لىنا چاہىے كہ ‪ :‬اىسى صورت‬
‫مىں شرىعت نے كسى اىك شخص كے فائدے كو سامنے نہىں‬
‫ركھا‪ ،‬بلكہ جمہور ىعنى سارے معاشرے كے لوگوں كے فائدے‬
‫كو سامنے ركھ كر حكم دىا ہے۔ اور بعض مرتبہ اىسا بھى ہوتا‬
‫ہے كہ كسى بات مىں دنىاوى فائدہ تو تھا‪ ،‬لىكن اس مىں روحانى‬
‫نقصان بھى تھا‪ ،‬تو شرىعت نے اس روحانى نقصان كو دور‬
‫كرنے كے لىے دنىاوى فائدے كو چھوڑ دىا‪ ،‬اور حكم جارى كر‬
‫دیا۔ َبہرحال شرىعت كا اصلى مقصود یہی ہے كہ هللا تعالى كى‬
‫رضا حاصل ہو جائے۔‬

‫‪11‬‬
‫اب دىكھو كہ ریاضی كے علم ‪،‬ىا طبعى علم (ىعنى مادے‬
‫كےعلم ) كو‪ ،‬هللا تعالى كے ىا بندوں كے حقوق ادا كرنے مىں‬
‫کوئی دخل نہیں ہے‪ ،‬اسى لىے شریعت نے مقصود بنا كر ‪ ،‬ان‬
‫سے كچھ بحث نہیں کی۔ اور اگر شرعى علوم مىں کہیں طبعى‬
‫علوم ودىگر علوم کا کوئی مسئلہ بىان ہو تا ہے‪ ،‬تو صرف آلے‬
‫كے طور پر بىان ہوتا ہے‪،‬‬
‫ىا پھر اىسا ہوا كرتا ہے كہ كسى جگہ آگے جا كر (الہى‬
‫مسائل اور) شرعى علوم كے مسائل بیان كرنے ہوتے ہىں‪ ،‬لىكن‬
‫ان مسائل كو ذرا آسان كر كے سمجھانے كے لىے دلىل كے طور‬
‫پر‪ ،‬ىا مقدمے كے طور پر طبعى علوم كا ذكر كر دىا جاتا ہے‬
‫۔ تو مقصد وہى شرعى اور الہى مسائل كا بىان كرنا ہوتا ہے‪،‬‬
‫طبعى علوم كو بىان كرنا مقصود نہىں ہوتا۔ اور ہمارى اس بات‬
‫ت ِّّل ُ ْو ِّل ْ‬
‫ي اّل َ ْلبَابﮊَ‬ ‫كى دلىل ىہ ہے كہ ایسے موقعوں پر ﮋآلیَا ٍ‬
‫‪،‬جىسے الفاظ كا ذكر ساتھ ہى فرما دىا جاتا ہے۔ َ‬
‫ت نظرىہ» كى‪ ،‬ىعنى‬ ‫تو اب سمجھو كہ ‪ :‬اىك قسم تو «حكم ِّ‬
‫ت عملیہ‪ ،‬اپنى تمام اَقسام سمىت باقی‬
‫علم الہى‪ ،‬اور دوسرے حکم ِّ‬
‫ت نظرىہ» (علم الہى)‪،‬‬
‫رہ گئیں۔چوں کہ ان سب كو‪ ،‬ىعنى «حكم ِّ‬
‫اور تمام اَقسام سمىت حکم ِّ‬
‫ت عملیہ كو‪،‬مذكورہ مقصد‪ ،‬ىعنى هللا‬
‫تعالى اور هللا كے بندوں كے حقوق كى ادائى مىں دخل ہے‪ ،‬اس‬
‫علوم شرعىہ مىں ان سب قسموں سے كافى بحث كى گئى‬
‫ِّ‬ ‫لىے‬
‫كو‬ ‫علوم شرعىہ مىں‪ ،‬حكمت ِّ عملىہ كے مباحث‬ ‫ِّ‬ ‫ہے۔ چنانچہ‬
‫اتنى تفصىلى اور كمال سے بىان كر دىا گىا ہے كہ وہ لوگ بھى‬
‫جو خود كو فالسفہ كا متَّبع اور پىچھے چلنے واال كہتے ہىں‪،‬‬
‫ش ِّر ْی َع َة‬
‫إن ال َّ‬ ‫صاف لفظوں مىں اس كا اعتراف كر گئے ہىں كہ‪َّ « :‬‬
‫ص ْی ٍل»‪.‬‬ ‫ع َلى أ َ ْك َمل َوجْ ٍه َوأَت َِّم ت َ ْف ِّ‬ ‫ت ْال َو َ‬
‫ط َر َ‬ ‫ض ِّ‬ ‫ص َ‬
‫طفَ ِّویَّة قَ ْد قَ َ‬ ‫ال ُم ْ‬
‫انتھى‪(.‬كشف الظنون لحاجى خلیفة‪ ،‬وأبجد العلوم وغیرھما)‪.‬‬

‫اور جہاں تك علم الہى كے مباحث كا تعلق ہے‪ ،‬تو ان‬


‫بحثوں مىں جتنے دالئل بىان كىے گئے ہىں‪ ،‬ان كا موازنہ كرنے‬
‫سے بھى ىہى بات سامنے آئى كہ حكماء اور فالسفہ كو غور‬

‫‪12‬‬
‫وفكر كرنے كے بعد مجبور ہو كر ىہى اعتراف كرنا پڑا ہے كہ‬
‫شرعى علوم كے دالئل نہاىت پختہ اور كامل ترىن درجے كو‬
‫پہنچے ہوئے ہىں۔ چنانچہ‪:‬‬
‫شرىعت مىں جن چىزوں (اور علوم ) سے بحث كى جاتى‬
‫ہے‪،‬ان مىں سے ایک تو «علم اِّلہی» ہوا‪ ،‬جس کے فروع (ىعنى‬
‫ذىل )میں سے وحى ‪ ،‬نبوت‪ ،‬اور آخرت كے احوال بھی ہیں۔ اس‬
‫کا نام «علم عقائد » ہے۔‬
‫اور دوسرے نمبر پر شرىعت مىں جن چىزوں (اور علوم‬
‫ت عملیہ» ہے۔ اور شرىعت‬
‫) سے بحث كى جاتى ہے ‪ ،‬وہ «حكم ِّ‬
‫مىں اس كى درج ذىل قسمىں وارد ہوئی ہیں‪:‬‬
‫‪ .1‬عبادات‪،‬‬
‫‪ .2‬معامالت ‪،‬‬
‫‪ .3‬معاشرات ‪،‬‬
‫‪ .4‬اور اخالق۔‬
‫اور ىہ قسمىں‪ ،‬ان مشہور قسموں سے جن كا ذكر پہلے‬
‫ت مدنىہ‪ ،‬علیحدہ‬
‫تدبىر منزل‪ ،‬اور سیاس ِّ‬
‫ِّ‬ ‫ہوا‪ ،‬جىسے تہذیب ِّا َخالق‪،‬‬
‫اور مختلف نہىں ہىں۔ اور تھوڑا سا غور كرنے سے صاف پتہ‬
‫چل جاتا ہے كہ ىہ قسمىں‪ ،‬انہى مذكورہ باال قسموں مىں ہى داخل‬
‫ہىں۔غرض كل پانﭻ علوم اىسے ہىں جنہىں شرعى علوم كہتے‬
‫ہىں۔ چار تو وہ قسمىں جن كا ابھى ذكر ہوا‪ ،‬اور عقائد۔ اور ترتیب‬
‫وار انہىں یوں ذكر كىا جا سكتا ہے‪:‬‬
‫‪ .5‬عقائد‬
‫‪ .6‬عبادات‬
‫‪ .7‬معامالت‬
‫‪ .8‬معاشرات‬
‫‪ .9‬اور اخالق‬
‫اس جگہ مجھےان پانچوں قسموں میں سے ہر اىك قسم‬
‫پر بحث كرنا مقصود نہیں ہے‪ ،‬بلکہ ان میں سےصرف اُن باتوں‬
‫پر ہى بحث كروں گا جن پر نوتعلیم یافتہ لوگوں کو كسی وجہ‬

‫‪13‬‬
‫سے شبہ ہو گیا ہے۔ اور چونكہ وہ شبہات اعتقادی ہیں‪ ،‬اس لىے‬
‫ىہاں كى سب بحثوں كا مقصد ىہ ٹھہرا كہ ان امور پر بحث‬
‫كروں جن كا تعلق «عقىدے» والى باتوں سے ہے۔‬
‫ترتىب كا تقاضا تو ىہ تھا کہ پہلے اىك قسم کے تما م‬
‫اىسے مسائل كو اكٹھا كر لىا جاتا جن پر ساتھىوں كو شبہات پىش‬
‫آئے ہىں۔ ان كے جوابات سے فارغ ہو كر دوسرى قسم كے مسائل‬
‫كو شروع کر لیا جاتا۔ لىكن جولوگ مىرے مخا َ‬
‫طب ہىں‪ ،‬ان كى‬
‫توجہ اور نشاط كو باقى ركھنے كے لىے ىہ بات زیادہ مناسب‬
‫معلوم ہو رہى ہے كہ ملى ُجلى باتوں پر كالم كروں۔ چنانچہ‪ ،‬آگے‬
‫اسی طور پر اپنے معروضات پیش کروں گا‪ِّ ،‬إ ْن شَآ َء هللاُ ت َ َعا َلى‪.‬‬
‫اور اپنى ان معروضات کا لقب «اِّ ْنتِّبَاھَات»تجویز کرتا‬
‫ہوں۔ اورىہى تنبىہات اس مجموعے کے مقاصد بھى ہىں۔ اور ان‬
‫مقاصد سے پہلے كچھ اىسے قواعد كى تقرىر كى جاتى ہے‪ ،‬اور‬
‫انہىں ذہن نشىن كراىا جاتا ہے‪ ،‬جو اِّن مقاصد كے ساتھ اصو ِّل‬
‫موضوعہ كى نسبت ركھتے ہىں۔ اور مقاصد كى ابحاث مىں‬
‫مختلف مقامات پر اُن قواعد كا حوالہ بھى دىا جائے گا‪ ،‬تاكہ بات‬
‫كو سمجھنے اور تسلىم كرنے مىں سہولت اور مدد ہو۔ هللا تعالى‬
‫مدد فرمائے۔ آمىن۔ فقط‬
‫(حضرت موالنا ) اشرف على عفى عنہ‬
‫مقام تھانہ بھون‪ ،‬ضلع مظفر نگر َ‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪14‬‬
‫ا ُصو ِّل موضو َعـہ‬
‫‪ .1‬كسی چیز کا سمجھ میں نہ آنا‪ ،‬اس کے باطل ہونے کی‬
‫دلىل نہیں ہے۔‬
‫شـرح‪ :‬باطل ہونے کی حقیقت یہ ہے کہ دلیل سے اس کا‬
‫حق نہ ہونا سمجھ میں آ جائے۔ ىہاں پر دو باتىں ہىں‪:‬‬
‫اىك تو ىہ ہے كہ‪ :‬كسى بات كا ہونا (ىا صحىح ہونا) سمجھ‬
‫میں نہ آئے۔‬
‫اور دوسرا ىہ ہے کہ ‪:‬اُس بات کا صحىح نہ ہونا معلوم‬
‫ہوجائے۔‬
‫اور ان دونوں باتوں مىں بہت بڑا فرق ہے۔ َ‬
‫پہلى بات كا‪( ،‬ىعنى ىہ كہ ا ُس بات کا ہونا سمجھ میں نہ‬
‫آئے)‪ ،‬حاصل یہ ہے کہ‪ :‬چونكہ كسى چىز كا مشاہدہ نہىں ہوا‪،‬‬
‫ىعنى ویسا ہوتے نہىں دىكھا‪،‬اس لىے ذہن اس چیز کے اسباب یا‬
‫کیفیات كو سمجھ ہى نہىں سكا‪،‬اس لیے ان اسباب یا کیفیات كو‬
‫متعیَّن كرنے میں تذبذب كا شكار ہے‪ ،‬اور تردُّد اور حىرت مىں‬
‫ڈوبا ہوا ہے۔ لیکن سوائے اس کے کہ یہ کہہ دے کہ‪ :‬یہ کىسے‬
‫ہو ہوسكتا ہے؟‪ ،‬وہ اس پر قادر نہىں ہے کہ اس بات كے نہ‬
‫ہونے پر كوئى عقلى ىا نقلى صحىح دلىل قائم كر سكے۔‬
‫اور دوسرى بات کا (ىعنى یہ کہ اس کا نہ ہونا معلوم‬
‫ہوجائے)‪ ،‬حاصل یہ ہے کہ‪:‬عقل اُس كى نفى‪( ،‬ىعنى اس كے نہ‬
‫ہونے ) پر كوئى صحیح عقلى ىا نقلى دلیل قائم کر سکے۔‬
‫ً‬
‫مثال‪ :‬کسی دیہاتی نے جسے ریل دیکھنے کا اتفاق نہیں‬
‫‪،‬ہوا یہ سنا کہ رىل بغىر کسی جانور کے گھسىٹ كر لے جانے‬
‫كے‪ ،‬خود بہ خود ہى چلتى ہے‪ ،‬تو وہ بڑے تعجب سے كہے گا‬

‫‪15‬‬
‫کہ‪ :‬یہ کیسے ہو سكتا ہے‪!!..‬؟‪ ،‬لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس پر‬
‫قادر نہیں ہے کہ اس کی نفى (ىعنى اىسا نہ ہو سكنے ) پر دلیل‬
‫قائم کر سكے۔ کیوں کہ اس کے پاس خود اس کاکوئی ثبوت نہیں‬
‫کہ جانور کے گھسىٹ كر لے جانے کے عالوہ‪،‬گاڑی کی تىز‬
‫اور دور تك مسلسل حرکت کا‪ ،‬جانور كے گھسىٹ كر لے جانے‬
‫كے عالوہ کوئی اورسبب نہیں ہوسکتا۔ اس کو سمجھ میں نہ آنا‬
‫كہتے ہیں۔‬
‫اور اگر وہ محض اس بنىاد پر رىل كے چلنے كى نفى‬
‫كا حكم کرنے لگے‪ ،‬اور راوی کو جھوٹا كہنے لگے‪ ،‬تو عقالً‬
‫اس کو بے وقوف سمجھیں گے۔ اور بے وقوف سمجھنے کی‬
‫بنىادصرف ىہی ہوگی کہ تیری سمجھ میں نہ آنے سے نفی(نہ ہو‬
‫سكنا) کیسے الزم آئی۔ یہ كسى بات كےسمجھ میں نہ آنے کی‬
‫مثال ہے۔‬
‫اور اگرکوئی شخص کلكتہ سے ریل میں سوار ہوکر دہلی‬
‫اُترا‪ ،‬اور اىك دوسرے شخص نے اس کے سامنے ىہ بیان کیا کہ‬
‫آج یہ رىل گاڑی کلکتہ سے دہلی تك كا فاصلہ ایک گھنٹے میں‬
‫طے كر كے آئی ہے‪ ،‬حاالنكہ وہ آدمى خود اس ریل مىں سفر كر‬
‫كے كئى گھنٹے مىں ىہ سفر طے كر كے پہنچا ہے‪ ،‬تو وہ مسافر‬
‫اس کی بات نہىں مانے گا‪ ،‬اور اسے جھوٹا كہے گا۔ اس كى وجہ‬
‫ىہ ہے كہ اس کے پاس اس بات كے نفى کی دلیل موجود ہے۔‬
‫اور وہ اىك تو خود اس كا اپنا مشاہدہ ہے‪ ،‬اور دوسرے اس كے‬
‫ساتھ سفر كر كے آنے والے وہ د و ڈھائى سومشاہدہ کرنے والوں‬
‫كى‪( ،‬جو کہ اسی گاڑی سے اُترے ہیں) شہادت اور گواہى ہے۔‬
‫یہ اس بات كى مثال ہےكہ كسى بات کا نہ ہونا‪( ،‬ىا صحىح نہ ہونا)‬
‫سمجھ میں آجائے۔‬
‫اسی طرح اگر کسی شخص نے یہ سنا کہ قیامت کے روز‬
‫پل صراط پر چلنا ہوگا‪ ،‬اور وہ بال سے باریک ہوگا۔ اب چوں کہ‬
‫پہلےكبھی ایسا واقعہ دیکھا نہیں ہے‪ ،‬اس لئے یہ بات ذہن مىں‬
‫آنا كہ کیوں کر ہوگا؟‪ ،‬كىسے ہوگا؟‪ ،‬وغیرہ وغیرہ‪ ،‬تو اس پر‬

‫‪16‬‬
‫تعجب تو ہو سكتا ہے‪ ،‬اور ممكن ہے كہ ذہن مىں ىہ بات آ جائے‬
‫كہ بال سے باریك پل صراط پر كىسے چال جا سكتا ہے‪!!..‬؟‪،‬‬
‫لیکن ظاہر ہے کہ عقل کے پاس اس کی نفى (ىعنى نہ ہو سكنے)‬
‫پر بھی کوئی دلیل نہیں ہے‪،‬کیوں کہ سرسری نظر میں (اس كى‬
‫نفى كى ) اگر كوئى دلیل ہوسکتی ہے تو یہ ہوسكتی ہے کہ قدم‬
‫تواتنا زىادہ چوڑا ہے‪ ،‬اورقدم رکھنے کی جو چیز ہے وہ اتنى‬
‫كم چوڑى ہے جس پر پاؤں کاٹکنا‪ ،‬اور پھر اس پر چلنا ممکن‬
‫نہیں ہے۔ لیکن خود اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مسافت(ىعنى‬
‫جس پر چال جائے)‪ ،‬کی وسعت(ىعنى چوڑائى) كا‪ ،‬قدم سے ز ىادہ‬
‫چوڑا ہونا عقلى لحاظ سے ضروری ہے۔‬
‫یہ اور بات ہے کہ عادت یوں ہی دىکھی گئی‪ ،‬اس کے‬
‫خالف نہ دیکھا ہو‪ ،‬یا دیکھا ہومگراتنا تفاوت(اور واضح فرق )‬
‫نہ دیکھا ہو۔جىسے بعض لوگوں کورسی پر چلتے دىكھا ہے‪،‬‬
‫مگر اس میں كىا محال ہے کہ وہاں عادت ہى بدل دى جائے۔ لہذا‪،‬‬
‫اگر كوئى شخص پل صراط پر چلنے كى تكذىب کرے گا‪ ،‬تو اس‬
‫کی حالت اس شخص کی سی ہوگی جس نے ریل گاڑى کے‪،‬‬
‫بغىر جانوروں كے كھىنچنے كے‪،‬خود بہ خود چلنے کی تکذیب‬
‫کی تھی۔‬
‫البتہ اگر کسی شخص نے یہ سنا کہ‪ :‬هللا تعالی قیامت كے‬
‫دن میں فالں بزرگ کی اوالدکو‪ ،‬اس بزرگ کے قرب اور رشتے‬
‫دارى کی وجہ سے مقرب ومقبول بنا لے گا‪ ،‬اور جنت مىں داخل‬
‫كر دے گا‪ ،‬خواہ اُس بزرگ كا وہ رشتے دار مؤمن ہو ىا مؤمن‬
‫نہ ہو۔ تو چونکہ اس کے خالف پر دلیل قائم ہے ‪،‬اور دلیل وہ‬
‫نصوص اور عبارتىں ہیں جن سے کافركا قىامت مىں نہ بخشا‬
‫جانا ثابت ہوتا ہے‪ ،‬اس لئے اس بات كى نفى کی جائے گی‪ ،‬اور‬
‫اس کو باطل کہا جائے گا۔اور كسى بات كے سمجھ میں نہ آنے‬
‫اور كسى بات كے باطل ہو نے مىں ىہى فرق ہے۔‬
‫‪ .2‬جو بات عقلى لحاظ سے ممكن ہواوركوئى صحیح نقلى‬
‫دلیل اس عقلى ممكن بات کے وقوع کو بتاتى ہو‪ ،‬تو اس بات‬

‫‪17‬‬
‫کے وقوع کا قائل ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر نقلى دلیل‬
‫اس کے عدَم وقوع ‪( ،‬ىعنى واقع نہ ہونے‪ ،‬ىا واقع نہ ہو سكنے‬
‫)کو بتائے‪ ،‬تو اس كے عدَم وقوع‪( ،‬ىعنى واقع نہ ہونے‪ ،‬ىا واقع‬
‫نہ ہو سكنے) کا قائل ہونا ضروری ہے۔ َ‬
‫شـرح‪ :‬واقعات تین قسم کے ہوتے ہیں‪:‬‬
‫‪ .1‬اىك قسم‪ :‬ان واقعات كى ہے جن کے ہونے کو عقل ضروری‬
‫اور الزمى بتائے ‪ ،‬مثال‪ :‬ایک ‪ ،‬دو كا آدھا ہوتا ہے ۔ یہ بات‬
‫ایسى الزم الوقوع (ىعنى الزمى طور پر واقع ہونے والى)ہے‬
‫کہ ایک اور دو کی حقیقت جاننے کے بعد عقل اس کے‬
‫خالف بات کو یقینا غلط كہتى اورسمجھتى ہے۔ اس کو‬
‫« َواجب» کہتے ہیں۔‬
‫‪ .2‬دوسرى قسم ‪ :‬ان واقعات كى ہے جن کے نہ ہونے کو عقل‬
‫ضروری اور الزم بتائے۔ م ً‬
‫ثال‪ :‬ایک ‪ ،‬دو كے مساوى (ىعنى‬
‫برابر) ہے۔ اب ىہ اىسا « َال ِّز ُم النَّ ْفي ِّ»امر ہے‪ ،‬ىعنى ایسى بات‬
‫ہے كہ جس كى نفى اور انكار كرنا الزمى ہے‪ ،‬كہ عقل اس‬
‫بات كو ىقىنًا غلط سمجھتى ہے۔ اس كو « ُم ْمتَنِّ ْع» اور‬
‫« َم َحال» كہتے ہىں۔‬
‫‪ .3‬تىسرى قسم‪ :‬ان واقعات كى ہے جن كے وجود (ىعنى ہونے‬
‫) كے بارے مىں نہ تو عقل ىہ كہے كہ ‪ :‬ىہ ہونا الزمى ہے‪،‬‬
‫(كہ ضرور ہونا چاہىے)‪ ،‬اور نہ ہى عقل ان كى نفى كو‬
‫ضرورى سمجھے‪ ،‬بلکہ دونوں شقوں کو ُمحْ ت َ َمل قراردے‪،‬‬
‫(ىعنى عقل ىہ كہے كہ‪ :‬ہو سكتا ہے كہ اىسا ہو جائے‪ ،‬اور‬
‫ہو سكتا ہے كہ اىسا نہ ہو) ۔ اور اس واقعہ كے ہونے نہ‬
‫ہونے کاحكم کرنے کے لئے كسی اور نقلى دلیل پر نظر‬
‫كرے۔‬
‫ً‬
‫مثال یہ کہنا کہ فالں شہر کا رقبہ فالں شہر سے زىادہ ہے۔‬
‫اب كسى اىك شہر كے رقبے كا كسى دوسرے شہر كے رقبے‬
‫سے زىادہ ہونا اىك اىسى بات ہے كہ ىا تو دونوں شہروں كا رقبہ‬

‫‪18‬‬
‫جانچا اور ماپا جائے‪ ،‬اور معلوم ہونے پر حكم لگادىا جائے كہ‬
‫فالں شہر كا رقبہ فالں سے زىادہ ہے۔ ىا پھر جنہوں نے پہلے‬
‫جانﭻ ركھا ہے ‪ ،‬ان كى تقلىد كر كے ‪( ،‬ىعنى اس اعتماد پر كہ‬
‫فالں شخص نے جو ماپا اور جانچا ہے‪ ،‬وہ صحىح ہے)‪ ،‬اسے‬
‫مان لىا جائے۔ اور اگر ىہ دونوں باتىں نہ ہوں تو عقل نہ اس كى‬
‫صحت كو ضرورى قرار دىتى ہے‪ ،‬اورنہ ہى اس كے باطل ہونے‬
‫كو ضرورى قرار دىتى ہے۔بلكہ اسكے نزدىك احتمال ہے كہ ىہ‬
‫حكم صحىح ہو ىا غلط ہو۔ اسے« ُم ْم ِّك ْن» كہتے ہىں۔‬
‫پس اىسے « ُم ْم ِّك ْن» امر کا واقع ہونا‪ ،‬اگر نقلى دلیل سے‬
‫ثابت ہو‪،‬تو اس کے ثبوت اور وقوع کا اعتقاد «واجب» ہے۔ اور‬
‫اگر نقلى دلىل سے اس کا نہ ہوناثابت ہوجائے تو اس کے عدَم‬
‫وقوع‪( ،‬ىعنى واقع نہ ہونے ) کا اعتقاد ضروری ہے۔ مثال‪ :‬اوپر‬
‫ذكر كى گئى مثال میں‪ ،‬جانﭻ کے بعد کہیں اس کو صحىح کہا‬
‫جائے گا‪ ،‬اور کہیں غلط۔‬
‫اسی طرح آسمانوں کا اس طور سے ہونا‪ ،‬جیسا جمہور‬
‫اہل اسالم کا اعتقاد ہے‪ ،‬عقلى لحاظ سے «ممکن» ہے۔ ىعنى‬
‫صرف عقل کے پاس نہ تو اس کے ہونے کی کوئی دلیل ہے‪ ،‬اور‬
‫نہ ہى اس كے نہ ہونے کی کوئی دلیل ہے۔ عقل دونوں احتمالوں‬
‫کو تجویز کرتی ہے۔ اس لئے عقل کو اس کے وقوع یا عدَم وقوع‬
‫کا حكم لگانے كے لىے كسى نقلى دلیل کی طرف رجوع کرنا‬
‫پڑا۔‬
‫چنانچہ قرآن وحدیث سے اس کے وقوع پر داللت کرنے‬
‫والی نقلى دلىل مل گئى۔ اس لىے اس کے اس طرح واقع ہونے کا‬
‫قائل ہونا الزم اور واجب ہے۔‬
‫اور اگر فیثاغورثى نظام کو اس کے عدم وقوع کی نقلى‬
‫دلیل سمجھا جائے‪ ،‬تو یہ محض ناواقفى ہے‪ ،‬كىوں كہ غایت مافى‬
‫الباب ‪( ،‬ىعنى زىادہ سے زىادہ اگر كچھ ہو سكتا ہے‪ ،‬تو )یہى ہو‬
‫سكتا ہے كہ اس حساب کی درستی‪ ،‬آسمانوں کے وجود یا حرکت‬
‫پر موقوف نہیں ہے۔ سو کسی امر پر موقوف نہ ہونا‪ ،‬اس بات‬

‫‪19‬‬
‫كے عدَم كى‪( ،‬ىعنى نہ ہونے كى) دلیل نہیں۔ ً‬
‫مثال‪ :‬كسى واقعى‬
‫کام کا تحصیل دار پر موقوف نہ ہونا‪ ،‬اس بات کی دلیل كىسے‬
‫ہوسکتی ہے کہ شہر میں تحصیل دار موجود بھی نہیں ہے۔ زىادہ‬
‫سے زىادہ ىہى كہا جا سكتا ہے كہ ایسے کا م جس كا پورا ہوجانا‪،‬‬
‫جس كا پورا ہوناتحصیل دار پر موقوف نہىں تھا‪ ،‬تحصیل دار کی‬
‫شہر مىں موجودگی کی بھى دلیل نہیں ہے۔ لیکن كسى دوسری‬
‫دلیل سے تو تحصىل دار كى شہر مىں موجودگی پر استدالل كىا‬
‫جا سكتا ہے‪ ،‬جىسے ىہ كہ تحصىل دار صاحب اپنے دفتر مىں‬
‫موجودہوں تو دروازے پر اردَلى موجود رہتا ہے‪ ،‬اور اس وقت‬
‫اَردلى دفتر كے دروازے پر موجود ہے۔ لہذا ىہ اس بات كى دلىل‬
‫ہے تحصىل دار صاحب شہر مىں موجود ہىں۔ َ‬
‫‪ .3‬كسى بات كا عقلى لحاظ سے محال ہونا‪( ،‬ىعنى نہ ہو سكنا)‬
‫اور چىز ہے‪ ،‬اور ُم ْست َ ْب َعد (ىعنى عادت سے بعىد ہونا)اور چىز‬
‫خالف عادت‬
‫ِّ‬ ‫ہے۔ محال ‪ :‬عقل كے خالف ہوتا ہے۔ اور ُم ْست َ ْب َعد‬
‫ہوتا ہے۔عقل اور عادت كے احكامات ُجدا ُجدا‪ ،‬ىعنى علىحدہ‬
‫علىحدہ ہىں۔ دونوں كو اىك سمجھنا غلطى ہے۔ محال كبھى واقع‬
‫نہیں ہوسکتا‪،‬جب كہ ُم ْست َ ْب َعد واقع ہوسکتا ہے۔ محال کو خالف ِّعقل‬
‫غیْر ُمد َْرك ِّب ْال ِّف ْعل‪( ،‬ىعنى اس كو عام‬
‫كہیں گے‪ ،‬اور ُم ْست َ ْب َعد کو َ‬
‫طور پر انسان اپنے عادى قُوى كے ذرىعے انجام نہىں دے سكتا)۔‬
‫ان دونوں کوایک سمجھنا غلطى ہے۔‬
‫شـرح‪ :‬محال وہ سے جس کے نہ ہونے کو عقل‬
‫ضروری بتائے اسے « ُم ْمتَنِّ ْع» بھی کہتے ہىں‪ ،‬جس کامثال سمىت‬
‫ذكر‪ ،‬اص ِّل موضوع نمبر (‪)2‬مىں گزر چکا ہے۔‬
‫اور ُم ْست َ ْب َعد‪ :‬وہ ہے جس کے واقع ہونے كو عقل جائز‬
‫(اور درست ) بتائے‪( ،‬كہ اىسا ہو سكتا ہے)۔لىكن چونکہ اس کا‬
‫وقوع ‪( ،‬ىعنى اىسا ہوتے ہوئے)كبھی دیکھا نہیں‪،‬ىا دیکھنے والوں‬
‫سے بکثرت سنا نہیں‪ ،‬اس لئے اس کے واقع ہونے کو اچانك‬
‫سن کر‪ ،‬شروع مىں حىرت اور تعجب مىں ڈوب جائے‪ ،‬جس کا‬
‫مثال كے ساتھ ذکر‪ ،‬ا ص ِّل موضوع نمبر (‪)1‬میں‪« ،‬کسی چیز‬

‫‪20‬‬
‫کے سمجھ میں نہ آنے» کے عنوان سے کیا گیا ہے۔ ان کے احکام‬
‫جدا ُجدا یہ ہیں کہ‪:‬‬
‫‪ ‬محال کی تکذیب اور انكار ‪ :‬صرف محال ہونے كى بنا پر‬
‫ہى «واجب» ہے۔‬
‫‪ ‬اور مستبعد کی تکذیب اور انکار ‪ :‬صرف اس كے مستبعد‬
‫ہونے كى بنا پر جائز بھى نہىں۔‬
‫البتہ اگر «اِّستبعاد» کے عالوہ‪ ،‬تکذیب اور جھٹالنے كے‬
‫كچھ دوسرے دالئل بھى ہوں‪ ،‬تو تکذیب جائز ہى نہىں‪ ،‬بلکہ واجب‬
‫ہو گى‪ ،‬جیسا كہ اوپر نمبر (‪ ،)1‬اور نمبر (‪ )2‬مىں مثالوں سے‬
‫معلوم ہو چكا ہے‪ ،‬کہ اگر کوئی شخص کہے کہ‪ :‬ایک‪ ،‬دو كے‬
‫برابر ہوتا ہے ‪ ،‬تو اس کی تکذیب ضروری ہے۔ اور اگر کوئی‬
‫کہے کہ‪ :‬رىل بغىر كسى جانور کے لگائے چلتی ہے ‪،‬تو تکذیب‬
‫جائز نہیں۔ اس كے باوجود كہ اىسے شخص کے نزدیک كہ جس‬
‫نے اب تک وہی عادت دیکھی ہو کہ جانور کو گاڑی میں لگا کر‬
‫چالتے ہیں‪ ،‬اس طرح رىل كا چلنا مستبعد اورعجیب ہے۔‬
‫بلکہ جتنے واقعات کو بھى غیر عجیب سمجھا جاتا ہے‪،‬‬
‫وہ سبھى واقع میں عجیب ہیں‪ ،‬مگر چونكہ ان باتوں كو ہوتے‬
‫ہوئے بار بار دىكھتے رہتے ہىں‪ ،‬اور ان كو ہوتے دىكھنے كى‬
‫عادت ہو جاتى ہے‪ ،‬اور طبىعت اس عجىب بات سے مانوس ہو‬
‫جاتى ہے‪ ،‬تو اس كےعجیب ہونے کی طرف دھىان ہى نہیں جاتا‪،‬‬
‫غیْر ُم ْست َ ْب َعد اس میں برابر‬
‫لیکن واقع میں یہ سب ُم ْست َ ْب َعد اور َ‬
‫مثال‪ :‬ریل کا اس طرح چلنا‪ ،‬اور نطفے کا رحم میں جا کر‬ ‫ہیں۔ ً‬
‫زندہ انسان ہوجانا‪ ،‬فى نفسہ اِّن دونوں كے عجىب ہونے میں کیا‬
‫فرق ہے‪!!..‬؟ ۔ بلکہ دوسرى بات واقعہ میں زیادہ عجیب ہے‪،‬‬
‫مگر جس دیہاتی نے كبھى بھى رىل کو اس طرح چلتے‬
‫نہ دىكھا ہو‪ ،‬اور بچوں كى پىدائش کو‪ ،‬وہ ہوش سنبھالنے كے‬
‫وقت سے ہی بكثرت سنتا آیا ہو‪،‬تو ضرور وہ جانور كے‬
‫كھىنچنے كے بغىر رىل كے چلنے كو اس وجہ سے عجىب‬
‫سمجھے گا كہ اسے اب تك اس عجىب بات كو دىكھنے سننے كا‬

‫‪21‬‬
‫موقع ہى نہىں مال تھا۔ اور دوسرى بات ىعنى بچوں كى تخلىق‬
‫وپىدائش كو ‪ ،‬جو كہ رىل كے چلنے سے كہىں زىادہ عجىب ہے‪،‬‬
‫عجىب نہىں سمجھے گا‪ ،‬اس لىے كہ اسے اس عجىب كى عادت‬
‫تھى اور طبىعت اس عجىب بات سے مانوس تھى۔‬
‫اسی طرح جس شخص نے گراموفون سے ہمیشہ باتىں‬
‫اور آوازىں نكلتے دیکھا‪ ،‬مگر ہاتھ پاؤں کو باتیں کرتے نہیں‬
‫دیکھا‪ ،‬وہ گراموفون کے اس فعل کوعجىب نہىں سمجھتا‪ ،‬اور ہاتھ‬
‫پاؤں کے اس فعل کو عجیب سمجھتا ہے۔ اورعجیب سمجھنے کا‬
‫تو مضائقہ نہىں‪ ،‬لیکن یہ سخت غلطی ہے کہ صرف عجیب‬
‫نصوص کی تکذیب‬ ‫کومحال سمجھے‪ ،‬اور محال سمجھ کر‬
‫کرے‪ ،‬یا بالضرورت اس کی تاوىلیں کرے۔‬
‫غرض ‪،‬صرف استبعاد کی بنىاد پر ‪،‬اس میں محال باتوں‬
‫كے احکام جاری کرنا ‪ ،‬بہت بڑى اور عظىم غلطى ہے۔ البتہ‬
‫اگر استبعاد کے عالوہ‪ ،‬کوئی اور صحىح دلیل بھی اس کے عدَم‬
‫وقوع‪( ،‬ىعنى واقع نہ ہو سكنے) پر قائم ہو‪،‬تو اس وقت اس کی‬
‫نفى كرنا واجب ہو گا‪ ،‬جیسا كہ نمبر(‪)1‬میں کلکتہ سے د ہلی‬
‫تک ایک گھنٹے میں ریل کے پہنچنے کی مثال ذکر کی گئی ہے۔‬
‫اور اگر كوئى صحىح دلیل ‪،‬اس بات كے وقوع(ىعنى ہو‬
‫سكنے) پر قائم ہو‪ ،‬اور عدم وقوع (ىعنى نہ ہو سكنے ) پر اس‬
‫درجے كى دلىل نہ ہو‪ ،‬تواس وقت وقوع كا حكم واجب ہو گا۔ ً‬
‫مثال‪:‬‬
‫آج كل تار كے بغىر پىغام پہنچانے والے آالت بننا شروع ہو گئے‬
‫ہىں۔لىكن جب تك اس قسم كے آالت نہ بنے تھے‪ ،‬ىا بن تو چكے‬
‫تھے مگر لوگوں مىں مشہور نہ ہوئے تھے‪ ،‬اور لوگوں نے اس‬
‫قسم كے آالت كے بارے مىں كچھ نہىں سنا تھا‪ ،‬اگر اس وقت‬
‫كوئی شخص اس بات کی خبر دیتا کہ میں نے خود اس قسم كے‬
‫آلے کودیکھا ہے‪ ،‬تو وہ خبر دىنے واال ىا تو اىسا شخص ہو تا‬
‫كہ جس كے بارے مىں پہلے سے ىقىنى طور پر معلوم ہو تا كہ‬
‫ىہ سﭻ ہى بولتا ہے‪ ،‬اور ىا پھر اىسا شخص ہو تا كہ جس كے‬

‫‪22‬‬
‫بارے مىں پہلے سے ىقىنى طور پر معلوم نہ ہوتا كہ ىہ سﭻ ہى‬
‫بولتا ہے۔‬
‫تو اگر پہلے سے اس خبردینے والے کا ىقىنى طور پر‬
‫سچا ہونا ثابت نہ ہوتا‪ ،‬تو حقىقت كى دنىا مىں تو پھر بھى اس كى‬
‫تکذیب اور اسے جھٹالنے کی كوئى گنجائش نہىں تھی‪ ،‬مگر‬
‫ظاہرى طور پر كچھ گنجائش ہوسکتی تھی كہ اسے جھوٹا سمجھ‬
‫لىا جائے‪ ،‬لیکن اگر اس کاسچا ہونا یقینى طور پر ثابت ہوتا ‪،‬تو‬
‫پھر تو اسے جھٹالنے كى كوئى گنجائش بالكل ہى نہیں ہو کتی۔‬
‫یہ محال اور مستبعد كے وہ احكام ہیں جن مىں وہ اىك دوسرے‬
‫سے جدا جدا ہىں۔‬
‫اس بنا پر چونكہ پل صراط کا اس كىفىت كے ساتھ ہونا‬
‫كہ وہ تلوار سے تىز‪،‬اور بال سے بارىك اىك پل ہے‪ ،‬جس كے‬
‫اوپر سے سارى مخلوق كو قىامت كے دن گزرنا ہو گا‪ ،‬محال‬
‫نہیں‪ ،‬صرف مستبعد ہے ‪ ،‬اور اىك مخبِّر صادق‪( ،‬سچے بتانے‬
‫والے) نےاس کے وقوع کی خبر دی ہے‪ ،‬اس لئے اس پل كو‬
‫عبور كرنے كى خبر کی نفی كرنا‪ ،‬اور اسے جھٹالنا سخت غلطى‬
‫ہے۔ اسی طرح اس کی دور از كار تاویل کرنا بھى اىك فضول‬
‫حركت ہے۔‬
‫‪ .4‬موجود ہونے کے لئے محسوس ومشاہد ہونا الزمى نہیں‬
‫ہے۔‬
‫واقعات پر وقوع (ىعنى واقع ہونے )کا حكم تین‬ ‫شـرح‪:‬‬
‫طرح کیا جاتا ہے‪:‬‬
‫ایک‪ :‬مشاہدہ‪ ،‬جىسے‪ :‬ہم نے زىد كو آتا ہوا دىكھا۔‬
‫دوسرے‪ :‬مخبِّر صادق كى خبر‪ ،‬جىسے‪ :‬کسی معتبر آدمی‬
‫نے خبردی کہ زید آیا ہے۔ اس میں ىہ شرط ہوگی کہ اس سے‬
‫زىادہ كوئى اور صحىح دلىل اس كى مكذِّب (ىعنى اسے جھٹالنے‬
‫والى) نہ ہو۔ ً‬
‫مثال ‪ :‬كسى نے یہ خبر دی کہ زید رات كو آیا تھا‪،‬‬
‫اور آتے ہی تم کوتلوار سے زخمی کیا تھا‪ ،‬حاالں کہ مخاطب‬

‫‪23‬‬
‫کومعلوم ہے کہ مجھے كسى نے زخمی نہیں کیا‪ ،‬اور نہ اب وہ‬
‫زخمی ہے۔پس یہاں مشاہدہ اس کا مكذِّب ہے‪ ،‬اس لئے اس خبر‬
‫کو غیر واقع کہیں گے۔‬
‫(مىں‪ -‬احسن‪ -‬عرض كروں كہ‪« :‬مخبِّر صادق»‪ ،‬مىں‬
‫«صادِّق»كى قىد خود مذكورہ باال شرط كا فائدہ دے رہى ہے۔ اس‬
‫لىے كہ مذكورہ باال مثال مىں تلوار سے زخمى كرنے كى خبر‬
‫دىنے واال خبر دىنے مىں «صادِّق» نہىں رہا۔ لہذا‪« ،‬مخ ِّبر صادِّق‬
‫كى خبر»‪ ،‬خود اىسا عنوان ہے جس مىں سارے مقصود كوسمىٹ‬
‫لىا گىا ہے۔ہاں‪ ،‬حضرت مؤلف كى مثال وضاحت كا فائدہ دے رہى‬
‫ہے) ۔وهللا الموفق۔ َ‬
‫تیسرے ‪:‬عقلى استدالل‪،‬جىسے دھوپ کو دىكھا‪ ،‬لىكن نہ‬
‫آفتاب كو طلوع ہوتے دىكھا‪ ،‬اور نہ كسى نے آفتاب كے طلوع‬
‫ہونے كى خبر دى‪ ،‬مگر عقل سے پہچان لىا كہ آفتاب طلوع ہو‬
‫گىا ہے‪ ،‬اس لىے كہ عقل كو ىہ علم حاصل ہے كہ دھوپ تبھى‬
‫نكلتى ہے جب آفتاب طلوع ہو چكا ہو۔‬
‫ان تینوں واقعات میں وجود کا حكم تو مشترک ہے‪ ،‬لیکن‬
‫محسوس صرف ایک واقعہ ہے‪ ،‬اور باقی دو غیرمحسوس ہیں۔‬
‫تو ثابت ہوا کہ یہ ضرورى نہىں ہے کہ جس امر کو واقع کہا‬
‫جائے‪ ،‬وہ محسوس بھی ہو‪،‬اور جومحسوس نہ ہو ‪،‬اس کو غیر‬
‫واقع کہا جائے۔‬
‫مثال‪ :‬نصوص نے خبردی ہے کہ ہم سے جہت فوق میں‬
‫‪( ،‬ىعنى اوپر كى جانب مىں)‪ ،‬سات بہت بڑے بڑے جسم ہیں جن‬
‫کوآسمان کہتے ہیں۔ اب اگر اس نظرآنے والے نیلے رنگ كے‬
‫خیمے کى وجہ سے ‪ ،‬ہمىں وہ نظر نہ آتے ہوں تو یہ الزم نہیں‬
‫کہ صرف اس وجہ سے ان سات آسمانوں كےوقوع (ىعنى موجود‬
‫ہونے )كى نفى كر دى جائے‪ ،‬بلكہ عىن ممكن ہے کہ وہ موجود‬
‫ہوں اور چوں کہ مخبِّرصا ِّدق نے اس کی خبردی ہے‪ ،‬اس لئے‬
‫اس کے وجود کا قائل ہونا ضروری ہوگا‪ ،‬جیسا كہ‬
‫اصول ِّموضوع نمبر(‪)2‬میں مذکورہے۔‬

‫‪24‬‬
‫نصوص منقولہ‬
‫ِّ‬ ‫‪ .5‬منقوالت ِّ محضہ (ىعنى جو باتىں صرف‬
‫سے پتہ چلىں) پر‪ ،‬عقلى دلیل قائم کرنا ممکن نہیں‪ ،‬اس لیے ایسی‬
‫دلیل کامطالبہ كرنا بھى جائز نہیں۔‬

‫شـرح‪ :‬اصل موضوع نمبر (‪)4‬مىں بیان ہوا ہے کہ واقعات کی‬


‫اىك قسم وہ ہے جن کا واقع ہونا مخبِّر صا ِّدق کی خبر سے معلوم‬
‫ت محضہ سے ایسے ہى واقعات مراد ہیں۔‬
‫ہوتا ہے۔منقوال ِّ‬
‫اورظاہر ہے کہ اىسے واقعات پر صرف عقلى دلیل سے وىسا‬
‫استدالل ہو ہى نہىں سكتا‪ ،‬جیسا كہ نمبر (‪ )4‬کی تىسرى قسم میں‬
‫ثال‪ :‬کسى نے کہا کہ دارا اور سکندر‪،‬دو بادشاہ‬‫ممکن ہے۔ م ً‬
‫تھے‪ ،‬اور ان میں جنگ ہوئی تھی۔ اب کوئی شخص ىہ کہنے‬
‫لگے کہ اس پرکوئی عقلى دلیل قائم کرو‪ ،‬تو ظاہر ہے کہ کوئی‬
‫کتنا ہی بڑا فلسفی كىوں نہ ہو‪،‬لیکن اس دعوے پر اس کے‬
‫عالوہ اور کیا دلیل قائم کرسکتا ہے کہ ایسے دو بادشاہوں کا‬
‫موجودہونا‪ ،‬اور آپس مىں لڑ پڑنا کوئی محال بات تو ہے نہىں‪،‬‬
‫بلكہ عىن ممكن ہے۔ اور اس ممكن بات كے واقع ہونے كى خبر‬
‫معتبر مؤرخىن نے دى ہے۔ اور جس ممکن بات کے وقوع کی‬
‫خبر كوئى مخبِّر صا ِّدق دیتا ہے‪ ،‬اس کے واقع ہونے کا قائل‬
‫ہونا واجب ہے‪ ،‬جیسا نمبر (‪)2‬میں مذکور ہوا۔ اس لىے اس‬
‫واقعہ کا قائل ہونا ضرور ى ہے۔‬
‫اسی طرح قیامت کا آنا‪ ،‬اور سب مردوں کا زندہ ہوجانا‪،‬‬
‫اور نئی زندگی کا دور شروع ہونا‪ ،‬ایک اىسے واقعہ كى خبر‬
‫ہے ‪ ،‬جسے محض مذكورہ باال تفسىر كے ساتھ نقل كر دىا گىا‬
‫ہے‪( ،‬ىعنى ىہ سب باتىں اىسے واقعات ہىں جنہىں محض سچى‬
‫خبر دىنے والے لوگوں‪ ،‬ىعنى انبىاء كے خبر دىنے سے جان لىا‬
‫گىا ہے‪ ،‬اور پھر اُن واقعات كو‪ ،‬خبر نقل كرنے والے سچے‬
‫راوىوں كے واسطے سے آگےنقل كىا جا رہا ہے) ۔‬
‫تو جو آدمى ان واقعات كا دعوى كرے‪ ،‬كوئى شخص اس‬
‫سے عقلى دلىل كا مطالبہ نہىں كر سكتا‪ ،‬اتنا کہہ دینا کافی ہوگا‬

‫‪25‬‬
‫کہ ان واقعات کا عقلى لحاظ سے محال ہونا کسی دلیل سے ثابت‬
‫نہیں‪ ،‬گو سمجھ میں نہ آئے‪ ،‬کیوں کہ ان دونوں کا ایک ہوناصحىح‬
‫نہیں‪ ،‬جیسا نمبر (‪ )1‬میں بیان ہوا ہے‪ ،‬پس ان واقعات كا واقع‬
‫ہو نا ممکن ٹھہرا۔‬
‫اور اس ممکن بات کے وقوع کی خبر اىك اىسے شخص‬
‫نے دی ہے جس کا سچا ہونا دالئل سے ثابت ہے‪ ،‬اس لئے نمبر‬
‫(‪ )2‬كے مطابق اس کے واقع ہونے کا قائل ہونا واجب ہوگا۔ اور‬
‫اگر ایسے واقعات کی کوئی اىسى دلیل بىان كى جائے جو محض‬
‫عقلی ہو‪ ،‬تو اس دلىل كى حىثىت صرف اتنى سى ہو گى كہ ىہ‬
‫بیان کر دىا جائے كہ اىسا ہو جانا كوئى بعىد نہىں ہے۔ اور استدالل‬
‫كرنے والے كے ذمے تو اتنى دلىل دىنا بھى نہىں ‪ ،‬اور اس كى‬
‫تبرع ہے۔‬
‫طرف سے محض ُّ‬
‫‪ .6‬نظیر اور دلیل ‪،‬جس کو آج کل ثبوت کہتے ہیں‪ ،‬ایک‬
‫چىزنہیں‪ ،‬بلكہ دو علىحدہ علىحدہ چىزىں ہىں‪ ،‬اور مدعى سے دلیل‬
‫کا مطالبہ تو جائز ہے ‪،‬مگر نظیر کا مطالبہ جائز نہیں۔‬
‫شـرح‪ً :‬‬
‫مثال‪ :‬کوئی شخص ىہ دعوی کرنے کہ شاہ جارج‬
‫پنجم نے تخت نشىنى کا دربار دہلی میں منعقد کیاہے۔ اور کوئی‬
‫دوسرا شخص كہے کہ‪ :‬ہم تو تب مانیں گے جب اس بات کی‬
‫كوئى نظیر بھی ثابت کرو کہ اس سے پہلے انگلستان كے کسی‬
‫اور بادشاہ نے بھى اىساکیا ہو‪( ،‬ىعنى ىہ كہ تخت نشىنى کا دربار‬
‫دہلی میں منعقد کیاہو)۔ اور اگر تم اس بات كى نظیر نہ السکو‪،‬تو‬
‫ہم اس واقعے کوغلط سمجھیں گے۔‬
‫تو خود سوﭺ كر فىصلہ كىجىے ‪:‬کیا اس (خبر دىنے والے‬
‫)مدعى کے ذ مے كسى نظیر کا پیش کرنا ضرورى ہوگا‪ ،‬یا یہ‬
‫کہہ دىنا کافی ہوگا کہ‪ :‬ىہ بات تو صحىح ہے كہ اس واقعے کی‬
‫نظیر ہمىں معلوم نہیں ہے‪ ،‬لیکن ہمارے پاس اس واقعے کی اىك‬
‫صحىح دلىل موجود ہے۔ اور وہ ىہ كہ اس تخت نشىنى كے دربار‬
‫كا مشاہدہ كرنے والے آئے ہىں۔اور اگر اس جگہ جہاں ىہ گفتگو‬
‫ہو رہى ہو‪ ،‬اس دربار كا مشاہدہ كرنے واال كوئى شخص موجود‬

‫‪26‬‬
‫نہ ہو‪ ،‬تو یوں کہنا کافی ہوگا کہ‪ :‬ىہ خبر سب اخباروں میں چھپ‬
‫گئى ہے۔ کیا اس دلیل کے بعد پھر اس واقعہ کے ماننے کے لئے‬
‫كسى نظیر کا بھی انتظار ہوگا‪!!..‬؟۔‬
‫اسی طرح اگر کوئی شخص ىہ خبر دے اور دعوى كرے‬
‫كہ‪ :‬قیامت کے دن ‪ ،‬ہاتھ پاؤں باتىں کریں گے ‪،‬تو كسى سننے‬
‫والے كو اس سے‪،‬كسى قسم كى نظیر مانگنے كا حق نہیں ہوگا‪،‬‬
‫اور نہ ہى كسى كو ىہ حق حاصل ہے كہ اس شخص كو نظیر‬
‫پیش نہ کرسكنے پر جھٹالنے لگے۔ البتہ اس خبر دىنے والے كى‬
‫ىہ ذمے دارى ہے كہ اپنے دعوے پر دلیل قائم کرے۔ اور چوں‬
‫کہ وہ منقول محض ہے‪( ،‬ىعنى اىسى بات ہے جس كا علم صرف‬
‫اور صرف نق ِّل صحىح سے حاصل ہوا ہے)‪ ،‬اس لىےحسب ِّ‬
‫قاعدہ نمبر (‪، )5‬اس قدر استدالل کافی ہے کہ اس بات کا محال‬
‫ہونا ثابت نہیں۔ اور مخبِّر صا ِّدق نے اس کے واقع ہونے کی‬
‫خبردی ہے۔ لہذا‪ ،‬اِّس بات کے واقع ہونے کا اعتقاد ركھنا واجب‬
‫(اور ضرورى )ہے۔‬
‫البتہ اگر مستدِّل (ىعنى استدالل كرنے واال)‪ ،‬کوئی نظیر‬
‫تبرع اور احسان ہے۔ مثال‪ :‬اس کی‬
‫بھی پیش کردے‪ ،‬تو یہ اس كا ُّ‬
‫نظیر میں گراموفون کو پیش کردے کہ باوجود جما ِّد محض ہونے‬
‫كے‪ ،‬اس سے کس طرح الفاظ ادا ہوتے ہیں۔‬
‫آج کل یہ بڑا ظلم ہے کہ‪ :‬نوتعلیم یافتہ حضرات‪ ،‬منقول‬
‫باتوں کی نظیر مانگتے ہیں۔ سو اچھى طرح سمجھ لیں کہ ىہ إِّ ْلزَ ا ُم‬
‫َما َال َی ْلزَ م ہے‪( ،‬ىعنى اىسى چىز كو الزم كر دىنا ہے‪ ،‬جو الزم‬
‫نہىں ہو سكتى)۔‬
‫‪ .7‬عقلى لحاظ سے دىكھا جائے تو عقلى اور نقلى دلىل مىں‬
‫تعارض (ىعنى ٹكراؤ) كى چار صوتىں بن سكتى ہىں‪:‬‬
‫ایك یہ کہ‪ :‬دونوں قطعى ہوں۔ اس کا کہیں وجود نہیں‬
‫ہوسکتا۔ اس لىے كہ دو سچى باتوں مىں تعارض (ٹكراؤ) محال‬
‫ہے‪( ،‬ىعنى نہىں ہو سكتا)۔‬

‫‪27‬‬
‫دوسرے یہ کہ‪ :‬دونوں ظنی ہوں۔اگر كبھى اىسى صورت‬
‫پىش آ جائے‪ ،‬تو اگرچہ تعارض كوختم كرنے كے لىے ىہ گنجائش‬
‫ہو گى كہ دونوں دلىلوں مىں سے كسى اىك دلىل كے ظاہرى‬
‫معنى مراد نہ لىے جائىں‪ ،‬اور كوئى دوسرا مطلب مراد لے كر‬
‫ٹكراؤ كوختم كر دىا جائے‪ ،‬لىكن «لسانىات» كے اس قاعدے كى‬
‫على َّ‬
‫الظا ِّھر ہے»‪( ،‬ىعنى الفاظ‬ ‫بنا پر كہ‪« :‬الفاظ مىں اصل ‪َ :‬ح ْمل َ‬
‫مىں اصل ىہى ہے كہ اُن سے اُن كے ظاہرى معنى مراد لىے‬
‫جائىں)‪ :‬نقل کو ظاہر پر ركھیں گے‪ ،‬اور عقلى دلیل كى داللت‬
‫کو ح َّجت نہىں سمجھىں گے۔‬
‫تیسرے یہ کہ‪ :‬نقلى دلیل قطعى ہو‪،‬اور عقلی دلىل ظنى‬
‫ہو۔ یہاں یقینًا نقلى دلىل كومقدم رکھیں گے۔‬
‫چوتھے یہ کہ‪ :‬عقلى دلیل قطعى ہو‪،‬اور نقلی دلىل ظنى‬
‫ہو۔ خواہ اس كا ظنى ہونا ثبوت كے اعتبار سے ہو‪ ،‬خواہ داللت‬
‫كے اعتبار سے‪ :‬ىہاں عقلى دلىل كو مقدم ركھىں گے‪ ،‬اور نقلى‬
‫دلىل كے معنی اور مطلب میں تاویل کریں گے۔ بس‪ ،‬صرف یہ‬
‫ایک موقعہ اىسا ہے جس مىں رواىت كى بجائے دراىت كو مقدم‬
‫كىا جائے گا‪ ،‬نہ ىہ كہ ہراىك جگہ اس كا دعوى ‪ ،‬ىا اس كا استعمال‬
‫شروع كر دىا جائے۔‬
‫شـرح‪ :‬عقلی دلىل کا مفہوم اور مطلب تو ظاہر ہے‪،‬‬
‫ىعنى اىسى دلىل جس كى بنىاد عقل ہو۔ اورنقلى دلیل‪ :‬مخبِّرصا ِّدق‬
‫کی خبر‪(،‬ىعنى سچے خبر دىنے والے كى بتائى ہوئى خبر )کو‬
‫کہتے ہیں‪ ،‬جس کا بیان قاعدہ نمبر (‪ )4‬میں ہوا ہے۔‬
‫اورتعارض ‪ :‬اسے کہتے ہیں كہ‪ :‬دوحکم آپس مىں ایک‬
‫دوسرے کے ساتھ اس طرح خالف ہو جائىں كہ ایک کو صحىح‬
‫ماننے سے دوسرے کا غلط ماننا ضروری ہو‪ ،‬جیسے‪ :‬ایك‬
‫شخص نے بیان کیا کہ‪ :‬زىد آج دس بجے دن کو‪،‬دہلی کی ٹرین‬
‫میں سوار ہوگیا۔ دوسرے نے بیان کیا کہ‪ :‬زىد آج گیارہ بجے‬
‫میرے پاس میرے مکان میں آکر بیٹھا رہا۔ اس کو«تعارض»كہیں‬
‫گے۔ چوں کہ تعارض كى صورت مىں اىك بات کو صحىح تسلىم‬

‫‪28‬‬
‫كر لىنے سے ‪ ،‬دوسرى بات کا غلط ہونا الزمى ہوتا ہے‪ ،‬اس‬
‫لىے دو صحیح دلیلوں میں كبھی بھى تعارض نہىں ہوگا۔‬
‫اور جب دو دلیلوں میں تعارض ہوگا‪ ،‬تو اگر تو وہ دونوں‬
‫دلىلىں قابل تسلیم ہیں ‪،‬تب ىہ صورت اختىار كرىں گے كہ ‪ :‬ایک‬
‫اس کے ظاہر پر رکھ کر مان لىں گے‪ ،‬جب كہ‬ ‫دلىل كو تو‬
‫دوسرى دلىل میں كچھ تاویل کرلیں گے‪ ،‬ىعنى اس دلىل کو اس‬
‫کے ظاہری مدلول (اور مطلب) سے ہٹادیں گے‪،‬اور اس طرح‬
‫سے دونوں دلىلوں كو مان لىں گے۔‬
‫اور اگر ایک دلىل قابل تسلیم اور ایک غیر قابل تسلیم ہے‪:‬‬
‫تو ایک دلىل کو تسلیم كر كے‪ ،‬دوسرى دلىل کو رد کردیں گے‪،‬‬
‫ىعنى چھوڑ دىں گے۔ م ً‬
‫ثال‪ :‬مذکورہ باال مثال میں اگر ایك راوی‬
‫معتبر اور دوسرا راوى غیر معتبر ہے ‪:‬تو معتبر کے قول کوتسلیم‬
‫كر لىں گے‪ ،‬اور غیرمعتبر کے قول کو رد كر دىں گے۔ اور اگر‬
‫دونوں راوى معتبر ہیں‪ :‬تو دوسرے قرائن سے جانﭻ كر‪ ،‬اندازہ‬
‫لگائىں گے‪ ،‬اور ان مىں سے اىك کے قول کومان لىں گے‪ ،‬اور‬
‫دوسرے کے قول میں كوئى تاویل کرلیں گے‪ ،‬مث ًال‪ :‬دىگر شہادتوں‬
‫سے بھی ثابت ہوا کہ زید دہلی نہیں گیا‪ ،‬تو یوں کہیں گے کہ‪ :‬اس‬
‫کو شبہ ہوا ہوگا‪ ،‬یا سوار ہوکر پھر واپس آگیا ہوگا اور اس کو‬
‫واپسی کی اطالع نہیں ہوئی۔ َونَحْ ُو ذَ ِّل َك‪.‬‬
‫جب یہ قاعدہ معلوم ہوگیا‪ ،‬تو اب سمجھنا چاہىے کہ‪ :‬كبھی‬
‫ایسا ہوتا ہے کہ نقلى اور عقلی دلىل میں‪ ،‬ظاہرى طور پر تعارض‬
‫ہوتا ہے۔تو اىسی صورت مىں اسى قاعدے کے موافق یہ دىكھىں‬
‫گے کہ‪:‬‬
‫‪ .1‬دونوں دلىلىں قطعى اور ىقىنى ہىں‪،‬‬
‫‪ .2‬ىا دونوں دلىلىں ظنى ہىں‪،‬‬
‫‪ .3‬ىا نقلى دلىل قطعى ہے‪ ،‬اور عقلى دلىل ظنى ہے‪،‬‬
‫‪ .4‬ىا عقلى دلىل قطعى ہے‪ ،‬اور نقلى دلىل ظنى ہے‪ ،‬خواہ ثبوت‬
‫كے اعتبار سے ىا داللت كے۔‬

‫‪29‬‬
‫ىعنى نقلى دلىل كے ظنى ہونے كى دو صورتىں ہىں‪:‬‬
‫‪ ‬ایک صورت ىہ ہے کہ ‪ :‬نقلى دلىل كا ثبوت ظنى ہو‪ ،‬ىعنى‬
‫مثال‪ :‬كوئى حدیث ہے جس كا ثبوت متواتر سند سے‪ ،‬ىا‬‫ً‬
‫مشہور سند سے نہىں ہوا۔‬
‫‪ ‬دوسرى صورت ىہ ہے كہ‪ :‬دلىل ثبوت كے اعتبار سے تو‬
‫قطعى ہو‪ ،‬لىكن داللت (اور معنى بتانے) كے اعتبار سے‬
‫ظنى ہو‪ً ،‬‬
‫مثال ‪ :‬کوئی آیت ہے‪ ،‬کہ اس كا ثبوت تو قطعى‬
‫ہے‪ ،‬مگر اس آىت کے دومعنی ہوسکتے ہیں‪ ،‬اور ان میں‬
‫سے جس معنی کو بھی مراد لیا جائے گا‪ ،‬اس آىت كے‬
‫الفاظ سے اسے مراد لىنے كى گنجائش نكل سكتى ہو‪ ،‬تو‬
‫اس كا مطلب ىہ ہے كہ اس آىت كى اس معنى اور مفہوم پر‬
‫داللت قطعى نہىں ہے۔ اور داللت كے اعتبار سے ظنى‬
‫ہونے كے ىہى معنى ہىں۔‬
‫تو تعارض كى ىہ چار صورتىں ہو گئىں۔چنانچہ‪:‬‬
‫پہلى صورت‪ :‬كہ دونوں دلىلىں ثبوت اور داللت كے اعتبار‬
‫سے قطعى بھى ہوں‪ ،‬اور پھر متعارض بھى ہوں‪ ،‬اس كاوجود‬
‫محال ہے۔ كىوں كہ جب دونوں جانب ىقىنى طور پر صادق ہىں‪،‬‬
‫تو دو صادق مىں تعارض كىسے ہو سكتا ہے‪!!..‬۔چنانچہ دونوں‬
‫صادق ہوں‪ ،‬اور دونوں مىں تعارض ہو‪ ،‬ىہ غىر ممكن ہے‪( ،‬ىعنى‬
‫ممكن ہى نہىں ہے‪ ،‬اور ہرگز ہرگز اىسا نہىں ہو سكتا)‪ ،‬اور كوئى‬
‫شخص قىامت تك اس كى اىك مثال بھى پىش نہىں كر سكتا۔‬
‫اور دوسرى صورت‪ :‬ىہ ہےكہ دونوں دلىلىں ظنى ہوں۔تو‬
‫جب اىسى صورت پىش آ جائے كہ نقلى دلىل بھى ظنى ہو اور‬
‫الصدق‪( ،‬ىعنى اىسى‬
‫عقلى دلىل بھى ظنى ہو‪ ،‬تو دلىل ِّنقلى مظنون ِّ‬
‫نقلى دلىل جس كے سﭻ ہونے كا گمان ہو)‪،‬كو مان لىنے كےكے‬
‫وجوب (ىعنى ضرورى اور الزمى ہونے ) پر صحىح صحىح‬
‫دالئل قائم ہىں‪،‬جو اصول وكالم مىں مذكور ہىں۔‬
‫الصدق‪( ،‬ىعنى اىسى عقلى دلىل‬
‫اور دلىل ِّعقلى مظنون ِّ‬
‫جس كے سﭻ ہونے كا گمان ہو) كو ماننے كے واجب ہونے پر‬

‫‪30‬‬
‫كوئى صحىح دلىل قائم نہىں ‪ ،‬اس لىے اس وقت نقلى دلىل كو‬
‫مقدم ركھىں گے‪ ،‬اور عقلى دلىل كوغلط سمجھىں گے۔ اس لىے‬
‫كہ اس عقلى دلىل كے ظنى ہونے كا خود ىہى مطلب ہے كہ‬
‫ممكن ہے كہ غلط ہو۔ تو اس عقلى دلىل كو غلط ماننے مىں بھى‬
‫كسى عقلى حكم كى مخالفت نہىں كى گئى۔‬
‫اور جب ظنى عقلى دلىل ‪ ،‬اور ظنى نقلى دلىل مىں تعارض‬
‫ہو جائے‪ ،‬تو اس صورت مىں نقلى دلىل كوماننےكى اىك صورت‬
‫ىہ بھى ہو سكتى تھى كہ اس نقلى دلىل مىں تاوىل كر لىتے‪ ،‬ىعنى‬
‫اس كو اس كے ظاہرى معنى سے پھىر لىتے۔لىكن چوں كہ بغىر‬
‫كسى ضرورت كے تاوىل كرنا خود ممنوع ہے‪ ،‬اور ىہاں كوئى‬
‫ضرورت تھى نہىں‪ ،‬اس لىے اس طرىقے كو اختىار كرنا‪:‬‬
‫‪ ‬شرعى لحاظ سے ناجائز اور بدعت‪،‬‬
‫‪ ‬اور عقلى لحاظ سے غىر مستحسن (ىعنى برا) ہے‪،‬‬
‫جىسا كہ ابھى غىر مستحسن ہونے كى وجہ ان الفاظ مىں بىان كر‬
‫دى گئى ہے‪ « :‬اس لىے كہ اس عقلى دلىل كے ظنى ہونے كا‬
‫خود ىہى مطلب ہے كہ ممكن ہے غلط ہو۔ تو اس عقلى دلىل كو‬
‫غلط ماننے مىں بھى كسى عقلى حكم كى مخالفت نہىں كى گئى»۔‬
‫اور تىسرى صورت‪ :‬ىہ ہےكہ دونوں دلىلوں مىں سے‬
‫نقلى دلىل قطعى ہو اور عقلى دلىل ظنى ہو‪ ،‬تو اس كا حكم تو‬
‫بدرجہ ا َولى دوسرى صورت واال ہى ہو گا‪ ،‬كىوں كہ جب نقلى‬
‫دلىل ظنى تھى‪ ،‬تو وہ ظنى ہونے كے باوجود‪ ،‬ظنى عقلى دلىل‬
‫سے مقدم اور بڑھ كر تھى‪ ،‬تو جب نقلى دلىل قطعى ہو گى‪ ،‬تو‬
‫وہ تو بدرجۂاَولى ظنى عقلى دلىل سے مقدم اور بڑھ كر ہو گى۔‬
‫اور چوتھى صورت‪ :‬ىہ ہےكہ عقلى دلىل تو قطعى‬
‫ہو‪،‬لىكن نقلى دلىل ظنى ہو‪ ،‬خواہ ثبوت كے اعتبار سے‪ ،‬ىا داللت‬
‫كے اعتبار سے‪ ،‬تو اس صورت مىں عقلى دلىل كو تو اس لىے‬
‫الصحت ہے‪( ،‬ىعنى اس كا صحىح‬
‫ى ِّ‬‫نہىں چھوڑ سكتے كہ وہ قطع ُّ‬
‫ہونا قطعى ہے)۔اور اس كے مقابلے مىں جو نقلى دلىل ہے‪،‬‬
‫اگرچہ وہ ظنى ہے‪ ،‬لىكن چوں كہ ظنى نقلى دلىل كو قبول كرنے‬

‫‪31‬‬
‫كے وجوب (ىعنى ضرورى ہونے ) پر بھى صحىح صحىح دالئل‬
‫قائم ہىں‪ ،‬جىسا كہ دوسرى صورت كے ذىل مىں بىان ہوا‪ ،‬اس‬
‫لىے اس كو بھى نہىں چھوڑ سكتے۔‬
‫چنانچہ اس صورت میں ظنى نقلى دلىل میں تاوىل کر‬
‫کے‪ ،‬اور اسے عقل کے مطابق کر کے اس کو قبول كر لىں گے۔‬
‫اور خوب سمجھ لو كہ ىہ وہ خاص موقعہ ہے جس كے بارے مىں‬
‫ىہ دعوى كىا جاتا ہے كہ «دراىت مقدَّم ہے رواىت پر»‪ ،‬ىعنى‪:‬‬
‫« رواىت»‪( ،‬نقلى دلىل) كى بہ نسبت‪« ،‬دراىت» (عقلى‬
‫دلىل ) مقدَّم‪ ،‬ىعنى بڑھ كر ہے۔‬
‫چنانچہ خاص اس چوتھى صورت مىں ىہ اصول چلتا ہے‪،‬‬
‫اور دوسرى اور تىسرى صورت مىں اس چوتھے اصول كا‬
‫استعمال جائز نہىں ہے‪ ،‬جىسا كہ دوسرى اور تىسرى صورت‬
‫كے ذىل مىں اس كا بىان دالئل كے ساتھ ‪،‬تفصىل سے ہو چكاہے۔‬
‫اور مزىد غور كىا جائے تو عقلى ونقلى دالئل مىں‬
‫تعارض كى مزىد صورتىں بھى نكل سكتى ہىں‪ ،‬چنانچہ‪:‬‬
‫پانچوىں صورت‪ :‬ىہ نكل سكتى ہےكہ نقلى دلىل توظنى‬
‫ہو‪ ،‬اور اس كے معارض عقلى دلىل وہمى اور خىالى ہو۔‬
‫اور چھٹى صورت‪ :‬ىہ نكل سكتى ہےكہ‪ :‬نقلى دلىل تو‬
‫قطعى ہو‪ ،‬اور اس كے معارض عقلى دلىل وہمى وخىالى ہو۔‬
‫لىكن ان صورتوں كا حكم بہت ہى واضح اور ظاہر ہے‬
‫كہ‪ :‬نقلى دلىل كومقدم كرىں گے اور عقلى دلىل كو چھوڑ دىں‬
‫گے‪( ،‬اور وہ متروك كہالئے گى)‪ ،‬كىوں كہ جب عقلى باوجود‬
‫مظنون ہونے كے مؤخر ومتروك ہے‪ ،‬تو وہمى وخىالى تو بدرجۂ‬
‫اولى ہو گى‪( ،‬ىعنى جب عقلى دلىل ظنى ہونے كے باوجود بھى‬
‫اتنى قوت نہىں ركھتى كہ قطعى نقلى دلىل ىا ظنى نقلى دلىل كے‬
‫مقابلے مىں ٹھہر سكے‪،‬تو وہ عقلى دلىل جو ظنى بھى نہىں ‪،‬‬
‫بلكہ اس سے بھى كم تر درجے كى ہو اور محض وہمى اور‬
‫خىالى ہو‪ ،‬كىسے قطعى وظنى نقلى دلىل كے مقابلے مىں ٹھہر‬

‫‪32‬‬
‫سكے گى)۔‬
‫تىسرى صورت كے حكم كے ذىل مىں اس كى نظىر كا‬
‫بىان ہو چكا ہے۔ اورىہ سارى بحث نقلى دالئل اور عقلى دالئل كے‬
‫درمىان تعارض كے حكم كا تفصىلى بىان ہے۔‬
‫یہاں سے ان لوگوں کی غلطى ظاہر ہوگئى جو عقلى دلیل‬
‫كو مطلقًا‪( ،‬ىعنى ہر صورت مىں) اصل‪ ،‬اور نقلى دلىل كو اس‬
‫كے تابع قراردىتے ہیں‪ ،‬گو وہ عقلی دلىل‪ ،‬ظنى بھى نہ ہو بلكہ‬
‫محض وہمی اور خیالی ہو‪ ،‬اور گو اس كے مقابلے مىں آنے والى‬
‫نقلى دلىل قطعى ہى ہو۔‬
‫اب ىہاں صرف دوسرى اور چوتھى صورت كى مثال‬
‫ذکر کى جاتى ہے‪ ،‬اس لىے كہ پہلى صورت تو كبھى وا قع ہو‬
‫ہی نہیں ہوسکتی ۔ اورتىسرى صورت كا حكم بالكل‪ ،‬بلكہ اس سے‬
‫زىادہ بڑھ كر وہى ہو گا جو دوسرى صورت كا ہو گا‪ ،‬جىسا كہ‬
‫(‪)1‬‬
‫۔ اس لىے دوسرى اور چوتھى ‪ ،‬صرف ان‬ ‫ابھى ذكر ہو چكا‬
‫دو ہى صورتوں كى مثال بىان كر دىنا كافى ہے۔‬
‫دوسرى صورت كى مثال‪ :‬آفتاب‪ ،‬ىعنى سورج كے لىے‬
‫ت أ َ ْینِّیَّه ثابت ہے‪ ،‬جس كى دلىل هللا تعالى كے اس فرمان كا‬
‫حرك ِّ‬
‫بالكل ظاہرى معنى ہے‪ :‬ﮋﯡﯢﯣﯤﯥﯦ ﯧىى ﯪﯫﯬﯭﮊَ[األنبيآء]‪،‬‬
‫اور بعض حكماء آفتاب كى حركت صرف محور پر‬
‫مانتے ہىں‪ ،‬جو اىسا دعوى ہے جس كوئى قطعى دلىل قائم نہىں‬
‫ت أ َ ْینِّیَّه » کا قائل ہونا‪ ،‬اور بعض حكماء كے قول‬
‫ہے‪ ،‬پس «حرك ِّ‬
‫کا ترک کردینا واجب ہوگا۔‬
‫چوتھى صورت كى مثال‪ :‬اىسے عقلی دالئل جو قطعى‬
‫منفصل ىعنى علىحدہ‬
‫ِّ‬ ‫ہىں‪ ،‬ان سے ثابت ہے کہ آفتاب زمین سے‬
‫ہے‪ ،‬اور اپنی حرکت کی كسی حالت میں بھى زمین كو نہىں‬
‫چھوتا۔ اورقرآن مجید مىں هللا تعالى كا اِّرشاد ہے كہ‪ :‬ﮋﭟ ﭠ ﭡ ﭢ‬
‫ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﮊ ٹﮊَ[الكهف‪.]86َ:‬اب قرآن مجىد كے الفاظ كے ظاہرى‬

‫دىكھىے ‪ :‬اسى كتاب كا صفحہ نمبر ()۔‬ ‫(‪)1‬‬

‫‪33‬‬
‫الفاظ مىں غور وفكر كرنے سے پہلے‪ ،‬ىہ وہم ہو سكتا ہے كہ ‪:‬‬
‫آفتاب كىچڑ كے اىك چشمے مىں غروب ہوتا ہے۔اور ىہ اىسا‬
‫ظر» پر محمول ہو سكتا‬‫ظاہرى معنى ہے جو « ِّوجْ دَان فِّي بَادِّي النَّ ْ‬
‫ہے‪( ،‬ىعنى سورج كا كىچڑ كے چشمے مىں غروب ہونا‪ ،‬قرآن‬
‫مجىد كى آىت كا اىسا معنى ہے جس مىں غور وفكر كىا جا ئے‬
‫تو پتہ چل جاتا ہے كہ اس سے مراد ىہ ہے كہ حضرت ذو القرنىن‬
‫كو اىك نظر دىكھنے مىں ىوں معلوم ہوا كہ سورج كىچڑ كے اىك‬
‫چشمے مىں غروب ہورہا ہے‪ ،‬گو حقىقت مىں اىسا نہىں تھا)۔‬
‫چنانچہ اس آیت کو اسى معنى پر محمول کیا جائے گا‪،‬‬
‫ىعنى دیکھنے میں ایسا معلوم ہوا کہ گویا سورج ایک چشمے‬
‫میں غروب ہورہا ہے‪ ،‬جس طرح سمندر کا سفر کرنے والوں کو‬
‫ظاہرى نظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا آفتاب سمندر میں‬
‫غروب ہورہا ہے۔‬
‫وهللاُ تعَالَى أَعلَ ُم‪.‬‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬


‫َ‬

‫َ‬

‫ق حدو ِّثـ مادہ‬


‫انتبا ِّہ َّاول‪ :‬متعل ِّ‬
‫سائنس کى اتباع‪( ،‬ىعنى سائنس كے پىچھے چلنے)‪ ،‬اور‬
‫اس كى عقىدت مىں مبتال ہونے كى وجہ سے مسلمانوں مىں سے‬
‫بھى بعض لوگوں كو اسالم كى سب سے بڑى بنىاد اور اساس ‪:‬‬
‫توحىد كے عقىدے كے بارے مىں دو سخت غلطىاں ہوئى ہىں۔اور‬
‫ان غلطیوں کى وجہ سے سائنس كے یہ معتقدىن نہ تو سائنس‬

‫‪34‬‬
‫کےپورے متبع رہے‪ ،‬اور نہ اسالم کے۔ چناں چہ عن قریب‬
‫معلوم ہوتا ہے۔‬
‫اىك غلطى تو یہ ہے کہ‪ :‬هللا تعالى كى اىك خاص صفت‪،‬‬
‫جسے « ِّقدَ ْم» كہتے ہىں‪ ،‬اس مىں اىك دوسرى چىز كو شرىك كىا‪،‬‬
‫ىعنى «مادے» كو بھى قدىم مان لىا۔ اورىونان كے حکماء بھی اس‬
‫غلطى میں شریک ہیں ۔مگر ان ىونانى حكماء کے پاس تو كوئى‬
‫چھوٹی موٹى دلیل بھی تھی‪ ،‬اگرچہ اس میں ایک لفظى تلبیس‬
‫(ىعنى لفظى دھوكے اور گڑبڑ) سے کام لیا گیا ہے۔ چناں چہ‬
‫« ِّھدَایَةُ ِّ‬
‫الح ْك َمة» وغیرہ میں اس دلیل كا ذكر بھی كىا گىا ہے‪،‬‬
‫اور راقم‪( ،‬ىعنى ان سطور كے لكھنے والے بندے)نے «د َِّرا َیةُ‬
‫ص َمة» میں اس کا باطل ہونا بھی دکھال دیا ہے‪ ،‬اور عرف مىں‬
‫ال ِّع ْ‬
‫جنہىں سائنسى ماہر كہا جاتا ہے‪،‬ان كے پاس تو اس درجے کی‬
‫بھی کوئی دلیل نہیں۔‬
‫سائنس والوں نے اپنے دیگر دعووں كى طرح‪ ،‬اس‬
‫دعوے میں بھی محض ظن اور تخمىن کی حکمت سے کام لیا‬
‫مكونات ِّ موجودہ ‪ ،‬ىعنى بنى‬
‫ہے‪ ،‬ىعنى یہ خیال کیاہے كہ ىہ سب َّ‬
‫ہوئى موجود چىزىں‪ ،‬اگر محض معدوم تھىں‪ ،‬اور كبھى تھىں ہى‬
‫عدم محض سے وجود ہوجانا‪ ،‬ىعنى كچھ بھى نہ ہونے‬
‫نہىں‪ ،‬تو ِّ‬
‫سے كسى چىز كا وجود مىں آ جانا‪،‬ہمارى سمجھ میں نہیں آتا۔‬
‫لیکن خوب غور کرنا چاہىے کہ کسی چیز کا سمجھ میں‬
‫نہ آنا‪ ،‬کیا اس چىز کے باطل ہونے کی دلیل بن سکتی ہے‪!!..‬؟۔‬
‫سمجھ میں تو یہ بھی نہیں آتا کہ ایک ایسی موجود چیز ‪ ،‬ىعنى‬
‫ت مادى مىں سے‬
‫مادہ‪ ،‬جس کے تمام انحائے وجود‪ ،‬ىعنى تغىُّرا ِّ‬
‫نفس ُوجود مسبُوق بالعدَم نہ ہوا۔‬
‫ہر تغیُّر مسبوق بالعدم ہے‪ ،‬اس کا ِّ‬
‫آخر اِّن ُوجودات مىں‪،‬اور اُس ُوجود میں فرق کیا ہے؟۔‬
‫عدَ ِّم قِّدَم» میں‬
‫پس سمجھ میں نہ آنا تو « ِّقدَم» اور « َ‬
‫مشترک ہے‪ ،‬اور «قِّدَم» كے معاملے میں اتنى بات اور زىادہ‬
‫ہے کہ‪ :‬اس کے باطل ہونے پر خود مستقل دلیل بھی قائم ہے۔‬
‫اور وہ دلیل موجودہ سائنس کے مقابلے میں تو بہت آسانى سے‬

‫‪35‬‬
‫چلتی ہے‪ ،‬اورتھوڑى سى تبدىلى اور رد وبدل سے قدىم سائنس‬
‫کے مقابلے میں بھی کام دیتی ہے۔‬
‫وجہ اس كى یہ ہے کہ موجودہ سائنس میں قدیم مادے‬
‫ت جسمیہ سے خالی مانا گیا ہے(ىعنى‬
‫کو ایک مدت تک‪ ،‬صور ِّ‬
‫موجودہ سائنس ىہ كہتى ہے كہ اىك عرصہ اىسا گزرا ہے كہ وہ‬
‫مادہ جو قدىم ہے‪ ،‬اس كا كوئى جسم اور كوئى صورت نہىں تھى)۔‬
‫تجردمحال‬
‫ُّ‬ ‫اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مادے کا صورت سے‬
‫ہے‪(،‬ىعنى اىسا نہىں ہو سكتا كہ كوئى مادہ موجود تو ہو‪ ،‬لىكن اس‬
‫كى كوئى صورت اور شكل نہ ہو ) کیوں کہ مادے کی حقیقت‬
‫ایک چىز کا بالقوہ وجود ہے۔ اور جس سے فعلیت ہوتی ہے وہ‬
‫صورت ہے۔ اور ظاہر ہے کہ بالقوہ وجود‪،‬وجود كى قابلیت‬
‫ہے۔(ىعنى مادے كى جو تعرىف سائنس كے حالىہ ماہرىن نے كى‬
‫ہے ا س كى بنا پر ىہ موقف سامنے آىا ہے كہ ‪ :‬مادے كى حقیقت‬
‫بس اتنى سى ہے كہ كوئى چىز بالقوہ وجود ركھتى ہو‪ ،‬خواہ بالفعل‬
‫بنتا ہے‬ ‫اس كا وجود نہ ہو۔ اور ىہ بالقوہ مادہ‪ ،‬جب بالفعل مادہ‬
‫تو جسمانى صورت كے ذرىعے بنتا ہے۔اور ظاہر ہے كہ وجود‬
‫كے بالقوہ ہونے كا مطلب ىہ ہے كہ ‪ :‬اس مىں وجود كى‪ ،‬ىعنى‬
‫موجود ہو جانے كى قابلىت ہو۔ حاالنكہ ىہ وجود بالقوہ ‪ ،‬جب تك‬
‫بالقوہ ہے‪ ،‬توفناء محض اور عدم محض ہى توہے۔ تو اس طرح‬
‫نتىجہ ىہ نكال كہ عدم محض سے وجود كا ظہور ماننا الزم آىا)۔ َ‬
‫پس مادے کو كسى صورت کے بغىر (اور وہ بھى ہمىشہ‬
‫سے) موجود کہنا‪ ،‬درحقیقت «اِّجْ تِّ َماعِّ ُمتَنَافِّیَیْن» کا قائل ہونا ہے‪،‬‬
‫کہ بالفعل وجودہے بھی‪ ،‬اور بالفعل وجودنہیں بھی ہے۔پس اس‬
‫کا تقاضا تو یہ ہے کہ خود مادہ موجود ہی نہ ہوتا‪ ،‬بقدم چہ رسد‬
‫۔(ىعنى اس بحث كوتسلىم كرنے كا نتىجہ تو ىہ نكلتا ہے كہ خود‬
‫مادہ موجود ہى نہ ہو۔ اس لىے كہ مادہ صورت كے بغىر نہىں ہو‬
‫سكتا۔ اور جب مادہ بالفعل نہىں‪ ،‬بلكہ صرف بالقوہ تھا‪ ،‬تو مطلب‬
‫ىہ كہ اس كى كوئى صورت نہىں تھى۔ اور مادہ بغىر صورت‬
‫كے نہىں ہو سكتا‪ ،‬تو گوىا كہ مادہ موجود ہى نہ ہوا۔ اور جب مادہ‬

‫‪36‬‬
‫موجود ہى نہىں ہو گا تو پھر اس غىر موجود چىز پر طارى ہونے‬
‫والى صفت ‪ ،‬ىعنى قدم اور عدم قدم كى بحث تك بات پہنچنے كى‬
‫نوبت كىسے آ سكتى ہے)۔‬
‫اور اگر قدىم فلسفہ کے نظرىے كو مان لىں‪ ،‬اور‬
‫مادےكى کوئی صورت بھی مان لی جائے‪ ،‬تو ىہ بات ظاہر ہے‬
‫کہ‪ :‬كسى جسم كى صورت‪،‬كسى نوع كى صورت كے بغىر نہىں‬
‫ہوتى‪ ،‬اور کوئی نوعى صورت ‪ ،‬كسى شخصى صورت كے بغىر‬
‫متحقق ہى نہیں ہو سکتى۔‬
‫تو جب بھى اس مادے كى کوئی صورت مانی‬ ‫*‬
‫جائے گی‪ ،‬ال محالہ وہاں كوئى شخصى صورت بھی ہوگی۔‬
‫اورشخصى صورت میں تغىر اورتبدُّل ہوتا رہتا ہے۔ پس جب بھى‬
‫كوئى متاخر شخصى صورت اس مادے پر آئے گى‪ ،‬تو دو حال‬
‫سے خالی نہیں ہو گى‪ :‬یا تو پہلی شخصى صورت بھی باقی رہے‬
‫گی‪ ،‬یا زائل ہوجائے گی۔‬
‫اگر پہلى شخصى صورت بھى باقى رہى‪ ،‬تو كسى كا‬
‫شخص ہونا اس كى شخصى صورت سے ہى معلوم ہوتا ہے۔اور‬
‫جب دو شخصى صورت ہو گئیں تو وہ دو شخص ہوگئے۔پس‬
‫الزم آیا كہ اىك شخص ‪ ،‬دو شخص ہو جائے۔ اور یہ محال ہے‪،‬‬
‫(كبھى نہىں ہو سكتا)۔‬
‫اور اگر مادے كى پہلى شخصى صورت زائل ہو كر‪،‬‬
‫دوسرى شخصى صورت اس پر آئى‪ ،‬تو پتہ چال كہ وہ پہلى‬
‫شخصى صورت قدیم نہىں تھی۔ اس لىے کہ قدیم کا زوال ممتنع‬
‫ہے‪ ،‬پس وہ دوسرى صورت بھى حادث ہوئی‪ ،‬اور اس سے پہلے‬
‫جو شخصى صورت تھی‪ ،‬اسى دلىل سے وہ بھى حادث ہو گئى۔‬
‫‪ ‬پس جب صور ِّ‬
‫ت شخصىہ كے تمام افراد كا حادث ہونا ثابت‬
‫ہو گىا‪ ،‬تو مطلق صورت ِّ شخصىہ بھی حادث اور مسبوق‬
‫بالعدم ہوئی‪( ،‬ىعنى مطلق شخصى صورت كے بارے مىں ىہ‬
‫ثابت ہو گىا كہ وہ بھى قدىم ىعنى ہمىشہ سے نہىں تھى‪ ،‬بلكہ‬

‫‪37‬‬
‫اپنے وجود مىں آنے سے پہلے وہ معدوم تھى‪ ،‬ىعنى نہىں‬
‫تھى)۔‬
‫‪ ‬اور جب وہ شخصى صورت معدوم ہوگی‪ ،‬تو اس وقت‬
‫صورت ِّنوعیہ بھى معدوم ہوگی۔‬
‫‪ ‬اور جب صور ِّ‬
‫ت نوعىہ معدوم ہو گى‪ ،‬تو اس کے معدوم‬
‫ہونے كے وجہ سے صورت ِّ جسمىہ معدوم ہو گى۔‬
‫‪ ‬اور صور ِّ‬
‫ت جسمىہ کے معدوم ہونے سے مادہ معدوم قرار‬
‫پائےگا۔‬
‫پس مادے كا قدىم ہونا باطل ہو گىا۔‬ ‫*‬
‫اور مادے كا عدم سے وجود میں آنا جو سمجھ میں نہىں‬
‫آتا‪ ،‬اس کا نام«اِّ ْستِّ ْبعَاد» ہے‪« ،‬اِّستْ َحالَه» نہیں۔ اور « ُمست َ ْبعَدَات»‬
‫وقوع سے آبى نہىں۔(ىعنى اىسى باتىں جن كا واقع ہونا عقل سے‬
‫بہت بعىد ہو‪ ،‬ان كے واقع ہونے سے انكار نہىں كىا جا سكتا)۔ اور‬
‫ان دونوں باتوں ىعنى « ِّا ْستِّ ْب َعاد» اور «اِّستْ َحا َله» ‪ ،‬كو‪ ،‬آپس مىں‬
‫خلط ملط كرنا‪ ،‬اور ان مىں فرق نہ كر سكنا بہت سی غلطیوں کا‬
‫سبب ہے۔‬
‫اور اس تفصىل سے ىہ معلوم ہوگیا کہ مادے كے قدىم‬
‫ہونے كا عقیدہ اسالم کے خالف ہے۔ اور سائنس حال کے بھى‬
‫خالف ہے‪ ،‬اس لئے کہ آج كل كےسائنس والے خود خدا ہی کے‬
‫قائل نہیں ہىں۔ اسى لىے میں نے کہا تھا کہ مادے كے قدىم ہونے‬
‫كے قائلىن كى اتباع كرنے والے دونوں کے خالف ہوئے۔‬
‫اور اگر حقیقت میں صحىح طرىقے سے غور کیا جائے‬
‫‪ ،‬تو مادے كو قدىم ماننے كے بعد‪ ،‬پھر خود صانع(اسے بنانے‬
‫والے هللا تعالى ) ہی کی ضرورت نہیں رہتی‪ ،‬کیوں کہ جب اس‬
‫مادے کی ذات اس کے وجود کی علت ہے‪ ،‬تو وہ «واجب الوجود‬
‫» ہوگیا۔ اور ایک «واجب الوجود» کا دوسرے «واجب الوجود‬
‫» کی طرف محتاج ہونا‪ ،‬خود عقل كے خالف ہے۔‬
‫هللا تعالى كا جو تعلق اپنی صفات اور افعال سے ہے‪ ،‬وہى‬

‫‪38‬‬
‫تعلق اس کا اپنی صفات‪ ،‬حرکت و حرارت‪ ،‬اور اپنے افعال‬
‫تنوعات وغیرہ سے ہوسکتا ہے۔ پس خدائے بر حق كا قائل ہونا ‪،‬‬
‫ُّ‬
‫ث مادہ پر موقوف ہو گىا۔‬
‫خود حدو ِّ‬
‫اور اگر «قَد ْیم بالذَّات» اور «قَ ِّدیْم َّ‬
‫بالز َمان» میں فرق نکاال‬
‫جائے‪ ،‬تو اس کی گفتگو قدىم فالسفہ سے ہى كى جا سكتى ہے جو‬
‫اس كے قائل تھے‪،‬اور ىہ بحث بھى قدىم علم کالم میں طے‬
‫ہوچکی ہے۔ چوں کہ اِّس وقت کے فالسفہ اس تفرىق کے قائل‬
‫نہیں ہىں‪ ،‬اس لىے اس كو بىان كرنے كى ضرورت ہى نہىں ہے۔‬
‫اور اگر کوئی شخص مادے كے اجزاء كو‪ ،‬اس كى‬
‫صورت كے ساتھ قدیم مانے‪ ،‬اوراس قدىم صورت کو بعد مىں‬
‫پىش آنے والى صورتوں کے ساتھ جمع ہو جانے كو بھی مانے‪،‬‬
‫اس طرح سے کہ وہ مادہ اتنے چھوٹے چھوٹے ذروں کى شكل‬
‫ت وہمىہ تو ممكن‬
‫ت عقلىہ اور قسم ِّ‬
‫مىں تھا كہ جن ذروں میں قسم ِّ‬
‫ت فكىہ ممكن نہىں‪( ،‬ىعنى مادہ اتنے چھوٹے‬
‫ہے‪ ،‬لىكن قسم ِّ‬
‫چھوٹے ذروں كى شكل مىں تھا كہ اتنے چھوٹے ذروں كو عقلى‬
‫اور خىالى لحاظ سے تو مزىد چھوٹے ذروں مىں تقسىم كرنے كا‬
‫تصور كىا جا سكتا ہے ‪ ،‬لىكن واقعہ مىں انہىں تقسىم كرنا ممكن‬
‫كہ‬ ‫جىسا‬ ‫ہو)۔‬ ‫رہا‬ ‫نہ‬
‫دى مقراطسن بھى اىسے اجزاء كا قائل ہوا ہے۔‬
‫اور ىا پھر اگر كوئى شخص مادے كے اجزاء كو اس‬
‫كى صورت كے ساتھ متصل واحد مان كر اس میں اجزائے‬
‫تحلیلیہ کا قائل ہو جائے‪،...‬‬
‫تو ہم پوچھتے ہیں کہ‪ :‬یہ ذرات یا اجزاء‪ ،‬اگر قدیم تھے‪،‬‬
‫تو اس وقت متحرک تھے یا ساکن تھے؟۔ اگر متحرک تھے‪ ،‬تو‬
‫ان كى حرکت قدیم تھی۔ اور اگر ساکن تھے تو ان کا سکون قدیم‬
‫تھا۔ جب كہ اس وقت ہم دىكھتے ہىں كہ بعض جسم اىسے ہىں‬
‫جو متحرك ہیں‪ ،‬اور ان کی حرکت سے وہ اجزاء بھی متحرک‬
‫ہیں۔تو پتہ چال كہ اگر قدىم مادہ ساكن تھا‪ ،‬تو اب اس سے سکون‬
‫زائل ہو كر ‪ ،‬وہ متحرك ہو چكا ہے۔ اور اىسے ہى بعض اجسام‬

‫‪39‬‬
‫اىسے ہىں جن کو ہم ساکن دیکھتے ہیں۔تو اگر قدىم مادہ متحرك‬
‫تھا‪ ،‬تو اب اس سے حركت زائل ہو كر وہ ساكن ہو چكا ہے‪،‬‬
‫چنانچہ اس کے سکون سے وہ اجزا ءبھی ساکن ہو گئے ہیں۔‬
‫بہرحال‪ ،‬حركت اور سكون دونوں کے زوال کا مشاہدہ‬
‫ہم کررہے ہیں‪ ،‬اور قدیم کا زائل ہونا محال ہے۔ پس اِّن اجزا ءکی‬
‫حرکت یا سکون کا قدیم ہونا محال ہوا۔اور اجزا ء‪ ،‬ان دو باتوں‬
‫سے خالی نہیں ہو سکتے۔ پس ثابت ہوگیا کہ خود وہ اجزاء بھی‬
‫قدىم نہیں ہىں۔‬
‫اور اگر مادے كے بارے مىں ىہ بات سمجھ مىں نہىں آتى‬
‫كہ هللا تعالى نے اپنے قدرت سے مادے كو اس طرح پىدا كر دىا‬
‫كہ وہ معدوم تھا‪ ،‬اور هللا تعالى كے پىدا كرنے سے موجود ہو‬
‫گىا‪ ،‬تو پہلى بات تو ىہ ہے كہ ىہ سمجھ نہ آنا محض‬
‫« ِّا ْستِّ ْب َعاد»اور غائب كو شاہد پر قىاس كرنا ہے۔ اور پھر ىہى كب‬
‫سمجھ مىں آتا ہے كہ متغىر چىز قدیم ہو۔ پس سمجھ میں نہ آنا‬
‫دونوں میں مشترک ہوا‪ ،‬اس لئے یہ بھی قابل احتجاج نہىں۔ غرض‬
‫مادے كا قدىم ہونا بال غبار (بال شبہ) باطل اور محال ہى رہا۔‬
‫اور اگر ہم ان سب دالئل سے قطع نظر کر کے‪ ،‬مادے‬
‫كے قدىم ہونے کومحال نہ بھی کہیں‪ ،‬پھر بھى مادے كے قدىم‬
‫اور ہمىشہ سے موجود ہونے کی بھی کوئی دلیل نہیں‪ ،‬تو مادے‬
‫كا قدىم ہونا‪ ،‬اور قدىم نہ ہونا‪ ،‬دونوں باتوں كا احتمال برابر درجے‬
‫كا رہے گا۔ چنانچہ اس صورت مىں عقلى لحاظ سے دونوں شقوں‬
‫كا قائل ہونا ممكن رہے گا‪( ،‬اور كسى اىك جہت كو دوسرى جہت‬
‫پر ترجىح حاصل نہ ہوگى)۔‬
‫لیکن اىسے امورجو ُمحت َ َم ُل َّ‬
‫الطرفَ ْىنہوں‪ ،‬ىعنى اىسى بات‬
‫جس مىں دو طرف كا احتمال ہو‪ ،‬كہ وہ بات ہو بھى سكتى ہو اور‬
‫نہ بھى ہو سكتى ہو‪ ،‬اگر اس مىں مخبِّر صادق ایک شق کو متعىن‬
‫فرماد ے‪ ،‬تو اس کا قائل ہونا واجب اور الزمى ہوجاتا ہے۔ اور‬
‫یہاں مخ ِّبر صادق نے مادے كے حدوث کی شق کو متعین فرمادیا‬
‫ہے۔ چنانچہ هللا تعالى نے قرآن مجىد مىں ارشاد فرماىا ہے‪ :‬ﮋﯸ‬

‫‪40‬‬
‫ﯹﯺﯻﮊَ[البقرة‪]117َ:‬۔‬
‫اور رسول اكرم ﷺ كا ارشاد ہے‪« :‬كان َهللا َولم َيكن َ َّمعهَ‬
‫شيءَ»۔ پس نقلى طور پر بھی اس کا قائل ہونا واجب ہوگا۔‬
‫یہ پہلى غلطى كا بىان تھا۔ اور وہ دوسری غلطى آگے‬
‫بىان كى جاتى ہے۔‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪41‬‬
‫ت حق‬
‫ق تعمىم قدر ِّ‬
‫انتبا ِّہ دوم‪ :‬متعل ِّ‬
‫جس پہلی غلطى كا ابھى ذكر كىا گىا ہے‪،‬اس کا حاصل‬
‫بس ىہ ہے كہ‪ :‬هللا تعالی کی ایک اىسى صفت جو اسى كے ساتھ‬
‫مخصوص ہے‪( ،‬ىعنى قدىم ہونا)‪ ،‬اسے كسى دوسرے کے لئے‬
‫(ىعنى مادے كے لىے جوكہ مخلوق ہے) ثابت كیا جانا ہے۔‬
‫اور اس دوسری غلطی کا حاصل ىہ ہے كہ‪ :‬هللا تعالى‬
‫کی ایک اىسى صفت ِّکمال جو ىقىنًا اس كو حاصل ہے‪ ،‬اس کو‬
‫ت کمال «عمو ِّم قدرت»‬
‫هللا تعالى سے نفى کردینا ہے۔ اور وہ صف ِّ‬
‫ہے‪ ،‬ىعنى ىہ كہ هللا تعالى كى اىك كامل صفت ىہ ہے كہ ‪ :‬اس كى‬
‫قدرت عام ہے۔تو آج كل كے بعض لوگوں نے هللا تعالى كے بارے‬
‫مىں ىہ كہا كہ ‪ :‬هللا تعالى كى قدرت عام نہىں ہے۔‬
‫كىوں كہ اس زمانے کے نو تعلم یافتہ لوگوں كى زبان‬
‫اور قلم پر ىہ جملہ جارى دىكھا جاتا ہے كہ ‪ :‬فطرت كے خالف‬
‫کوئی امر واقع نہیں ہوسکتا‪ ،‬اور اس کی دو تقریریں کی جاتی‬
‫ہیں‪ :‬كبھی عقلی رنگ میں‪ ،‬اور كبھی نقلی پیرائے میں۔‬
‫عقلی رنگ یہ ہے کہ مث ًال‪ :‬ہم دیکھتے ہیں کہ آگ ہمیشہ‬
‫جالتی ہے ۔كبھی اس کے خالف ہوتے نہیں دیکھا۔ ہم دیکھتے ہیں‬
‫کہ بچہ ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے ‪ ،‬كبھی اس کے خالف نہیں‬
‫دیکھا۔ تو بس‪ ،‬جو كچھ اس قاعدے کے خالف ہوگا‪ ،‬وہ محال‬
‫ہے۔‬
‫اور بس اتنى سى بات پر ہى معجزات كا انكار کردیا كہ‬
‫ق عادت‪ ،‬ىعنى عادت كے خالف ہىں‪ ،‬لہذا‪ ،‬ہم انہىں‬
‫چونكہ ىہ خوار ِّ‬
‫نہىں مانتے۔بعض لوگوں نے تو صرىح اور صاف لفظوں مىں اس‬
‫حكاىت اور واقعے ہى كى تكذىب كر دى‪ ،‬كہ اىسا ہوا ہى نہىں ہے۔‬
‫اور جہاں واقعات كى تکذیب اور انہىں جھٹالنے كى جرأت تو اس‬
‫لىے نہىں ہو سكى كہ نص قطعى مىں اس واقعے كے ہونے كا‬

‫‪42‬‬
‫ذكر موجود تھا‪ ،‬تو وہاں درپردہ انکار کر دىا‪ ،‬اس طرح کہ باطل‬
‫قسم كى تاوىل سے کام لیا۔ اور جب انبىاء كے معجزات کے ساتھ‬
‫یہ معاملہ کیا گىا ہو‪ ،‬تو اولىاء كى كرامات تو كسى شمار مىں ہى‬
‫نہىں ۔ اور اس سارى خرابى كى جڑ ان لوگوں كا ىہ اعتقاد ہے‬
‫كہ ‪ :‬فطرت كے خالف كسى بات كا ہونا محال ہے۔ كچھ بھى‬
‫فطرت كے خالف نہىں ہو سكتا۔‬
‫صاحبو! ظاہر ہے استحالہ‪ ،‬ىعنى کہ یہ كہنا كہ‪« :‬كسى‬
‫بات كا فطرت كے خالف ہونا محال ہے۔ كچھ بھى فطرت كے‬
‫دعوی ہے۔ دعوے كو ثابت كرنے‬ ‫ٰ‬ ‫خالف نہىں ہو سكتا»‪ ،‬ایک‬
‫کے لىے دلىل کی ضرورت ہوتى ہے۔ بس اتنى سى بات دلیل نہىں‬
‫بن سكتى كہ ‪ :‬ہم نے كبھی اس طرح ہوتے نہىں دىكھا۔ اس لىے‬
‫کہ اس کا حاصل «اِّ ْستِّ ْق َراء» ہے‪ ،‬اور «اِّ ْستِّ ْق َراء» میں چند جزئیات‬
‫کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ان چند جزئیات کے مشاہدے سے دوسری‬
‫جزئیات پر استدالل کرنا قطعى نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس حكم كو ظن‬
‫كے درجے میں‪ ،‬دوسری جزئیات کے لئے بھی ثابت کہہ سکتے‬
‫ہیں۔‬
‫لیکن ىہ بات ذہن نشىن رہنى چاہىے كہ ىہ ظن وہاں حجت‬
‫ہوگا جہاں اس سے زىادہ قوى اور زىادہ مضبوط دلیل اس کے‬
‫معارض اور اس سے ٹكراتى نہ ہو۔ اور وہاں بھی اگر ىہ حكم‬
‫لگاىا جائے كہ ہمىشہ اىسا ہى ہو گا‪ ،‬تو صرف ظن كے درجے‬
‫میں ہوگا۔‬
‫سلب‬
‫اور ىہ اس لىے كہ «دوام سے ضرورت»‪ ،‬ىعنى « ُ‬
‫ا ِّل ْم َكان َ‬
‫عن ال َجانِّب ال ُمخا ِّلف»‪ ،‬ثابت نہیں ہوسکتا ۔ نفى ِّامکان کے‬
‫لئے مستقل دلیل درکار ہے۔ ىعنى ہم نے كسى چىز كو كئى مرتبہ‬
‫اىك ہى طرح ہوتے دىكھا (آگ سے جلنے كى مثال ذہن مىں ركھ‬
‫لىجىے)‪ ،‬تو ہم نے دوام كا حكم لگا دىا‪ ،‬كہ ىہ بات ہمىشہ ىوں ہى‬
‫ہو گى‪(،‬كہ جب آگ روشن ہوگى‪،‬توضرور جالئے گى)۔ اس لىے‬
‫كہ ہمارے مشاہدے مىں ىوں ہى آىا ہے۔‬
‫سلب ا ِّل ْم َكان‬
‫تو دوام كے اس حكم سے ضرورت‪( ،‬ىعنى « ُ‬

‫‪43‬‬
‫عن ال َجانِّب ال ُمخا ِّلف») ثابت نہىں ہو سكتى‪ ،‬ىعنى ىہ ثابت نہىں ہو‬
‫َ‬
‫سكتا كہ‪ :‬اب ضرورى ہو گىا ہے كہ جب بھى ىہ بات ہو( كہ آگ‬
‫جلے)‪ ،‬تو وىسے ہى ہو جىسا ہم نے دىكھا ہے(كہ جالئے بھى‬
‫ب مخالف كا اِّمكان (كہ آگ روشن بھى ہو‪ ،‬اور‬
‫ضرور)۔اور جان ِّ‬
‫ممكن ہے كہ نہ جالئے)‪،‬بھى ختم ہو گىا ہے۔ لہذا‪ ،‬اىسا ہو سكتا‬
‫ہے كہ كہىں آگ روشن تو ہو‪ ،‬مگر جالئے نہىں‪ ،‬گو عادت كے‬
‫اعتبار سے اىسا ہى ہوتا ہے آگ جالىا كرتى ہے۔تو اگر كسى‬
‫نے اِّمكان كى بھى نفى كرنى ہے (كہ آگ بھڑكنے كے بعد ضرور‬
‫جالئے گى‪ ،‬نہ جالنا ممكن ہى نہىں ہے)‪ ،‬تواس كے لىے اسے‬
‫مستقل دلىل دىنى پڑے گى۔‬
‫اور جہاں« ِّا ْستِّ ْق َراء» سے لگائے گئے ظنى حكم كے‬
‫مقابلے مىں اس سے قوى تر كوئى اور دلىل آ جائے‪،‬تو وہاں اس‬
‫ظنى حكم کا اتنا بھی اثر نہىں رہے گا ‪،‬بلکہ اس سے مضبوط‬
‫تر دلىل پرعمل ہوگا۔‬
‫چنانچہ جب امکان کی نفى كى کوئی دلیل موجود نہیں‬
‫ہے‪ ،‬اور چند جزئىات (ىعنى جزئى واقعات ) كے لىے‪ ،‬اىك قوى‬
‫ترىن دلیل(ىعنى قرآن مجىد كى كوئى آیت) ‪،‬اس عام حكم (آگ‬
‫كے جالنے) كے خالف اىك دوسرے حكم (ىعنى آگ بھڑكنے‬
‫كے باوجود نہ جالنے) كے ثابت ہونے پر قائم ہے‪ ،‬تو پھر کیا‬
‫وجہ ہے کہ اس قوى ترىن دلىل كو حجت نہ سمجھا جائے‪ ،‬یا اس‬
‫قوى دلىل میں تاوىل ِّبعید کا ارتکاب کیا جائے‪ ،‬کیوں کہ تاوىل میں‬
‫الظا ِّھر» ہوتا ہے‪ ،‬ىعنى ظاہرى معنى كو چھوڑ كر‬ ‫عن َّ‬ ‫رف َ‬
‫ص ٌ‬ ‫« َ‬
‫كسى دوسرے معنى كو اختىار كر لىا جاتا ہے۔اور ىہاں تاوىل كى‬
‫ضرورت ہى نہىں ہے‪،‬پھركیوں تاوىل کی جائے۔ ورنہ یوں تو ہر‬
‫چیز مىں اىسے بعىد بعىد احتماالت پیدا کىے جا سكتے ہىں‪ ،‬جس‬
‫كا نتىجہ ىہ نكلے گا كہ كوئى عبارت ‪ ،‬اور كوئى شہادت بھى‬
‫حجت نہ رہے گى۔‬
‫اس دعوے کی دلیل کا دوسرا پیرایہ نقلى ہے۔وہ یہ کہ هللا‬
‫تعالی نے فرمایا ہے‪ :‬ﮋﰅﰅﰅ ﰅﰅﰅﮊَ[األحزاب]۔‬

‫‪44‬‬
‫تو صاحبو! اس صحىح دلیل سے صحىح طرىقے سے‬
‫استدال ل كرنا دو باتوں پرموقوف ہے‪:‬‬
‫‪ ‬ایک یہ کہ‪« :‬سنت» سے ىہاں مراد « ہر سنت» ہے۔‬
‫‪ ‬دوسرے یہ کہ‪ :‬ﮋﰅﮊکے فاعل میں عموم ہے۔ هللا تعالى ‪،‬‬
‫اورهللا تعالى كے غیر دونوں کو شامل ہے۔‬
‫حاالں کہ دونوں دعووں پر کوئی دلیل نہیں۔ صرف ممکن‬
‫نہىں‪ ،‬بلکہ واقعہ بھی ىہى ہے کہ سىاق وسباق پر نظر كرنے سے‬
‫صاف معلوم ہوتا ہے كہ ىہاں «سنت» سے مراد ‪ :‬خاص خاص‬
‫اُمور ہیں‪ ،‬جن كا اِّن آیات میں ذکر ہے‪ ،‬جن کا حاصل ىہ ہے كہ‬
‫‪:‬باطل پر حق كا غلبہ ہو گا‪ ،‬خواہ ىہ غلبہ دلىل وبرہان كے ذرىعے‬
‫ہو‪ ،‬ىا ىہ غلبہ تىغ وسنان ىعنى تىر وتلوار كے ذرىعے ہو۔‬
‫اور اگر اس جگہ ﮋﰅ ﮊکے فاعل میں عموم مراد لیا‬
‫جائے‪ ،‬تو ﮋﰅﮊ کا فاعل «هللا كا غیر » ہے‪ ،‬ىعنى هللا تعالی کے‬
‫معمول كو‪ ،‬کوئی دوسرا شخص نہىں بدل سکتا۔‬
‫جىسے‪:‬دنیا میں بعض مرتبہ اىسا ہوتا ہے كہ بادشاہ نے‬
‫كوئى حكم صادر كىا‪ ،‬لىكن كسى جماعت كى شورش وغیرہ اس‬
‫حكم كے نافذ ہونے مىں حائل ہو جاتى ہے ۔ اور آىت مىں جو خبر‬
‫دى ہے كہ هللا تعالى كى سنت اور اس كے معمول كوكوئى دوسرا‬
‫تبدىل نہىں كر سكتا‪ ،‬تو اس خبر سے مقصود هللا كے وعدوں اور‬
‫وعىدوں كى توثىق ہے‪ ،‬كہ ىہ وعدے اور وعىدىں واقع ہو كر‬
‫رہىں گى۔‬
‫اور اس مدعا کی ایک تیسری تقریر اور بھی سنی گئی‬
‫ہے ‪ ،‬جو عقلى ونقلى دلىل سے مرکب ہے۔ وہ یہ کہ هللا تعالى كى‬
‫عادت‪ ،‬اىك فعلى وعدہ ہے۔ اور وعدے میں نص كے ذرىعے‬
‫تبدیلى محال ہے۔ پہال مقدمہ عقلی ہے‪ ،‬اور دوسرا مقدمہ نقلی۔‬
‫سو دوسرا مقدمہ تو كسى استثناء كے بغىر صحىح ہے‪،‬لىكن پہال‬
‫مقدمہ مسلم نہىں ہے۔‬
‫بارش كے موسم میں بارش ہوا ہى كرتى ہے۔ لىكن جب‬
‫پہلى مرتبہ بارش ہوتے ہوئے پہلى مرتبہ بارش ركى ہو گى‪ ،‬تو‬

‫‪45‬‬
‫اس وقت تک بارش ركنے كى عادت بھی نہ تھی۔ کیوں کہ عالم‬
‫کا حا ِّدث ہونا پہلے ثابت ہوچکا ہے۔ تو اگر وہ عادت(ىعنى بارش‬
‫ہونا) وعدہ تھا‪ ،‬تو اس وعدے میں خالف (بارش كا ركنا)کیسے‬
‫واقع ہوگیا‪!!..‬؟۔‬
‫تنوعات سب حا ِّدث ہیں۔ جب مادےمیں اول نوع پیدا ہوئی‬
‫‪ ،‬اور مدت تک اسی نوع کے افراد پیدا ہوتے رہے ‪،‬توىہی عادت‬
‫ہو گئى تھى۔ پھردوسری نوع کے افراد کیوں پیدا ہونے لگے۔ اور‬
‫ىہ سوال وارد ضرور ہو گا‪ ،‬خواہ مادے مىں تبدىلى بطور ارتقاء‬
‫كے ہو‪ ،‬جیسا کہ سائنس والے كہتے ہىں‪ ،‬یا بطور نشو ‪( ،‬پىدائش‬
‫كے) ہو‪ ،‬جیسا کہ اہ ِّل حق کی تحقیق ہے۔‬
‫اگر کہا جائے کہ یہ عادت کے خالف اس لىے نہیں تھا ‪،‬‬
‫كىوں کہ اصل عادت طبىعى اسباب پر آثار کا مرتب کرنا تھا‪،‬‬
‫اور یہ سب اس عادت میں داخل ہے ۔‬
‫تو ہم کہیں گے کہ‪ :‬چوں کہ طبىعى اسباب خود قدرت كے‬
‫تصرف ‪ ،‬اور قدرت كے ارادے كے تعلق کے محتاج ہیں‪ ،‬اس‬
‫ُّ‬
‫لئے اس اصل کی بھى اىك اصل دوسری نكلے گى‪ ،‬اور وہ ہے‪:‬‬
‫«ارادے اور قدرت سے تصرف کرنا»۔ پس اصل عادت اس کو‬
‫كہىں گے۔ سو یہ اصل اىسى ہے كہ اگر كوئى واقعہ سائنس كے‬
‫اصولوں كے خالف واقع ہو بھى جائے‪ ،‬تو بھى ىہ اصل ىعنى ‪:‬‬
‫«ارادے اور قدرت سے تصرف کرنا»‪ ،‬محفوظ رہے گى۔‬
‫خالف عادت بھی عادت کے موافق‬
‫ِّ‬ ‫اس اعتبار سے‬
‫ہوگیا۔ ہاں‪ ،‬صورت كے اعتبار سے اسے عادت كے خالف کہنا‬
‫صحىح ہو گا ۔اور حقیقت کے اعتبار سے اسے عادت كے موافق‬
‫كہنا درست ہو گا۔پس اىسے واقعات کے انکار كرنے‪،‬یا ان كے‬
‫مطالب اور معانى مىں تحریف كرنے کی کون سى ضرورت‬
‫باقى رہى؟۔‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪46‬‬
47
‫ق نبوتـ‬
‫انتبا ِّہ سوم‪ :‬متعل ِّ‬
‫اس مادہ مىں چند غلطیاں واقع ہورہی ہیں‪:‬‬
‫اول‪ :‬وحی کی حقیقت میں ‪،‬جس کا حاصل بعض اجتہاد‬
‫كے مدعى حضرات نے ىہ كىا ہے كہ ‪ :‬بعض لوگوں مىں فطرى‬
‫اعتبار سے اپنی قوم کی فالح و بہبودی اور ہمدردی کا جوش‬
‫ہوتا ہے۔ اور اس جوش كى وجہ سے ا ُس پر اسی فكر کے خىاالت‬
‫غالب رہتے ہیں۔ اسى تخیالت كے غلبے كى كىفىت مىں اس كى‬
‫قوت ِّ خىالىہ بعضے مضامین کو مہیا کر لیتى ہے۔ اور بعض‬
‫اوقات اسی غلبے كى كىفىت كى وجہ سے کوئی آواز بھی‬
‫اسےسنائى دے جاتى ہے۔ اور بعض اوقات اسی غلبے كى كىفىت‬
‫كى وجہ سے اس شخص كو کوئی صورت بھی نظر آجاتی ہے‪،‬‬
‫اور وہ صورت بات چىت کرتی ہوئی بھى معلوم ہوتی ہے۔ جب‬
‫كہ اس آواز یا اس صورت یا اس کالم کا خارج مىں کوئی وجود‬
‫نہیں ہوتا‪ ،‬سب فقط موجودات خیالیہ ہیں‪ ،‬ىعنى ىہ سب چىزىں‬
‫صرف اور صرف اس كى خىالى دنىا مىں موجود چىزىں ہوتى‬
‫ہىں‪ ،‬حقىقى دنىا مىں كچھ بھى نہىں ہوتا ۔‬
‫لیکن نبوت کی یہ حقیقت (جو ان لوگوں نے بىان كى ہے)‪،‬‬
‫صحىح اور صریح نصوص كى بتائى ہوئى حقىقت كے بالکل‬
‫خالف ہے۔ نصوس میں تصرىح ہے کہ وحی ایک غىبى فیض‬
‫ہے جو كسى فرشتے كے واسطے سے ہوتا سے‪ ،‬اور وہ فرشتہ‬
‫كبھى تو وحى كا اِّلقا کرتا ہے‪ ،‬جس کوحدیث میں«نَفَ َ‬
‫ث ِّف ْي‬
‫َر ْو ِّعي» فرمایا ہے۔ كبھی اس کى آواز سنائی دیتی ہے۔ كبھی وہ‬
‫سا منے آکر بات کرتا ہے ‪،‬جس کوفرمایا ہے‪«َ :‬يأتيني َالملكَ‬
‫أحيانًا‪َ،‬فيتمثَّلَلي»۔‬
‫جدید علوم میں ان سب باتوں كا‪ ،‬اس لىے انکار کیا گیا ہے‬
‫کہ خودفرشتوں کے وجود کو بغىر كسى دلیل كے باطل سمجھا‬

‫‪48‬‬
‫گىا ہے‪ ،‬اور وحى چوں كہ فرشتے كے واسطے سے ہوتى ہے‪،‬‬
‫اس لىے وحى كو ہى باطل سمجھ لىا گىا۔ سو فرشتوں كے وجود‬
‫إن شَا َء هللاُ تعَالَى‪ ،‬آئندہ كسى انتباہ میں «وجو ِّد‬
‫کی تحقیق‪ْ ،‬‬
‫مالئکہ» کی بحث میں آجائے گی‪ ،‬جس سے معلوم ہوجائے گا کہ‬
‫مالئکہ ىعنى فرشتوں کا وجود‪،‬عقلى لحاظ سے محال نہىں ہے۔‬
‫اور جب عقلی لحاظ سے ممكن چىز کے وجود پر صحىح نقلى‬
‫دلىل داللت كر رہى ہو‪ ،‬تو عقلی طور پر اس بات کا قائل ہونا‬
‫واجب ہے۔(دىكھىے اصول موضوعہ نمبر(‪))2‬۔‬
‫دوسری غلطى‪ :‬معجزات کے متعلق ہے‪ ،‬جن کی حقیقت‬
‫ىہ ہے كہ وہ ایسے اُمور ہوتے ہیں جن کا وقوع ا َسباب طبعیہ‬
‫كے واسطے كے بغىر ہوتا ہے۔ سو جدىد علوم والے كوئى دلیل‬
‫پىش كىے بغىر ہى ىہ كہتے ہىں كہ معجزات واقع نہىں ہو سكتے‪،‬‬
‫معجزات کے وقوع کے بھی منکر ہیں۔ اور اسی وجہ‬ ‫گوىا وہ‬
‫سے نصوص مىں جن معجزات كے واقع ہونے كا ذكر كىا گىا‬
‫ہے‪ ،‬ان میں دور دراز كى تاویلىں كرتے ہىں‪ ،‬اور صرف تاوىل‬
‫ہى كىا‪ ،‬اتنى دور كى كوڑى التے ہىں كہ اسے تحریف کہنا ہى‬
‫درست معلوم ہوتا ہے۔ اور ىہ سب حركتىں كرنے كا مقصد صرف‬
‫ىہ ہوتا ہے كہ ان معجزات كے بارے مىں ىہ ثابت كر دىا جائے‬
‫كہ ىہ معجزہ عام عادت كے خالف بات نہىں تھى‪ ،‬بلكہ انہىں‬
‫ا ُ ِّ‬
‫مور عادیہ بنایا جاتا ہے‪ ،‬كہ ىہ تو عام عادت كے بالكل موافق‬
‫بات تھى۔ ۔‬
‫چنانچہ اکثر معجزات کوتو بالکل غیر عجیب واقعہ ثابت‬
‫كىا جاتا ہے‪ ،‬كہ ان مىں تعجب كى كوئى بات ہى نہىں ہے‪،‬جىسے‪:‬‬
‫ﮋ ﮀﮁﮂﮃﮊَ[البقرة‪ ]60َ:‬وغیرہ۔‬
‫اور جہاں معجزے كى خبر كو غیر عجیب ثابت نہ كر‬
‫سكىں‪ ،‬تو وہاں اسے مسمریزم کی نوع میں داخل کیا جاتا ہے‪،‬‬
‫جىسے‪ :‬حضرت موسى علىہ السالم كى الٹھى سانپ بن گئى‬
‫تھى‪ ،‬تو اس كے بارے مىں كہا جاتا ہے كہ ىہ معجزہ نہىں بلكہ‬
‫مسمرىزم تھا۔‬

‫‪49‬‬
‫اور ىہ باتىں كہنے والوں كو جو شبہ پىش آىا ہے‪ ،‬اس‬
‫كا منشا‪ ،‬اور اس كى بنىاد كو (انتبا ِّہ دوم) میں رفع کردیا گیا ہے۔‬
‫قادر مطلق نے جس طرح خود اسباب طبعیہ کو ‪،‬‬ ‫ِّ‬ ‫پس‬
‫اسباب ِّطبعیہ كے بغىر پیدا کیا‪ ،‬ورنہ تسلسل الزم آئے گا جو كہ‬
‫محال ہے‪،‬اسى طرح اگر هللا تعالى چاہىں‪ ،‬تو ان اسباب کے‬
‫سبَّبات كو اسباب طبعیہ كے بغىر پیدا کر سکتے ہیں ۔غَایَةُ َما فِّي‬
‫م َ‬
‫البَابىہ ہے‪ ،‬ىعنى زىادہ سے زىادہ ىہى ہو سكتا ہے كہ اس طرح‬
‫سبَّبات كو‪ ،‬اسباب طبعیہ كے بغىر پیدا‬ ‫ہونے‪(،‬ىعنى اسباب کے م َ‬
‫کر دىنے) کو ُم ْست َ ْب َعدكہىں گے‪ ،‬مگر اِّ ْستِّ َحا َله اور اِّ ْستِّ ْب َعاد ایک‬
‫چىز نہیں ہے۔(دىكھىے اصول ِّموضوعہ (‪))3‬۔‬
‫تىسرى غلطى ىہ ہے كہ ‪ :‬معجزات کو نبوت كى دلیل قرار‬
‫نہىں دیا جاتا‪ ،‬بلکہ دلىل كے بارے مىں ىہ سمجھا جاتا ہے كہ دلىل‬
‫حسن ا َخالق میں منحصر ہے۔ اور دلىل‬
‫ِّ‬ ‫حسن تعلىم اور‬
‫ِّ‬ ‫صرف‬
‫كے اس مىں انحصار کی اس كے عالوہ اور كوئى دلىل نہیں بیان‬
‫کی جا سکتی كہ اگر خوارق (ىعنى عام عادت سے ہٹ كر واقع‬
‫ہونے والى چىزوں ) كو نبوت كى دلىل كہا جائے‪ ،‬تو مسمرىزم‬
‫ستلزم نبوت ہوں گى۔‬
‫ِّ‬ ‫اور شعبدے والى چىزىں بھی م‬
‫لىكن ىہ دلیل اس لىے بالكل لچرہے کہ در اصل مسمریزم‬
‫اور شعبدات خوارق ِّ عادت ہىں ہى نہیں‪ ،‬بلکہ ان كى بنىاد عىن‬
‫اسباب طبعیہ پر ہے۔ہاں ىہ ہے كہ وہ طبعى اسباب عام عوام كى‬
‫نگاہوں سے مخفى ہىں‪ ،‬لىكن ماہرین اسے خوب جانتے ہىں‪ ،‬اور‬
‫وہ انہىں جان کر مدعى کی تصدىق ىا تکذیب‪ ،‬اور نیز اس کے‬
‫ساتھ معارضہ کر سكتے ہیں۔جب كہ انبىاء علیہم السالم کے‬
‫معجزات اىسے ہىں كہ منکرین میں سے کوئى شخص بھى نہ‬
‫تو ان كے طبعى سبب كى تشخىص كر سكا‪ ،‬اور نہ ہى کوئی‬
‫شخص ان سے معارضہ کرسکا۔ جس سے صاف واضح ہوتا ہے‬
‫کہ وہ معجزات واقع میں بھى خوارق ہیں۔‬
‫شت َِّركُ ا ِّال ْستِّ ْلزَ ام نہ ہوئے ‪،‬‬
‫پس معجزات اور شعبدات ُم َ‬
‫(ىعنى معجزات اور شعبدے اىك درجے كى چىز نہ رہے‪ ،‬اور ىہ‬

‫‪50‬‬
‫ق عادت‬ ‫بات درست نہ رہى كہ معجزے كو درست اور خار ِّ‬
‫ب معجزہ كو هللا‬‫ماننے سے جو چىز الزم آتى ہے‪ ،‬ىعنى صاح ِّ‬
‫كا سچا نبى ماننا‪ ،‬وہى چىز شعبدے كو درست ماننے سے بھى‬
‫ق عادت ہوتا ہى نہىں ہے۔‬
‫الزم آ جائے‪ ،‬اس لىے كہ شعبدہ خار ِّ‬
‫لہذا ‪ ،‬معجزات سے نبوت الزمى طور پر ثابت ہوتى ہے‪ ،‬اور‬
‫شعبدات سے بالكل ثابت نہىں ہوتى)۔‬
‫ىہ ضرورى نہ رہا كہ جو بات معجزے كو درست ماننے‬
‫سے الزم آئے (جىسے نبوت كا سچا ہونا)‪،‬وہى بات شعبدات كو‬
‫درست ماننے سے بھى الزم آ جائے۔ لہذا ‪ ،‬اىسا ہو سكتا ہے كہ‬
‫شعبدہ باز شعبدہ دكھائے‪ ،‬اور اسے نبى نہ مانا جائے)۔‬
‫حسن خلق بھی نبى كى نبوت پر‬
‫ِّ‬ ‫البتہ حسن ِّ تعلیم اور‬
‫داللت كرتے ہىں‪،‬لىكن هللا تعالى كى حكمت كا تقاضا ىہ ہوا كہ‬
‫‪ :‬انبیاء علىہم السالم كے مخاطب دونوں قسم كے لوگ ہوا كرتے‬
‫ہىں‪:‬‬
‫اىك تو خواص اہ ِّل فہم‪ ،‬جو تعلىم اور اَخالق كے درجۂ علیا‬
‫كا (كہ وہ بھى خارق ہے)‪ ،‬اندازہ كر سكتے ہىں‪،‬‬
‫اور دوسرے عام عوام اور كم عقل لوگ جوحسن ِّتعلیم‬
‫حسن اخالق سے استدالل کرنے میں اس وجہ سے غلطی کر‬
‫ِّ‬ ‫اور‬
‫سکتے ہىں کہ اعلى درجے کا اندازہ نہىں كر سکتے۔ اس لىے‬
‫ہرحكىم اورخوش خلق آدمى کو نبی سمجھ لىتے۔‬
‫اس لىےاستدالل كا ایک ذریعہ ان کے اِّدراک اور ا ن‬
‫كى عقل كے موافق بھی رکھا گیا‪،‬جس مىں علم اضطرارى‬
‫صحت ِّ دعوى ا نبوت كا پىدا ہو جاتا ہے۔ اور دوسرے اہل شعبدہ‬
‫سے ان کوخلط و غلط اس لىے نہیں ہوسکتا کہ یہ بھی دیکھتے‬
‫ہیں کہ ان فنون کے ماہرین بھی معارضہ سے عاجز آگئےہىں۔‬
‫چوتھى غلطى یہ ہے کہ‪ :‬نبوت كے احکام كو صرف‬
‫مورمعادىہ‪ ،‬ىعنى آخرت كے معامالت كے متعلق سمجھا۔ اور‬ ‫ا ُ ِّ‬
‫معاشى اُمور میں اپنے آپ کوآزاد اور مطلق العنان قراردے دیا‪،‬‬

‫‪51‬‬
‫حاالنكہ نصوص اس خىال کی صاف تکذیب کررہی ہیں‪ ،‬چنانچہ‬
‫هللا تعالى نے ارشاد فرماىا ہے‪ :‬ﮋﭑﭒ ﭓﭔ ﭕپپپپﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥ‬
‫شان نزول اىك دنىاوى معاملہ‬
‫ﭦ ٹٹ ٹﭪﮊَ[األحزاب]۔ اور اس آىت كا ِّ‬
‫ہى ہے۔‬
‫ث مباركہ مىں آتا ہے كہ ‪ :‬آپ ﷺ جب مكہ‬
‫اور اىك حدى ِّ‬
‫مكرمہ سے ہجرت كر كے مدىنہ طىبہ تشرىف الئے‪ ،‬تو مدىنہ كے‬
‫باشندوں كو تابىر ِّ نخل كر تے دىكھا‪ ،‬جس كى تركىب ىہ ہوتى‬
‫تھى كہ كھجوروں كے درختوں مىں كچھ درخت نَر ‪ ،‬اور كچھ‬
‫درخت مادہ ہوتے ہىں۔ تو جب ان درختوں پر بُور نكلنے كا موسم‬
‫آتا‪ ،‬تو نر درختوں كا بُور لے كر‪ ،‬اسے مادہ كھجور كے درختوں‬
‫تأبىر‬
‫كى جانب اچھاال كرتے‪ ،‬جس سے زىادہ پھل پڑتا تھا۔ اسے ِّ‬
‫نخل كہتے ہىں۔ بادى النظر مىں تأبىر نخل كرتے دىكھا جائے تو‬
‫معلوم ہوتا ہے كہ ىہ صرف وہمى سى چىز ہے‪ ،‬حقىقت كچھ نہىں‬
‫ہے۔ اسى وہم سے بچانے كے لىے آپ ﷺ نے تأبىر نخل سے منع‬
‫فورا ہى اس سے رك گئے‪ ،‬لىكن اس سال‬
‫ً‬ ‫فرما دىا۔ صحابہ كرام‬
‫كھجور كا پھل كم آىا۔ چنانچہ صحابہ نے اس كى كارگزارى گوش‬
‫گزار كر دى كہ اس سال تأبىر نخل سے منع فرما دىا گىا تھا‪ ،‬اس‬
‫لىے ہم نے نہىں كىا‪ ،‬لىكن اس كى وجہ سے پھل كم آىا ہے۔ تو‬
‫اس موقعے پر آپ ﷺ نے ارشاد فرماىا كہ ‪« :‬أنتم َأعلم َبأمورَ‬
‫دنياكمَ»‪ ،‬كہ‪( :‬اپنے دنىاوى امور كو سر انجام دىنے كا طرىقہ تم‬
‫زىادہ بہتر جانتے ہو)۔‬
‫ث تأبىر سے ىہ شبہ پڑ گىا ہے‬
‫تو بعض لوگوں كو اس حدى ِّ‬
‫كہ ‪ :‬دىن كا تعلق دنىاوى امور سے نہىں‪ ،‬بلكہ صرف آخرت كے‬
‫امور سے ہے۔‬
‫توان كا ىہ شبہ كرنا بھى درست نہىں ہے‪ ،‬كىوں كہ اس‬
‫حدىث مىں تو ىہ قىد ہے كہ‪ :‬جو دنىا كى بات بطور رائے اور‬
‫مشورہ كے فرمائى جاوے‪ ،‬نہ ىہ كہ بطور حكم كے فرمائى‬
‫جائے‪ ،‬تو اس كو تم خود بہتر طرىقے سے سر انجام دے سكتے‬
‫ہو۔‬

‫‪52‬‬
‫اور سمجھنے مىں آسانى كے لىے اس كى عقلى نظىر ىہ‬
‫ہے كہ ‪ :‬ہم ملك كے حكمرانوں كو دىكھتے ہىں كہ قوانىن مىں‬
‫مىں بھى دست اندازى‬ ‫ت باہمى‬
‫ہمارے بالكل ذاتى اور معامال ِّ‬
‫كرتے ہىں‪ ،‬تو كىا حقىقى حاكم كو بھى اس كا حق نہىں ہو سكتا‪!..‬؟۔‬
‫اور اسی چوتھى غلطى كى بنىاد پر ایک پانچویں غلطى‬
‫ىہ ہوتى ہےكہ ‪ :‬وہ شرعى احکامات جومعامالت سے متعلق ہیں‪،‬‬
‫ہر زمانے میں قابل تبدىل سمجھا جاتا ہے۔سو اگر تو یہ احکام‬
‫مقصود نہ ہوتے‪ ،‬جیسا کہ چوتھی غلطی کا حال ہے‪ ،‬اور پھر‬
‫اىسى بات كے قائل ہوتے‪ ،‬تو واقعۃ اس مىں مضائقہ نہ تھا۔ لىكن‬
‫جب ان دنىاوى امور كے احكامات كا مقصود ہونا بھی ثابت ہے‪،‬‬
‫جیسا کہ چوتھى غلطى كے دور كرنے مىں ثابت ہو گىا‪ ،‬تو اب‬
‫اس بات كا قائل ہونے کى كوئی گنجائش باقى نہیں ہےكہ‪:‬‬
‫«معامالت سے متعلق احكامات شرعىہ قابل تبدىل ہىں»۔‬
‫باقى رہا ىہ عقلى شبہ ‪ ،‬کہ جب زمانے کے بدلنے‬
‫سےمصلحتىں بدلتى رہتى ہیں ‪،‬اور اسی بناپر شرىعتونمىں نسخ‬
‫اور تبدىلى ہوتى آئى ہے‪ ،‬تو ىہ كىسےہوسکتا ہے کہ حضرت‬
‫سرور دوعالم ﷺ تک کل چھ‬
‫ِّ‬ ‫عىسى علىہ السالم سے حضوراكرم‬
‫سوسال کا فاصلہ ہے‪ ،‬اس مدت میں تو مصالح مقتضیۂ تبدیل کے‬
‫احکام بدل گئے‪( ،‬ىعنى ان چھے سو سالوں مىں تو بعض مصالح‬
‫اىسے تھے كہ ان كا تقاضا ىہ ہوا كہ احكام بدلے جائىں‪ ،‬اور‬
‫احكام بدل دىے گئے)‪ ،‬اور آپ ﷺ كے زمانے سے لے كر اس‬
‫وقت تک‪ ،‬اس عرصے سے دو گنى مدت سے بھى زىادہ عرصہ‬
‫گزر گىا‪ ،‬اور اب تک ان مصالح مىں كوئى تبدىلى نہىں ہوئى۔‬
‫تو اس کا جواب یہ ہے کہ‪ :‬اگر قانون كو بنانے واال‬
‫اور وضع كرنے واال‪،‬اىسا كامل حكمت واال ‪ ،‬اور عالم الغیب‬
‫ہو‪،‬تو ممکن ہے کہ جب وہ چاہے اىسے قوانین بنادے جن میں‬
‫قىامت تك آنے والے تمام زمانوں كى مصلحتوں كى رعاىتوں كا‬
‫لحاظ ركھا گىا ہو۔‬
‫اور اگر زمانے كے واقعات کو دیکھ کر شبہ کیا جائے‬

‫‪53‬‬
‫کہ‪ :‬ہم اس وقت كھلی آنکھو ں سے دیکھتے ہیں کہ شریعت پر‬
‫عمل کرنے سے بہت سے كاموں میں تنگی پیش آتی ہے‪ ،‬جس‬
‫سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شرعى احکام اِّس زمانے کے حاالت‬
‫كے مناسب نہیں۔‬
‫تو اس کا حل یہ ہے کہ‪ :‬قانون كى تنگى كا حكم اس وقت‬
‫صحىح ہو سكتا ہے کہ جب سب لوگ اس قانون پر عمل كر رہے‬
‫ہوں اور پھر کام اٹكنے لگىں۔ سوكوئى شخص اس بات كو ثابت‬
‫نہیں کرسكتا۔ اور جو تنگى اس وقت پیش آرہی ہے‪ ،‬اس کا سبب‬
‫یہ ہے کہ عمل نہ كرنے والے بہت زیادہ ہیں‪ ،‬اور عمل كرنے‬
‫والے بہت كم ۔ جب شرىعت پر عمل كرنے والے ان تھوڑے سے‬
‫لوگوں کو‪ ،‬شرىعت پر عمل نہ كرنے والے بہت زىادہ لوگوں سے‬
‫سابقہ پڑے گا ‪ ،‬تو معامالت مىں کشاکشی تو ضرور ہوگی۔ تو پتہ‬
‫طرز معاشرت ہے ‪،‬نہ کہ شرىعت‬
‫ِّ‬ ‫چال كہ اس تنگى كى بنىاد ہمارا‬
‫كے احکام۔‬
‫جىسے‪ :‬كوئى طبیب كسى مریض کو دس چیزیں کھانے‬
‫کو بتاتا ہ‪ ،‬لىكن اس کے گاؤں میں ایک بھی نہیں ملتی۔ تو یہ تنگى‬
‫طب كے علم میں نہیں ہوئی‪ ،‬بلكہ اس قریہ (ىعنى بستى)کی‬
‫تجارت میں ہوئی۔ اور كبھى تو اىسا ہوتا ہے كہ واقعى تنگى نہىں‬
‫ہوتى‪ ،‬محض اپنے ذاتی ضرر سے تنگی کا شبہ ہوجاتا ہے۔ تو‬
‫كون سا قانون اىسا ہے جس مىں عام عوام كى سہولت اور‬
‫مصلحت كى رعاىت كرنے كى وجہ سے اس قسم كا ذاتی ضرر‬
‫پىش نہ آ جاتا ہو‪!!..‬؟۔‬
‫چھٹى غلطى احکام کے متعلق بعض لوگوں کو یہ ہوتی‬
‫ہے کہ‪ :‬وہ اپنى رائے‪ ،‬اور اپنے ذہن سے شرىعت كے احکام‬
‫كى علل غائىہ كو تراش لىتے ہىں‪ ،‬اور پھر اپنے ذہن سے تراشى‬
‫ہوئى علتوں كے وجود اور عدم وجود پر ‪،‬شرعى احكامات كے‬
‫وجود اور عدم وجود كو دائر سمجھتے ہىں۔اور اس حركت كا‬
‫احكام منصوصہ مىں تصرف کرنےلگتے‬ ‫ِّ‬ ‫نتىجہ ىہ ہوتا ہے كہ‬
‫ہیں۔ چناں چہ بعض لوگوں كے بارے مىں ىہ سننے مىں آىا كہ ‪:‬‬

‫‪54‬‬
‫کہ اُنھوں نے محض نظافت كو وضو کی علت ِّ غائىہ سمجھ لىا‪،‬‬
‫اور جب اپنے آپ کونظیف دیکھا تو وضوکی حاجت ہى نہ‬
‫سمجھى‪ ،‬اور وضو كے بغىر ہى نمازشروع کردی۔‬
‫اور بعض لوگوں نے تہذیب اخالق كو نماز کی علت ِّغائىہ‬
‫ب اخالق كے حصول کو مقصود سمجھ‬
‫سمجھ لىا‪ ،‬اور بس تہذى ِّ‬
‫کر نماز كى ادائى بالكل اڑادی۔ اسی طرح روز ے مىں‪ ،‬زكاة مىں‬
‫اور حج میں تصرفات کىے۔‬
‫اور اسی طرح نواہی (ىعنى منع كى گئى چىزوں) كا‬
‫معاملہ بھى ہے‪ ،‬كہ سود ‪ ،‬اور تصویر وغیرہ مىں تصرف کیا‪،‬‬
‫اور گوىا تمام شریعت کو باطل کردیا۔‬
‫اور عالوہ اس کے کہ اس کا الحاد ہونا ظاہر ہے‪ ،‬خود‬
‫اس تقریر کے تمام تر مقدمات اىسے دعوے ہىں جن كى كوئى‬
‫دلیل نہیں ہے۔ کیا ممکن نہیں ہے کہ بہت سے احکام تعبدی ہوں‪،‬‬
‫کہ ان کی اصلی غایت امتثا ِّل امر سے ابتالئے مكلف ہو‪(،‬ىعنى‬
‫ان احكام كى اصلى غاىت اور مقصود بس ىہ ہو كہ بندوں كو ان‬
‫عبادات كا حكم دے كر امتحان لىا جائے كہ كون سا مكلف شخص‬
‫حكم كو پورا كرتا ہے‪ ،‬اور كون حكم كو پورا نہىں كرتا)۔ اور اس‬
‫غاىت كے عالوہ جو غایات تجویز کى گئى ہیں‪ ،‬اس کی کیا دلیل‬
‫ہے کہ وہى غایت ہوں‪!..‬؟ ۔ممکن ہے وہ غایات ایسے آثار ہوں‬
‫جو ان احکام كى نوعى صورت ہى پر مرتب ہوتے ہوں‪ ،‬جس‬
‫طرح بعض دوائىں‪( ،‬بلکہ غور كىا جائے تو تمام دوائىں) مؤثر‬
‫بالخاصیت ہوتی ہیں۔‬
‫پھر یہ بھى تو ممكن ہے کہ کسی کی سمجھ میں كچھ آئے‬
‫‪ ،‬اورکسی کے خیال میں كچھ آئے‪ ،‬تو ایک رائے کودوسری‬
‫رائے پرترجىح دىنےکی کیا دلىل ہے؟۔ چنانچہ اس قاعدے‪ِّ « :‬إذَا‬
‫ساقَ َ‬
‫طا» كى ُرو سے دونوں كے رائےکوساقط قرار دے‬ ‫ضا‪ :‬ت َ َ‬ ‫تَعَ َ‬
‫ار َ‬
‫نفس احكام ہى منعدِّم اور منہدم ہوجائىں گے۔ تو کیا کوئی‬
‫کر‪ِّ ،‬‬
‫عقل مند معتق ِّد ملت اس کا قائل ہوسکتا ہے؟۔‬
‫اور اسی بنىادى غلطى كى شاخوں مىں سے اىك غلطى‬

‫‪55‬‬
‫ىہ ہے کہ مخالف مذہب کے مقابلے میں اسى طرح كى علتىں بىان‬
‫کر کے فروعى احکام كو ثابت کیا جاتا ہے۔ سواس میں بڑی‬
‫خرابی یہ ہے کہ علتىں تو محض تخمىنى اور اندازے)ہو تى‬
‫ہیں۔اگر ان میں کوئی خدشہ نكل آئے‪ ،‬تو اصل حكم مختل ٹھہرتا‬
‫طرز عمل اختیار كرنا تو مخالفین کو احکام كے‬
‫ِّ‬ ‫ہے‪ ،‬تو اىسا‬
‫ابطال کی گنجائش دینا ہے۔‬
‫اور موٹی بات تو یہ ہے کہ یہ قوانین ہیں‪ ،‬اور قانون اور‬
‫ضابطے میں کوئی اسرار نہیں ڈھونڈاکرتا۔ اور نہ ہى‬
‫اسرار ِّمزعومہ پر قانون میں تغىر و تبدىلى ‪ ،‬ىا اس قانون كوچھوڑ‬
‫دىنے کا اختیار ہوا كرتا ہے۔ ہاں! خود قانون بنانے والے کو یہ‬
‫اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔‬
‫اور بعض مجتہدین نے جو بعض احکام میں علتىں تالش‬
‫كر كے نكالى ہىں‪ ،‬كوئى شخص اس سے دھو کا نہ کھائے۔ پہلى‬
‫بات تو ىہ ہے كہ‪ :‬وہاں كچھ مسائل اور امور اىسے تھے جن مىں‬
‫نصوص ساكت اور خاموش تھىں‪ ،‬اور نصوص كى روشنى ہى‬
‫مىں حكم كو متعدى كرنے كى ضرورت تھى۔ اور دوسرى بات‬
‫ىہ كہ‪ :‬ان کواس قسم كے مسائل كو حل كرنے کا سلیقہ تھا۔ اور‬
‫یہاں دونوں باتىں مفقود ہىں‪ ،‬كہ نہ تو مسائل كے تعدىہ كى‬
‫ضرورت ہے‪ ،‬نہ ہى مدعى حضرات كو سلىقہ ہے۔ اور اس كے‬
‫ساتھ ساتھ كم علمى‪ ،‬اور اس سے بڑھ كر نفسانى خواہشات كى‬
‫اتباع كرنا‪ ،‬مسائل كى علتوں كو جاننے مىں بڑا حاجب اور ركا‬
‫وﭦ ہے۔‬
‫ساتویں غلطى جو سارى غلطىوں سے قبىح ہے‪ ،‬وہ ىہ كہ‪:‬‬
‫بعض لوگ نبوت كے منكر شخص کی نجات کے قائل ہیں۔ وہ‬
‫کہتے ہیں کہ‪ :‬خود انبیاء علىہم السالم بھی توحید ہی کے لىے آئے‬
‫ہیں۔تو جس کو اصل مقصود حاصل ہو جائے‪ ،‬تو غیرمقصود‬
‫چىز کا انکار اس کو نقصان نہىں پہنچا سكتا۔‬
‫اس قبىح ترىن غلطى كا مختصر سا نقلى رد كرنے كے‬
‫لىے تو وہ نصوص ہى كافى ہیں جو نبوت كے جھٹالنے والوں‬

‫‪56‬‬
‫كے ُخلُ ْود فِّي النَّار‪(،‬ىعنى ہمىشہ ہمىشہ جہنم كى آگ مىں رہنے )‬
‫پر داللت كرتى ہىں۔‬
‫اور اس غلطى كا عقلى رد یہ ہے کہ ‪ :‬حقیقت مىں رسول‬
‫هللا كو جھٹالنے واال‪ ،‬هللا كو جھٹالنے واال بھی ہے‪ ،‬کیوں کہ وہ‬
‫ﮋ ﭴ ﭒﭓﭔﮊَ[الفتح‪ ،]29َ:‬وغیرہ نصوص کی تکذیب کرتا ہے۔‬
‫اور عرفى نظیر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص شاہ جارج‬
‫پنجم کوتومانے‪ ،‬مگر گورنر جنرل سے ہمیشہ مخالفت ومقابلے‬
‫سے پیش آئے۔ کیاوہ شاہ کے نزدیک کسی قرب یا رتبے یا معافی‬
‫کے الئق ہوسکتا ہے‪!!...‬؟۔‬
‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫انتبا ِّہ چہارم‪:‬‬


‫ق قرآن من جملہ اصول اربعۂ‬ ‫متعل ِّ‬
‫شرع‬
‫ىہ ثابت ہو چكا ہے كہ شرىعت كى چار اصلىں اور بنىادىں‬
‫ہىں‪:‬‬
‫قىاس۔‬ ‫ث رسول۔ اجماعِّ امت۔‬
‫حدى ِّ‬ ‫كتاب هللا۔‬
‫اور مجتہد كى خاص شرائط ہىں‪ ،‬ان سب مىں كچھ كچھ‬
‫غلطىاں كى جا رہى ہىں۔‬
‫کتاب هللا کےمتعلق دوغلطیاں ہورہی ہیں‪:‬‬
‫کوقرآن مجىد ہى میں‬ ‫ایک یہ کہ‪ :‬احکامات‬
‫منحصرسمجھا جاتا ہے۔ اس غلطى کا حاصل دوسرے اصول کا‬
‫انکار ہے۔‬

‫‪57‬‬
‫دوسرے یہ کہ ‪ :‬قرآن مىں مسائل سائنس پر منطبق ہونے‬
‫كى‪ ،‬اور مسائل سائنس پر مشتمل ہونے كى كوشش كى جاتى ہے‪،‬‬
‫(ىعنى اس بات كى كوشش كى جاتى ہے كہ اىك تو ىہ ثابت كىا‬
‫جائے كہ قرآن مجىد میں سائنس كے مسائل بىان ہوئے ہىں‪،‬اور‬
‫دوسرے ىہ ثابت كىا جائے كہ قرآن مجىد مىں جو مسائل بىان ہوئے‬
‫ہىں‪ ،‬وہ سائنس پر منطبق ہوتے اور مكمل فٹ بىٹھتے ہىں) ۔‬
‫پہلی غلطی کا جواب وہ نصوص ہیں جن سے بقیہ اصول‬
‫کا حجت ہونا ثابت ہوتا ہے‪ ،‬اور اہ ِّل اصول نے انہىں خوب‬
‫تفصىل سے بىان کیا ہے۔ اور اسی غلطی کی اىك شاخ یہ ہے کہ‬
‫جس گناہ کے کرنے کو جى چاہتا ہے ‪،‬اس سے منع کر دىا‬
‫جائے‪ ،‬تو اس وقت یہ سوال کردیا جاتا ہے کہ‪ :‬قرآن میں اس‬
‫كى ممانعت دکھالؤ۔چناں چہ ڈاڑھی کے متعلق اسى قسم كے‬
‫سواالت اخباروں میں شائع ہوئے ہیں۔‬
‫پھر ىہ بات بعض لوگوں كى فطرت میں اس حد تك داخل‬
‫ہوگئى ہے کہ جب کوئی مذہب كا مخالف کسی بات کوقرآن مجىد‬
‫سے ثابت کرنے کا مطالبہ کرتا ہے‪،‬تو ىہ لوگ اس مطالبے كو‬
‫صحىح‪ ،‬اور اس كے قرآن سےاِّثبات کواپنے ذمے الزم سمجھ‬
‫کر اس کی تالش میں لگ جاتے ہیں۔ اور جو لوگ خود اس پر‬
‫قادر نہیں ہوتے كہ قرآن سے تالش كر سكىں‪ ،‬تو علماء کو مجبور‬
‫کرتے ہیں کہ بس‪ ،‬كہىں قرآن ہی سے ثابت کردو۔‬
‫تو جب اس فرع كى بنىاد ہى كا غلط ہونا ثابت ہو چكا ہے‪،‬‬
‫ع َلى ال َفا ِّسد ہونا بھی ظاہر ہوگیا۔ اب‬
‫تو اس فرع كا ِّبنَا ُء ال َفا ِّسد َ‬
‫مستقل رد كرنے کی ضرورت باقى نہیں رہى۔‬
‫پھرىہ بھى ہے كہ اس دروازے کا ىوں كھول دىنا‪ ،‬نہایت‬
‫ہی بے احتیاطی ہے۔ اور اس کا انجام خود ارکان ِّاسالم کو شرع‬
‫سے ثابت نہ ماننا ہو گا۔ ۔ کیا کوئی شخص پانچوں نمازوں کی‬
‫كل رکعات کا عدد قرآن مجىد سے ثابت کرسکتا ہے؟ کیا کوئی‬
‫شخص زكاة كا نصاب ‪،‬اور واجب مقدار کا اِّثبات قرآن مجىد سے‬
‫کرسکتا ہے؟۔‬

‫‪58‬‬
‫اور اىسے ہى‪،‬اس قسم كے مطالبے كا غیر معقول ہونا ایك‬
‫حسى مثال سے بھى سمجھ میں آسکتا ہے‪ ،‬کہ اگر كوئى شخص‬
‫عدالت مىں اپنے دعوے كے ثبوت میں گواہ پیش کرے‪،‬تو مدعا‬
‫علیہ کواس گواہ پر قانونی جرح کا اختیار تو حاصل ہے۔ لیکن‬
‫اگر گواہ پر جرح ہوئى‪ ،‬او ر وہ جرح میں صاف رہا ‪،‬تو مدعى‬
‫كو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ عدالت سے یہ درخواست کرے کہ‪:‬‬
‫اگرچہ گواہ غیر مجروح اور معتبر ہے‪ ،‬مگر میں تو اس دعوے‬
‫کو تب تسلیم کروں گا کہ جب اس گواہ كى بجائے فالں معزز‬
‫عہدے دار‪ ،‬یا فالں رئیس اعظم ىا وزىر اعظم ىا گورنر آ كر‬
‫گواہی دے۔ تو کیا عدالت اىسی درخواست کو قابل پذیرائی‬
‫سمجھے گی۔‬
‫اسی راز کے سبب‪ ،‬فن ِّمناظرہ کا ىہ مسئلہ قرار پایا ہے‬
‫کہ مد عی سےنف ِّس دلیل کا مطالبہ ہوسکتا ہے۔ اور نیز ىہ بھى‬
‫تصریح کی ہے کہ دلیل کی نفی سے مدلول کی نفى الزم نہىں‬
‫آتی‪ ،‬کیوں کہ دلیل ملزوم ہے‪ ،‬اور مدلول الزم ہے‪ ،‬اور اگر ملزوم‬
‫كى نفى كر دى جائے‪ ،‬تو ىہ الزم كى نفى كو مستلزم نہیں ہے۔‬
‫تو جو شخص دعوی کرے کہ فالں ا َمر ىا فالں بات شرع سے‬
‫ثابت ہے‪ ،‬اس کو اختیار ہے کہ شرع کی جس دلیل سے چاہے‬
‫اس کو ثابت کردے۔کسی کو اس مدعى سے اس طرح كا بے تكا‬
‫مطالبہ كرنے کا حق نہىں پہنچتا کہ م ً‬
‫ثال‪ :‬ىہ بات قرآن ہی سے‬
‫ثابت کرو۔‬
‫ہاں !یہ بات تسلىم ہے کہ یہ چاروں دالئل قوت میں برابر‬
‫نہىں ہىں۔ لىكن جىسا فرق اور تفاوت ان چاروں دالئل کى قوت‬
‫مىں ہے‪ ،‬وىسا ہى تفاوت ان كے مدلوالت مىں ہےکہ‪:‬‬
‫ي الثُّبُوت َوالد ََّال َلة ہىں‪،‬‬
‫‪ ‬بعض دالئل قطع ُّ‬
‫ت َوالد ََّاللَة ہىں‪،‬‬ ‫ي الثُّبُو ِّ‬ ‫ظ ِّن ُّ‬‫‪ ‬اور بعض دالئل َ‬
‫ي الد ََّال َلة ہىں‪،‬‬
‫ظنِّ ُّ‬ ‫ي الثُّبُوت َ‬ ‫‪ ‬اور بعض دالئل قطع ُّ‬
‫ي الد ََّال َلة ہىں‪،‬‬ ‫ي الثُّبُوت قَط ِّع ُّ‬ ‫‪ ‬اور بعض دالئل َ‬
‫ظ ِّن ُّ‬
‫لیکن كسى كو یہ منصب بھی حاصل نہیں ہے کہ ظنى‬

‫‪59‬‬
‫اَحكام کونہ مانے۔ کیا کسی ایسے حاکم ‪ ،‬كہ جس کے فىصلے‬
‫كى اپىل نہیں ہوسکتى‪ ،‬كے بہت سے فىصلے محض اسى بنا پر‬
‫صادر نہىں ہوتے کہ اس حاكم نے مقدمۂ ِّ مرجوعہ (ىعنى جس‬
‫مقدمے كا فىصلہ كروانے كے لىے اس حاكم كى طرف رجوع‬
‫كىا گىا ہے)‪ ،‬کوکسی قانونى دفعہ میں داخل قرار دیا ہے ‪،‬اور وہ‬
‫دفعہ ىقىنى ہے ‪،‬مگر اس دفعہ مىں داخل کرناظنى ہے‪ ،‬جس کا‬
‫ي الد ََّاللَة ہونا ہے‪ ،‬لىكن اس كے‬ ‫ي الثُّبُوت َ‬
‫ظنِّ ُّ‬ ‫حاصل اس کا قطع ُّ‬
‫نہ ماننے سے جو نتىجہ ہو سكتا ہے اسے ہر شخص جانتا ہے۔‬
‫ىہ تقرىر پہلى غلطى كے متعلق تھى‪ ،‬جو قرآن مجىد كے بارے‬
‫مىں ہوتى ہے۔‬
‫دوسری غلطى ‪ :‬ىعنى قرآن مجىد كے بارے ىہ كوشش‬
‫كرنا كہ ‪ :‬اس کا سائنس كے مسائل پر مشتمل ہونا ثابت ہو جائے‪،‬‬
‫جیسا كہ آج کل اکثر اخباروں اور پر چوں میں اس قسم کے‬
‫مضامین دیکھنے میں آتے ہیں‪ ،‬کہ جب اہل یورپ کی سائنس كے‬
‫متعلق كوئى تحقىق دىكھى سنى‪ ،‬تو جس طرح بن پڑا‪ ،‬اس کو‬
‫كسی آیت کا مدلول بنادیا‪ ،‬اور اس کو اسالم کی بڑی خیر خواہی‪،‬‬
‫اور قرآن کے لىے بڑے فخر کی بات ‪،‬اور اپنی بڑی ذکاوت‬
‫سمجھتے ہیں۔ اور اس غلطی میں تو بہت سے اہل علم کو بھی‬
‫مبتال دیکھا جاتا ہے۔‬
‫اس میں قرآن مجىد كے بارے مىں ایک غلطی تو ىہی‬
‫ہے كہ قرآن کے سائنس كے مسائل پرمشتمل ہونے کوقرآن کا‬
‫کمال سمجھا۔ اور وجہ اس کی یہ ہوئی کہ قرآن مجىد کے اصل‬
‫موضوع پرنظر نہیں کی گئی۔‬
‫اصل میں قرآن مجىد نہ تو سائنس کی کتاب ہے‪ ،‬نہ تاریخ‬
‫کی‪ ،‬اور نہ ہى جغرافیے کی۔ وہ اصالح ِّارواح کی ایک کتاب‬
‫ہے ۔ جس طرح طب كى كسى کتاب مىں كپڑے بننے اور جوتے‬
‫بنانے كى صنعت و حرفت كا ذكر نہ ہو‪ ،‬اور ان شعبوں كى تحقىق‬
‫سے خالى ہو‪ ،‬توىہ طب كى كتاب کے لىے موجب ِّنقصان نہیں‬
‫ہے‪،‬بلکہ اگر غور کیا جائے تو اس طبى كتاب كا‪ ،‬كپڑے جوتے‬

‫‪60‬‬
‫بنانے كے طرىقوں پر مشتمل ہونا ‪ ،‬خلط مبحث كى وجہ سے‬
‫خود ایک در جے میں موجب نقصان ہے ‪ ،‬اور ان دوسرى ابحاث‬
‫سے خالی ہونا کمال كى بات ہے‪ ،‬بالكل اسی طرح قرآن مجىد‬
‫‪،‬جو کہ طب روحانی ہے‪ ،‬ان سائنسى مسائل سے خالی ہونا‪،‬‬
‫اس کے لىے كچھ بھى نقصان دہ نہیں ‪ ،‬بلکہ یک گونہ کمال ہے۔‬
‫البتہ اگر كبھى كہىں‪ ،‬اس طب ِّ روحانی کی ضرورت سے‬
‫سائنس كے كسى جزئى مسئلے كا ذكر ہو جائے‪ ،‬تو وہ اس‬
‫مكملہوتا ہے۔مگر بہ قاعدۂ ِّ‬
‫ِّ‬ ‫روحانى عالج كى ضرورت كا‬
‫ي یَتَقَد َُّر بِّقَدَ ِّر الض َُّر ْو َرة»‪،‬ضرورت كى مقدار سے‬
‫«الض َُّر ْو ِّر ُّ‬
‫زىادہ كا ذکر نہىں ہوگا۔‬
‫چناں چہ توحید (جو كہ اَرواح كى اصالح كے بہت بڑے‬
‫اور بنىادى مقدمات مىں سے اىك ہے)‪ ،‬کے اِّثبات كے لىےآسان‬
‫اور فہم كے قرىب ترىن طرىقہ مصنوعات كے ذرىعے توحىد پر‬
‫استدالل كرناہے۔ اسى لىے کہیں کہیں اجمال اور اختصار كے‬
‫ساتھ آسمان وزمىن ‪ ،‬انسان وحىوان وغىرہ كى پىدائش كے‬
‫مضمون كا بىان ہوا ہے۔ اور چوں کہ تفصیل کی ضرورت نہىں‬
‫تھی‪ ،‬اس لىے اس کا ذکر نہیں ہوا۔‬
‫غرض سائنس کے مسائل كو بىان كرنا‪ ،‬قرآن مجىد كے‬
‫مقاصد مىں سے نہیں ہے۔ البتہ اگر كبھى ضرورت كى بنا پر‪،‬كسى‬
‫مقصود كى تائىد كے لىے ‪،‬جو كچھ قطعى داللت كے ساتھ بىان‬
‫كىا گىا ہے وہ یقینى اورقطعى طور پر صحیح ہے۔ کسی دوسری‬
‫دلىل سے كوئى اىسى بات ثابت ہو جو قرآن كے بىان كے خالف‬
‫ہو‪ ،‬تو اس کے خالف کا اعتقاد ركھنا جائز نہیں۔ اگر کوئی‬
‫دوسرى دلىل قرآن مجىد كے معارض ہوگی‪ ،‬تو تحقیق كے بعد‬
‫‪ ،‬ىا تو وہ دلیل ہی مخدوش ہوگی‪ ،‬یا پھر تعارض كا شبہ ہوگا‪،‬‬
‫حقىقت مىں تعارض نہ ہو گا۔‬
‫ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اىك تو آىت كى (اپنے معنى پر )‬
‫داللت قطعی نہ ہو‪ ،‬اور دوسرے ىہ كہ اس کے خالف پر صحىح‬
‫دلىل قائم ہو‪ ،‬تو وہاں قرآن كى نص کوظاہرى معنى سے پھىر‬

‫‪61‬‬
‫(كر تاوىل كر ) لىں گے‪ ،‬جىسا كہ اصول ِّموضوعہ نمبر (‪)7‬میں‬
‫تحقیق سے بىان ہوا۔‬
‫دوسری غلطی یہ ہے کہ‪ :‬اس اوپر کی تقریر سے معلوم‬
‫ہو گىا کہ اىسے سائنسى مسائل كا بىان كرنا قرآن مجىد کے‬
‫مقاصد مىں سے نہیں ‪ ،‬بلکہ مقصود كے مقدمات مىں سے ہے۔‬
‫اور ظاہر ہے کہ استدالل میں مقدمات اىسے ہونے چاہئىں جو‬
‫دعوے كو ثابت كرنے سے پہلے ہى مخاطب کے نزدیک تسلىم‬
‫شدہ ہوں‪ ،‬یا بدىہى ہوں‪ ،‬ىا دلىل كے ذرىعے تسلىم كروا لىے جائىں‪،‬‬
‫ورنہ ان مقدمات سے اپنے دعوے پر استدالل ہی نہىں ہو سکے‬
‫گا۔‬
‫جب یہ بات معلوم ہوگئی‪ ،‬تو اب سمجھنا چاہىے کہ اگر‬
‫یہ تسلىم كر لىا جائے كہ ىہ جدید سائنسى تحقیقات ہى (جن كا‬
‫سائنس دانوں كو اس دور مىں پتہ چال ہے) ‪ ،‬ان قرآنى آیات کے‬
‫مدلوالت و مفہومات ہىں‪ ،‬اور جىسا كہ ظاہر ہے قرآن كے سب‬
‫سے پہلے مخاطب عرب کے لوگ تھے‪ ،‬جو ان تحقیقات سے‬
‫(سرزمىن عرب كے غىر‬
‫ِّ‬ ‫بالكل نا آشنا تھے‪ ،‬تو الزم آئے گا کہ‬
‫سائنس دان) مخاطبىن كے سامنے اىسے مقدمات كے ذرىعے‬
‫استدالل كىا گىا جو نہ تو مخاطب كے نزدىك تسلىم شدہ تھے‪ ،‬نہ‬
‫بدىہى تھے‪ ،‬اور نہ ہى ان كے نزدىك ثابت تھے‪ ،‬گوىا ان مقدمات‬
‫میں استدالل کی صالحیت ہی نہیں ہے۔ تو هللا كے کالم کے‬
‫طرزاستدالل پر کتنا بڑا دھبہ لگے گا۔‬
‫تیسری خرابی اس میں یہ ہے کہ‪ :‬یہ تحقیقا ت كبھی غلط‬
‫بھی ثابت ہوتی رہتی ہیں۔ سواگر ان کوقرآن مجىد كا مدلول بنایا‬
‫جائے ‪،‬تو اگر كسی وقت كسى تحقیق کا غلط ہونا ثابت ہوگیا‪ ،‬اور‬
‫كتابوں مىں قرآن مجىد كى تفسىر كے ضمن مىں اہل اسالم کا‬
‫اقرار مدون ہوگا کہ قرآن مجىد کا دعوى ىہ ہے‪ ،‬تو اس وقت ایک‬
‫ادنی ملحد بھى نہایت آسانی سے قرآن مجىد كى تکذیب پر قادر‬
‫ہو سكے گا کہ‪ :‬قرآن مجىد کا یہ مضمون غلط ہے۔ اور كسى‬
‫جزو کا ارتفاع ‪ ،‬كل كے ارتفاع كو مستلزم ہے‪ ،‬تو قرآن صادق‬

‫‪62‬‬
‫نہ رہے گا۔ اس وقت کىسی دشواری ہوگی۔‬
‫اور اگر کوئی شخص یہ احتمال نکالے‪ ،‬جیسا کہ كچھ‬
‫لوگوں نے دعوی بھی کیا ہے کہ‪ :‬قرآن میں یہ کمال ہے کہ جس‬
‫زمانے میں جو بات ثابت ہو‪ ،‬اس کے الفاظ اسی کے موافق‬
‫ہوجاتے ہیں۔تو اس بناپر تو یہ الزم آتا ہے کہ قرآن مجىد کا کوئی‬
‫مدلول بھی قابل اعتمادنہىں ہے‪ ،‬ہر مدلول میں اس كى نقىض كا‬
‫احتمال بھی موجود ہے۔ تو یہ تو اىسی بات ہوئی جىسے کسی‬
‫چاالک نجومی کی حکایت ہے کہ‪ :‬اس سے جب پوچھا جاتا کہ‬
‫ہمارے لڑکا ہوگا یا لڑکی؟۔ وہ کہہ دیتا کہ‪ :‬لڑکا نہ لڑکی۔ اور جو‬
‫صورت واقع ہوتی‪،‬لب ولہجے كے اختالف كى بنا پر عبارت‬
‫کواس پر منطبق کردیتا۔ کیا اىسی کتاب کو ہدایت نامہ کہنا صحىح‬
‫ہو گا‪!!..‬؟۔‬
‫چوتھی خرابی اس میں یہ ہے ‪،‬جو بالکل ہی غیرت کے‬
‫خالف ہے‪ ،‬کہ اس صورت میں اگر یورپ كے محققىن یہ كہیں‬
‫کہ دیکھو! قرآن مجىد کو نازل ہوئے اتنا زمانہ ہو گىا ہے‪ ،‬مگر‬
‫آج تک اسے کسی نے‪ ،‬یہاں تک کہ خود تمہارے نبى نے بھی‬
‫نہىں سمجھا۔ ہمارا احسان مانو کہ ہمارى سائنسى اىجادات كى‬
‫بدولت قرآن كى تفسىر تمہىں سمجھ میں آئی‪ ،‬تو اس کا کیا جواب‬
‫ہوگا۔‬
‫یہاں تک ان غلطیوں کا بیان تھا جو کالم هللا کے متعلق‬
‫واقع ہورہی ہیں۔ اب بقیہ دالئل کی نسبت عرض کرتا ہوں۔‬
‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪63‬‬
‫انتبا ِّہ پنجـم‪:‬‬
‫ق حدىث‪ ،‬من جملہ اصو ِّل اربعۂ‬ ‫متعل ِّ‬
‫شرع‬
‫حدیث کےمتعلق ىہ غلطى ہے کہ اس کی نسبت یہ خیال‬
‫کیا جاتا ہے کہ حدىثىں محفوظ نہیں ہیں‪ ،‬نہ الفاظ محفوظ ہىں‪،‬نہ‬
‫ان كے معانى محفوظ ہىں۔‬
‫لف ً‬
‫ظا تو اس لىے محفوظ نہىں ہىں کہ عہد ِّنبوی میں‬
‫حدىثوں كو لكھ كر جمع نہیں کیا گىا‪ ،‬محض زبانی نقل در نقل‬
‫کی عادت تھی۔ تو ایسا حافظہ کہ الفاظ تک یاد رہیں فطرت کے‬
‫سرور دو عالم‬
‫ِّ‬ ‫خالف ہے۔ اور معنى اس لىے محفوظ نہىں کہ جب‬
‫ﷺسے كچھ سنا‪ ،‬تو المحالہ اس کاكچھ نہ كچھ مطلب بھى سمجھا‬
‫‪،‬چاہے وہ مطلب آپ کی مراد کے موافق ہو یا موافق نہ ہو۔ اور‬
‫حدىث كے الفاظ تو محفوظ رہے نہىں‪ ،‬جیسا كہ اوپر بیان ہوا۔‬
‫پس اسی اپنے سمجھے ہوئے مطلب کو دوسروں کے رو برونقل‬
‫کردیا۔پس آپ کی مراد کا محفوظ رہنا بھی ىقىنى نہ ہوا۔ اور جب‬
‫نہ الفاظ محفوظ ہیں نہ معانی‪ ،‬تو حدیث حجت کس طرح‬
‫ہوگئی‪!!..‬؟۔ اور قرآنى فرقے كے شبہات كا خالصہ اور حاصل‬
‫ىہى ہے۔‬
‫اورحقیقت میں ىہ غلطى محدثین اور فقہائے سلَف کے‬
‫حاالت میں غور نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ان کو ضعف ِّحافظہ‬
‫ت خشیت میں اپنے اوپر قیاس كر لیا ہے۔ان‬
‫ت رغبت اور قل ِّ‬
‫اور قل ِّ‬
‫حضرات كا قوت ِّحافظہ‪ ،‬تو ان كثىر واقعات سے ثابت ہوتا ہے‬
‫جو معنى كے لحاظ سے متواتر ہىں۔ چناں چہ درج ذىل واقعات‬
‫سىرت‪ ،‬تارىخ ‪ ،‬اور اسماء رجال كى كتب مىں مشہور اور معروف‬

‫‪64‬‬
‫ہ ى ں‪:‬‬
‫‪ ‬حضرت ابن عباس رضى هللا عنہ کا سوشعر کے قصیدے کو‬
‫ایک بار سن کر یاد کر لینا‪،‬‬
‫‪ ‬اور حضرت امام بخاری رحمۃ هللا علىہ کا ایک مجلس میں سو‬
‫اىسى حدىثوں كو سن كر‪،‬جن كى سند اور متن كو بدل دىا گىا‬
‫تھا‪ ،‬ہرایک سنانے والے کی غلطى بتا بتا كر اسى طرح غلط‬
‫طرىقے سے سنانا‪ ،‬اور اس کے بعد ان سو حدىثوں كو صحىح‬
‫صحىح سنا دىنا‪،‬‬
‫‪ ‬اور امام ترمذى رحمہ هللا تعالى کا نا بىنا ہو جانے كے بعد‬
‫ایک راستے سے گزرتے ہوئے اىسے درخت كى شاخوں سے‬
‫جو اس وقت باقى نہ رہاتھا بچنے كے لىےسر كا جھکالینا‪،‬‬
‫اوروجہ دریافت کرنے پر وہاں درخت ہونے کی خبردینا اور‬
‫تحقىق سے اس خبر کا صحىح ثابت ہونا‪،‬‬
‫‪ ‬اور محدثین کا اپنے شیوخ کے امتحان کے لىے گا ہے گاہے‬
‫احادیث کى دہرائى کرانا‪ ،‬اور ایک حرف کی کمی بیشی نہ‬
‫نکالنا‪،‬‬
‫ت حافظہ پرداللت کرنے کے لىے کافی ہے۔‬ ‫یہ سب باتىں قو ِّ‬
‫سي ِّ ُء ال َحا ِّف َ‬
‫ظه ُروات کی‬ ‫اسماء الرجال میں نظر کرنے سے َ‬
‫روایات کو صحىح رواىات سے خارج کرنا کافی حجت ہے‪،‬‬
‫اوراس باب میں محدثین نے کافی کاوشىں کی ہىں۔‬
‫اور قوت ِّحافظہ کے عالوہ‪ ،‬چوں کہ هللا تعالی کو ا ُن سے‬
‫یہ کام لینا تھا‪ ،‬اس لىے غىبی طور پر بھی اس مادے میں ان کی‬
‫تائید کی گئی تھی۔ چناں چہ حضرت ابو ہرىرہ رضى هللا عنہ كا‬
‫ضعف حافظہ كى‬
‫ِّ‬ ‫قصہ احادیث میں وارد ہے‪(،‬كہ انہوں نے‬
‫حضور اكرم ﷺنے ان کى چادرمیں كچھ کلمات‬
‫ِّ‬ ‫شكاىت كى‪ ،‬تو‬
‫پڑھ دىے‪ ،‬اور اُنھوں نے وہ چادر اپنے سینے سے لگا لی) ۔‬
‫اور اس پر ىہ شبہ نہ كىا جائے کہ خود حدیث ہی میں تو‬
‫کالم ہورہا ہے‪ ،‬اور پھر حدیث ہی سے استدالل کیا جاتا ہے۔ اصل‬
‫بات یہ ہے کہ کالم تو احکام کی حد ىثوں میں ہے‪ ،‬اور یہ محض‬

‫‪65‬‬
‫ایک قصہ ہے۔اور اىسى احادىث علم تارىخ كى قسموں مىں سے‬
‫ہے جس سے بدون اختالف كے احتجاج كىا جاتا ہے ۔ اور اگر‬
‫اس قصے پرخالف ِّ فطرت ہونے کا شبہ ہو‪،‬تو اس کا جواب‬
‫(انتباہ ِّسوم) كے تحت معجزات كى بحث مىں ہوچکا ہے۔‬
‫پھر خود ہم کو اس میں بھی کالم ہے کہ اس قصے كو‬
‫فطرت كے خالف مانا جائے۔ مسمرىزم كےماہر لوگ‪ ،‬معمول‬
‫شخص کے متخیلہ میں اىسے تصرفات کردىتے ہیں جن سے‬
‫غیر معلوم چىزىں منکشف ہو جاتى ہىں‪ ،‬اور معلوم اشیاء غائب‬
‫اور اوجھل ہوجاتی ہیں۔ ہمارے كہنے كا ىہ مقصد نہیں ہے کہ‬
‫آپ ﷺ کا یہ تصرف اسی طرح كا تھا‪ ،‬بلکہ صرف یہ بتانامقصود‬
‫ہے کہ اس قصے كو مطلقًا فطرت كے خالف کہنا صحیح نہیں‬
‫ہے۔ اور اگر ىہ تسلىم كر بھى لىا جائے‪ ،‬تو معجزہ ہو گا‪ ،‬جس‬
‫كافىصلہ اس اس سے پہلے ہوچکا ہے۔‬
‫اور اس سب بحث كے عالوہ‪ ،‬ہم نے خوداپنے زمانے‬
‫کے قریب كےاىسے حافظے کے لوگ سنے ہیں۔ چناں چہ حافظ‬
‫رحمت هللا صاحب الہ آبادی کے حافظے کے واقعات دیکھنے‬
‫والوں سے خود مىرى مالقات ہوئى ہے‪ ،‬اور حکایتیں سنی ہیں۔‬
‫یہ تو حافظے کی کیفیت ہوئی۔‬
‫اور صحابہ كرام رضى هللا عنہم كو حدىثىں ىاد كرنے‪،‬‬
‫اور ىاد كرنے كے بعد انہىں ىاد ركھ كر آگے دوسروں تك پہنچانے‬
‫كى رغبت اس لىے تھی کہ جناب سرور ِّ دو عالم ﷺ نے اىسے‬
‫شخص کودعا دى ہے‪ ،‬چنانچہ ارشاد فرماىا‪«َ :‬نضَّر َهللا َعبدًا‪َ،‬‬
‫سمعَمقالتيَفحفظهاَووعاﻫا‪َ،‬وأدَّاﻫاَكماَسمعها»‪ ،‬تو وہ حضرات‬
‫اس دعا كو لىنے كى نہایت کوشش كىا کرتے تھے ‪ ،‬كہ ہر ممكن‬
‫حد تك حدىث كو بعَ ْینِّه ویسے ہى پہنچادیں۔‬
‫اور صحابہ كرام رضى هللا عنہم كو ىہ فكر بھى رہتى تھى‬
‫كہ كہىں اىسا نہ ہو كہ حدىث كے الفاظ مىں كسى قسم كى تبدىلى‬
‫ہو جائے۔ اور انہىں تغىر كا ىہ خوف اس لىے تھا کہ انھوں نے‬
‫سرور دو عالم ﷺ سے ىہ سن ركھا تھا کہ‪«َ:‬منَکذَبََ‬
‫ِّ‬ ‫حضور اكرم‬

‫‪66‬‬
‫ي َماَلم َأَقَلَهَ‪َ :‬فليتب َّوأ َمقعده َمن َالنَّارَ»‪،‬حتی کہ بعض صحابہ‬
‫علَ ََّ‬
‫خوف کے مارے حدیث ہی بیان نہیں کرتے تھے۔‬
‫پھر محدثین كرام نے احادىث كے مجموعے لكھے‪ ،‬تو‬
‫لمبى اور طوىل احادیث مىں بعض الفاظ كے بارے مىں تردُّد کرنا‪،‬‬
‫اور «نَ ُح ْوہُ» اور « ِّمثْلُه» وغیرہ کہنا‪ ،‬حدىث كے الفاظ كى حفاظت‬
‫كے اہتمام اور احتیاط کی صاف دلیل ہے۔اور اىك مدت اىسے ہى‬
‫گزر گئى كہ احادىث كو اسى طرح زبانى طور پر كامل احتىاط‬
‫اور اہتمام سے رواىت كىا جاتا رہا۔ پھر كتابت اور تدوىن كا دور‬
‫آىا تو سندوں كے ساتھ‪ ،‬كتابى صورت مىں حدىثوں كے مجموعے‬
‫مرتب كر لىے گئے۔‬
‫تو جب اس باب میں ہمىشہ ہى اتنی بارىك بىنى اور‬
‫چھان پھٹك كى جاتى تھى‪ ،‬تو جس زمانے مىں حدىثوں كى كتابت‬
‫اور تدوىن نہىں ہوئى تھى‪ ،‬اس زمانے مىں بھى حفاظت كا‬
‫اہتمام اىسا كامل تھا كہ صرف كتابت نہ كرنے سے احادىث كى‬
‫صحت مىں كوئى خلل نہىں آىا۔ بلکہ غور کرنے سے تو زىادہ‬
‫مفىد اور معىن ہونا سمجھ مىں آتا ہے ‪،‬كىوں كہ لكھنے والے كو‬
‫اپنى لكھى ہوئى تحرىر پر اعتماد ہوتا ہے‪ ،‬اس لىے اس كى‬
‫حافظے كى رىاضت كا موقع كم ہو جاتا ہے‪ ،‬اور معلوم ہى ہے‬
‫كہ ہر قوت ریاضت سے بڑھتی ہے۔‬
‫ہم نے ا َن پڑھ لوگوں کو‪،‬بڑے بڑے طویل وعریض‬
‫جزئیات کا حساب زبانی بتاتے اور جوڑتے دیکھا ہے‪ ،‬بخالف‬
‫خواندہ اور پڑھے لكھے لوگوں کے‪ ،‬كہ لكھے بغىر ان کو خاک‬
‫بھی یاد نہیں رہتا۔ اور اِّس وقت لوگوں کے حافظے کى كمزورى‬
‫كى ایک وجہ یہ بھی ہے۔‬
‫دوسرى وجہ وہ بھی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا‬
‫گیا ہے کہ هللا تعالی کو‪ ،‬اُن حضرات سے جو كتابت نہىں جانتے‬
‫تھے یہ کام لینا تھا‪ ،‬اس لىے انہىں بہت پختہ حافظہ دىا گىا‪ ،‬اور‬
‫ا َب تدوین احادیث ‪ ،‬اور اس كے ثمرے اورنتىجے كے طور پر‬
‫تدوىن احکام وفقہ كاكام سر انجام دىا جا چكا ‪ ،‬اس لىے بھى لوگ‬
‫ِّ‬

‫‪67‬‬
‫اس قسم كے محىر العقول حافظے سےمستغنی ہو گئے ہىں۔‬
‫اور فطرى طور پر ىہ اَمر بھى جاری ہے کہ جس وقت‬
‫جس چیز کی حاجت ہوتی ہے‪ ،‬اس کے مناسب قُوی پیدا کر دىے‬
‫جاتے ہیں۔ چناں چہ اس وقت مختلف صنعتوں اور ایجادات کے‬
‫مناسب دماغوں کا پیدا ہونا‪ ،‬اس کی تائید کرتا ہے۔‬
‫اور اس وقت حدىث كى کتابت نہ كىے جانے كى حكمت‬
‫ىہ تھى كہ قرآن مجىد اور حدیث شرىف مىں خلط نہ ہوجائے۔‬
‫جب قرآن مجىد کی پوری حفاظت ہوگئی اور خلط ملط ہونے کا‬
‫احتمال نہ رہا‪ ،‬اور مستزاد ىہ كہ مختلف فرقوں کى نفس پرستىوں‬
‫سنن‪ ،‬ىعنى حدیثوں کا جمع ہوجانا‪،‬‬ ‫کا ظہور ہوا‪ ،‬تو اس وقت ُ‬
‫اور ان كى كتابت كىا جانا أ َ ْق َرب إِّلَى ا ِّالحتِّیَاط‪،‬اور أَع َْون َ‬
‫علَى‬
‫الدیْن تھا۔ پس نہایت احتیاط سے حدىثىں جمع كى گئىں۔‬
‫ِّ‬
‫اسماء الرجال کے‬ ‫متون‪ ،‬اور‬ ‫چناں چہ اسانید ‪،‬‬
‫مجموعوں كو غور سے دىكھىں تو دل کو پورا یقین ہوجاتا ہے‬
‫کہ اقوال وافعال نبویہ‪ ،‬كسى قسم كے تغىر اور تبدل كے بغىر‬
‫اخبار احاد میں بھی جاری ہوتی‬
‫ِّ‬ ‫محفوظ ہوگئے ہیں۔ یہ تقریر تو‬
‫ہے۔ اور اگر حدیث كى كتابوں کو جمع کر کے ان کے متون‬
‫متون حدىث مىں اتحاد و اشتراك‬
‫ِّ‬ ‫اور اسانید کو دیکھا جائے تو اكثر‬
‫‪ ،‬اور اسانید میں تعدد وتكثر نظر آئے گا‪ ،‬جس وجہ سے وہ‬
‫احادىث متواتر ہوجاتی ہیں۔ اور متواتر رواىت مىں ان شبہات كى‬
‫گنجائش ہى نہىں رہتى جو غىر متواتر رواىت كى تحقىق سے‬
‫متعلق ہوتے ہىں‪ ،‬کیوں کہ متواتر رواىت میں راوی کا صدق یا‬
‫ضبط یا عدل‪،‬كچھ بھی شرط نہیں۔‬
‫ىہاں تك حدىث نبوى كے حجت ہونے كا بىان ہوا۔ اس كے‬
‫ساتھ ہى ىہ بھى معلوم ہو گىا ہو گا كہ جب حدىث اس قدر احتىاط‬
‫اور اہتمام سے نقل كى گئى ہے‪ ،‬تو دراىت (ىعنى محض عقلى‬
‫دلىل ) سے حدىث پر تنقید کرنا ہى غلط ہے‪ ،‬کیوں کہ صحىح‬
‫حدیث كا كم سے كم درجہ بھى وہ ہے جو ثبوت اور داللت ‪،‬‬
‫دونوں اعتبار سے ظنى ہو۔اور جس چیز کا نام « درایت» رکھا‬

‫‪68‬‬
‫ہے‪ ،‬اس کا حاصل «دلی ِّل عقلى ظنی »ہے‪ ،‬اور اصول ِّموضوعہ‬
‫نمبر(‪)7‬میں بڑى وضاحت سے ىہ بات گزر چكى ہے كہ اىسى‬
‫نقلى دلىل جو ظنى ہو‪ ،‬اسے اىسى عقلى دلىل جو ظنى ہو‪ ،‬پر‬
‫ترجىح اور برترى حاصل ہوتى ہے۔‬
‫ہاں! حدىث مىں اىك نكتہ اور ہے۔ وہ ىہ كہ حدىث مىں‬
‫روایت بالمعنى بھى ہوا كرتى ہے‪ ،‬ىعنى مفہوم تو وہى ہو جو‬
‫رسول هللا ﷺ نے بىان فرماىا تھا‪ ،‬لىكن تعبىر اور الفاظ مختلف‬
‫ہوں‪ ،‬گوىا راوى حدىث كا اصل معنى اپنے الفاظ مىں بىان كر‬
‫دے۔ تو ىہ تسلىم شدہ بات ہے‪ ،‬نہ تو كوئى اس كا انكار كر سكتا‬
‫ہے‪ ،‬اور نہ كرتا ہے۔ لىكن ىاد ركھنا چاہىے كہ ‪:‬‬
‫اول تو بال ضرورت اس كى عادت نہىں تھى۔اوران كے‬
‫حافظے كو دىكھتے ہوئے ضرورت نادر ہوتى تھى۔پھر ىہ ہے‬
‫كہ اىك اىك مضمون كو اكثر مختلف صحابہ نے سن سن كر رواىت‬
‫كىا ہے‪ ،‬چناں چہ حدىث كى كتابىں دىكھنے سے معلوم ہو جاتا‬
‫ہے۔ سو اگر اىك راوى نے رواىت كو بالمعنى ذكر كىا ہے‪ ،‬تو‬
‫دوسرے نے رواىت باللفظ كر دىا‪ ،‬اور پھر دونوں كے معانى‬
‫متوافق ہونے سے اس كا پتہ چلتا ہے كہ جنہوں نے رواىت‬
‫بالمعنى بھى كىا ہے‪ ،‬انہوں نے اكثر صحىح ہى سمجھا ہے۔ اور‬
‫واقعى جس كو هللا كا ڈر ‪ ،‬اور احتىاط كى عادت ہو گى‪ ،‬وہ معنى‬
‫فہمى مىں بھى خوف سے كام لےگا۔ اور شرح صدر كے بغىر‬
‫مطمئن نہ ہوگا۔‬
‫اور اگر کہیں الفاظ بالکل ہی محفوظ نہ رہے ہوں‪ ،‬گواىسا‬
‫ہونا بہت نادر ہے‪ ،‬مگر پھر بھی ظاہر ہے کہ بات كرنے والے‬
‫كے قرىب رہنے واال‪ ،‬اس كا مزاج شنا س ہوتا ہے‪ ،‬اور جس‬
‫قدر قرائن مقالہ اور قرائن مقامیہ سے وہ اس کے کالم کو سمجھ‬
‫سكتا ہے‪ ،‬دوسرا ہرگز نہیں سمجھ سکتا۔اس بنا پر صحابہ كرام‬
‫رضى هللا عنہم كا فہم قرآن وحدىث جس قدر قابل وثوق ہو گا‪،‬‬
‫دوسروں كا نہىں ہوسکتا۔ پس ان حضرات كے خالف‪ ،‬دوسروں‬
‫کا قرآن سے یا اپنی عقل سے كچھ سمجھنا ‪،‬اور اپنى اس سمجھ‬

‫‪69‬‬
‫کو حدىث كےمخالف دراىت ٹھہرا كر رد كر دىنا کیوں کر قابل‬
‫التفات ہوسکتا ہے۔‬
‫اور ان تمام امور كا مكمل لحاظ کرتے ہوئے ‪،‬پھر بھى‬
‫اگركسے شبہے کی گنجائش ہوسکتی ہے ‪،‬تو زىادہ سے زىادہ‬
‫ىہى ہو سكتا ہے كہ وہ شبہ كسى اىك حدیث کی قطعیت مىں مؤثر‬
‫ہو سكتا ہے۔ تو بہت سے بہت یہ ہوگا کہ اىسی ظنى احادیث سے‬
‫قطعی احكام ثابت نہ ہوں گے۔ لیکن چوں كہ ظنى احکام بھی‬
‫دین كا جزو ہىں‪ ،‬اور ان پر عمل كرنا واجب ہے‪ ،‬اس لىے بعض‬
‫احادىث كا ظنى ہونا بھى مقصود كے لىے مضر نہ ہوگا۔‬
‫یہاں تک ان غلطیوں کا بیان تھا جو کالم هللا کے متعلق‬
‫واقع ہورہی ہیں۔ اب بقیہ دالئل کی نسبت عرض کرتا ہوں۔‬
‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪70‬‬
‫انتبا ِّہ شـثسم‪:‬‬
‫ق اِّجماع‪ ،‬من جملہ اصو ِّل شرع‬
‫متعل ِّ‬
‫اب رہ گیا اجماع اور قیاس ‪،‬سواجماع کے متعلق پہلی‬
‫غلطى ىہ كى جاتی ہے کہ اس کا ُرتبہ رائے سے زیادہ نہیں‬
‫سمجھا جاتا‪ ،‬اس لىے اس کو حجت ملزمہ‪( ،‬ىعنى كوئى حكم الزم‬
‫كر دىنے والى حجت) نہیں قرار دیا جاتا۔ سو پہلى بات تو یہ ہے‬
‫كہ ىہ مسئلہ منقول ہے‪ ،‬اس مىں دار ومدار نقل پر ہے۔‬
‫سو ہم نے جب نقل کی طرف رجوع کیا‪ ،‬تو اس میں یہ‬
‫قانون پایا کہ‪ :‬جس امر پر ایک زمانے کے علمائے امت کا اتفاق‬
‫ہوجائے‪ ،‬اس کا اتباع واجب ہے۔ اور اس کے ہوتے ہوئے اپنی‬
‫رائے پرعمل کرنا ضاللت اور گمراہى ہے‪ ،‬خواہ وہ امرعقىدے‬
‫سے تعلق ركھتا ہو‪ ،‬خواہ عمل سے متعلق ہو۔ چناں چہ وہ نقل‬
‫اور اس سے استدالل كا ذكر‪ ،‬کتب اُصول میں بڑى صراحت‬
‫سے كىا گىا ہے۔‬
‫پس جس طرح قانون كى کوئی کتاب حجت ہو‪،‬تو اس‬
‫کےکل دفعات واجب العمل ہوتےہیں۔۔ اسی طرح جب قرآن وحدیث‬
‫حجت ہیں‪ ،‬تو ان کے کل قوانین بھى حجت ہوں گے‪ ،‬اور ان‬
‫قوانىن پر عمل كرنا واجب ہو گا۔ اور كتاب وسنت كےاُن قوانین‬
‫میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ اجماع قطعی حجت ہے۔ سو‬
‫اس قانون پر عمل بھی واجب ہوگا۔ اور اس قانون کی مخالفت‪،‬‬
‫واقع اور حقىقت میں اس الہى اور نبوى قانون کی مخالفت ہوگی۔‬
‫اور امر تو بہت ہی ظاہر ہے۔‬
‫اور اگر یہ مسئلہ منقول نہ بھی نہ ہوتا‪ ،‬تو بھى فطرى‬
‫عقلى قانون بھی ہمىں اس پر مجبور كرتا ہے کہ جب ہم اپنے‬

‫‪71‬‬
‫معامالت میں کثرت رائے کومنفرد رائے پرترجىح دىتے ہیں‪،‬‬
‫اور کثرت ِّرائے کے مقابلے میں منفرد رائے کو کالعدم سمجھتے‬
‫ہیں‪ ،‬تو اجماع ىعنى امت كے علماء كا اتفاق تو کثرت ِّ رائے‬
‫سے كہىں بڑھ کر ہے‪ ،‬تو وہ منفرد رائے کے مرتبے میں‪ ،‬یا‬
‫اس سے مرجوح اور كم تر کىسے ہوگا‪!!..‬؟۔‬
‫اور اگر ىہ شبہ ہو کہ بے شک‪ ،‬منفرد رائے جب اجماع‬
‫کے مقابلے مىں آجائے تو قابل ِّوقعت نہ ہوگی‪ ،‬لیکن اگر ہم بھی‬
‫اس اجماع کے خالف پر اتفاق رائے کر لیں ‪،‬تب تو ہمارے اتفاق‬
‫مىں اجماع كا معارضہ كرنے کی صالحیت ہو سكتى ہے‪،‬‬
‫تو اس كا جواب یہ ہےکہ ہرشخص کا اتفاق رائے ‪،‬ہر‬
‫امر میں معتبر نہىں ہوا كرتا‪ ،‬بلكہ ہر فن مىں اس كے ماہرىن کا‬
‫اتفاق ہى معتبر ہوسکتا ہے۔ سواگر ہم انصاف کے ساتھ اپنی دینی‬
‫حالت کا‪ ،‬حضرات ِّسلف کی دىنى حالت سے مقابلہ کریں‪ ،‬تو كىا‬
‫علم اور كىا عمل‪ ،‬ان كى بہ نسبت اپنی حالت میں اس قدر انحطاط‬
‫اور كمى پائیں گے‪ ،‬كہ جس سے ہمارے اور ان كے درمىان اىسى‬
‫ہى نسبت نكلے گى جو غیر ماہر کو ماہر کے ساتھ ہوتی ہے۔ پس‬
‫ان کے خالف ہمارا كسى بات پر اتفاق ایسا ہی ہوگا ‪،‬جیسا كسى‬
‫فن كے ماہرین کے اتفاق کے خالف ‪ ،‬كچھ غیر ماہرین کسى بات‬
‫پر اتفاق ‪ ،‬كہ محض بے اثر ہوتا ہے۔ البتہ جس معاملے میں سلَف‬
‫سے كچھ منقول نہ ہو‪ ،‬تو اس میں اس وقت کے علما ءکا اتفاق‬
‫بھی قابل اعتبار ہوگا۔‬
‫اور اس میں ایک فطری راز ہے‪ ،‬وہ یہ کہ هللا تعالى كى‬
‫عادت ىونہى جاری ہے کہ غرض پرستى کے ساتھ حق كى‬
‫تائىد نہیں ہوتی۔ اور خلوص میں تائید ہوتی ہے۔ جب یہ بات طے‬
‫ہو چكى ‪ ،‬تو اب سمجھنا چاہىے کہ جس بات میں سلف کا اجماع‬
‫موجود ہو‪ ،‬جس کا حجت ہونا ثابت ہے‪ ،‬تو اس کے ہوتے ہوئے‬
‫ہمىں اپنی رائے سے کام لینے کی كوئى دینی ضرورت ہى نہیں‬
‫ہے۔‬
‫سو ‪،‬بالضرورت اپنی اپنی رائے پرعمل کرنا غرض‬

‫‪72‬‬
‫پرستى كے بغىر تو ہرگز نہ ہوگا‪ ،‬اس لىے هللا تعالى كى تائىد‬
‫ساتھ نہ ہوگی۔ اور جس بات میں اَسالف كا اجماع نہیں ہے‪،‬‬
‫وہاں دینی ضرورت ہوگی۔ اور دینی ضرورت میں کام کرنا‬
‫خلوص كى دلیل ہے۔ اورخلوص والے كام مىں حق كى تائىد‬
‫ساتھ ہو جاتی ہے‪ ،‬اس لىے ُمؤیَّد ِّمنَ هللاِّہونے كى وجہ سے وہى‬
‫اتفاق قابل اعتبار ہوگا۔‬
‫یہ سارى بحث اس صورت میں ہے جب سلف کا اجماع‬
‫صہو گى‪ ،‬لیکن‬‫رائے سے ہوا ہو۔گووہ رائے بھى ُم ْستَنَد إِّلَى النَّ ِّ‬
‫كوئى صریح نص موجود نہیں تھی۔ اور ا گر کسی نص کے‬
‫صرىح مدلول پر اجماع ہوگیا ہے‪ ،‬تو اس کی مخالفت نص صرىح‬
‫کی مخالفت ہے۔‬
‫اور اگر اس کے مخالف کوئی دوسری صرىح نص بھى‬
‫ہو‪،‬تو آیا اس وقت بھی اس نص كے موافق اجماع کی مخالفت‬
‫جائز ہے یا نہیں؟۔‬
‫تو بات یہ ہے کہ‪ :‬تب بھی اس اجماع كى مخالفت جائز‬
‫نہیں ہے‪ ،‬کیوں کہ نص تو نص كے برابر ہو گئى۔ اور ایک کو‬
‫اجماع كى موافقت سے قوت حاصل ہوگئی۔ اورقوی دلىل کے‬
‫ہوتے ہوئے ضعیف دلىل پر عمل كرنا‪ ،‬عقل اورنقل كے خالف‬
‫ہے۔ بلکہ جب نقلى دلیل سے ىہ بات ثابت ہو چكى ہے كہ‬
‫جس امر پر امت كا اجماع ہوا ہو ‪ ،‬اس كا ضاللت اور گمراہى‬
‫ہونا ممتنع ہے‪ ،‬اس لىے اگر اجماع کا مستند(اور بنىاد) کوئی‬
‫ظاہرى نص نہ بھی ہو‪ ،‬اور اس کے خالف کوئی دوسرى نص‬
‫موجود ہو‪،‬تب بھی ا ُس اجماع کو یہ سمجھ کر مقدم رکھا جائے گا‬
‫کہ اجماع کے وقت کوئی نص ظاہر ہوگی‪ ،‬جو منقول نہیں ہوئی‪،‬‬
‫(ىعنى جسے آگے نقل نہىں كىا گىا)‪ ،‬کىوں كہ نص کی مخالفت‬
‫ضاللت ہے‪ ،‬اور اجماع کا ضاللت ہونا محال ہے‪( ،‬ىعنى نص كى‬
‫مخالفت كرنا گمراہى ہے۔ اور نصوص سے ثابت ہے كہ امت كا‬
‫اجماع گمراہى پر نہىں ہو سكتا‪ ،‬لہذا‪ ،‬ىہ نہىں ہو سكتا كہ پورى‬
‫امت گمراہى پر اكٹھى ہو كر گمراہى پر اجماع كر لے۔ لہذا‪،‬‬

‫‪73‬‬
‫جس بات پر اجماع ہوا ہو گا ‪ ،‬ضرور ى ہے كہ وہ گمراہى نہ‬
‫ہو)۔‬
‫پس اس اجماع کا نص کے مخالف ہونا بھی محال ہے۔تو‬
‫المحالہ نص کے موافق ہے۔ اور ىہ اجماع جس نص کے موافق‬
‫ہے‪ ،‬وہ دوسری نص پر اس وجہ سے راجح ہو گئى كہ اس‬
‫نص كے ساتھ اجماع كى قوت بھى جڑى ہوئى ہے ۔پس حقىقت‬
‫مىں نص پر نص ہى مقدم ہے‪ ،‬اور اجماع اس نص کے وجود‬
‫کی عالمت و امارت ہے ‪،‬جس کو «دَ ِّل ْی ِّل إِّنِّي» کہتے ہیں۔ اور‬
‫اس طرح كے اجماع كى مثال‪ :‬بال سفر وبال عذر كے‪َ ،‬جمع بَیْن‬
‫سنن ترمذی »میں ہے۔ اور دوسرى‬ ‫ص َالتَیْنہے‪،‬جس کی حدیث « ُ‬
‫ال َّ‬
‫سنن‬
‫جراحمر کے وقت اذن ِّسحركى ہے‪ ،‬کہ وہ بھی « ُ‬‫مثال ف ِّ‬
‫ترمذی »میں موجود ہے۔‬
‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪74‬‬
‫انتبا ِّہ ہفـتم‪:‬‬
‫ق اِّجماع‪ ،‬من جملہ اصو ِّل شرع‬
‫متعل ِّ‬
‫اب صرف قیاس رہ گیا۔ اس میں بھى كئى اىك غلطیاں کی‬
‫جاتی ہیں۔‬
‫اىك غلطى ‪ :‬قیاس کے معنى اور حقیقت میں كى جاتى‬
‫ہے‪ ،‬ىعنى اس کی واقعى حقیقت کا حاصل تو یہ ہے کہ بہت سى‬
‫باتىں اىسى ہوا كرتى ہىں كہ جن کا حکم شرعى نص اور اجماع‬
‫میں صراحت سے بیان نہىں کیا گیا ہوتا۔ اور ظاہر ہے کہ شرىعت‬
‫مىں کوئی امر مہمل نہیں ہے جس کے متعلق کوئی حكم نہ ہو‪،‬‬
‫خواہ وہ ا َمر معادی (آخرت سے متعلق ) ہو‪ ،‬یا معاشی (دنىا كى‬
‫زندگى سے متعلق) ہو ‪،‬جیسا کہ (انتباہ سوم) کی چوتھی غلطى‬
‫کے بیان میں ذکر ہوا ہے۔ اس لىے یہ کہا جائے گا کہ‪ :‬شرع میں‬
‫حكم تو اس كا بھى وارد ہے‪ ،‬مگر داللت كے مخفى ہونے كى‬
‫وجہ سے مخفى ہے۔تو اس مخفى حكم كے استخراج ىعنى سامنے‬
‫النے كى ضرورت ہوگی۔‬
‫ادلۂ شریعت نے اس کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ جن امور کا‬
‫حکم نص مىں مذکور ہے‪ ،‬اس مىں اور جو مسئلہ ہمىں پىش آىا‬
‫ہے اور شرىعت نے اس سے سکوت كىا ہے‪ ،‬ان میں غور کرو‪،‬‬
‫اور ىہ دیکھو کہ پىش آمدہ امر ‪ ،‬خاص خاص صفات و کیفیات‬
‫میں ان منصوص احكام میں سےكس کے زیادہ مشابہ اور كس‬
‫سے زىادہ ملتا جلتا ہے۔‬
‫پھر یہ دىكھو کہ جس حكم كا ذكر نص مىں ہے‪ ،‬ظن غالب‬
‫كى بنا پر اس منصوص حكم كى بنىاد كون سى صفت اور كون‬
‫سى كىفىت ہے۔ پھر جب سمجھ مىں آجا ئے كہ ىہ صفت اور‬

‫‪75‬‬
‫کیفیت اس منصوص حكم كى بنىاد بنتى ہے‪ ،‬تو اسى صفت اور‬
‫امر مسكوت عنہ ‪( ،‬ىعنى نئے پىش آمدہ‬
‫كىفىت كو دىكھو كہ اس ِّ‬
‫مسئلے) مىں بھى متحقق اور موجود ہے ىا نہىں۔ اگر وہى صفت‬
‫اور کیفیت ىہاں بھى متحقق اور موجود ہو ‪ ،‬تو اِّس جدىد اَمر كے‬
‫لىے بھى وہى حكم ثابت كر دىا جائے گا جو اُس اس امر منصوص‬
‫الحكم امر مماثل مىں منصوص ہے‪(،‬ىعنى اس نئے مسئلے كے‬
‫لىے بھى وہى حكم ثابت ہو گا‪ ،‬جو اُس منصوص امر كا حكم‬
‫تھا جو كہ اِّس جدىد سے ملتا جلتا ہے)۔ اور ‪:‬‬
‫علَیْه» كہتے‬
‫‪ ‬جس امر كا حكم منصوص ہو‪ ،‬اسے « َم ِّقیْس َ‬
‫ہىں۔‬
‫‪ ‬اور جس نئے امر كے حكم سے سكوت كىا گىا ہے‪ ،‬اسے‬
‫« َم ِّقیْس» كہتے ہىں۔‬
‫‪ ‬اور حكم كى بنىاد جس چىز پر ركھى گئى ہے‪ ،‬اسے « ِّعلَّت»‬
‫كہتے ہىں۔‬
‫‪ ‬اور حكم كو ثابت كرنے كے عمل كو «تَ ْع ِّدیَه» اور‬
‫«قِّیَاس»كہتے ہىں۔‬
‫بس ىہ حقىقت ہے اس قیاس کی جس کا حكم شریعت میں‬
‫وارد ہے‪ ،‬جیسا كہ اصولیین سے ثابت کیا ہے۔تو حقیقت مىں حكم‬
‫كو ثابت كرنے والى چىز نص ہى ہے‪ ،‬قیاس اس کو محض ظاہر‬
‫كرنے واال ہے۔ اوراب (اِّس زمانے مىں) جس قیاس کا استعمال‬
‫کیا جاتا ہے ‪،‬اس کی حقیقت صرف رائے محض ہے‪ ،‬جس میں‬
‫مذكورہ باال طرىقے سے كسى نص كو بنىاد بنا كر حكم نہىں لگاىا‬
‫جاتا‪ ،‬جس كو وہ لوگ خود بھى اىسا ہى سمجھتے ہىں۔ چناں چہ‬
‫محاورات میں بولتے ہیں کہ ہمارا یہ خیال ہے۔ سوحقیقت میں تو‬
‫ىہ مستقل شارع بننے کا دعوی ہے‪ ،‬جس سے اس قسم كى رائے‬
‫كا عقلى لحاظ سے قبىح ہونا ثابت ہے۔ اور اىسى رائے کی‬
‫مذمت نصوص اور اكابر كے اقوال میں بھى آئی ہے‪ ،‬جس سے‬
‫اس رائے كا نقلى لحاظ سے قبىح ہونا بھى ثابت ہوتا ہے‪ ،‬تو اىسا‬
‫قىاس عقالً و نقال دونوں طرح مذموم ہوا۔‬

‫‪76‬‬
‫دوسرى غلطى مح ِّل قىاس مىں ہوتى ہے۔ چنانچہ اوپر کی‬
‫تقریر سے معلوم ہوا ہوگا کہ قیاس کی ضرورت محض ان امور‬
‫مىں ہوتى ہے جوغیرمنصوص ہوں‪ ،‬اور اس غىر منصوص امر‬
‫میں‪ ،‬كسى منصوص امر كے تعدىہ‪ ،‬ىعنى اس كا حكم جارى‬
‫كرنے كے لىے اس بات كى ضرورت ہوتى ہے كہ منصوص كى‬
‫علت تالش كى جائے۔تو جب تك حكم كے تعدىہ كى ضرورت نہ‬
‫ہو‪ ،‬تب تك منصوص حكم كى علت نکالنا بھى جائز نہ ہوگا۔ اب‬
‫غلطى یہ کی جاتی ہے کہ بغىر كسى ضرورت كے منصوص‬
‫میں بھی علتىں تالش كى جاتى ہىں‪ ،‬اورپھر خود منصوص حكم‬
‫كو وجودا ً وعد ًما‪ ،‬اسى علت کے وجود وعدم پر دائر کرنا شروع‬
‫كر دىتے ہیں‪ ،‬جیساكہ ( انتبا ِّہ سوم) کی چھٹی غلطی کے بیان میں‬
‫ذکر ہوا ہے۔‬
‫اور اسی سے ایک تیسری غلطى بھی معلوم ہو گئى‪ ،‬جو‬
‫قیاس كى غرض مىں واقع ہوئى ہے۔ چناں چہ قىاس كى اصلى‬
‫غرض تو ىہ ہے كہ منصوص كے حكم كو غىر منصوص مىں‬
‫متعدى كىا جائے۔نہ ىہ کہ منصوص حكم مىں تصرف كىاجائے‪،‬‬
‫جب كہ آج كل ىونہى كىا جاتا ہے۔‬
‫چوتھی غلطی‪ :‬قیاس کے اہل كو متعىن كرنے مىں ہے۔‬
‫چناں چہ آج كل ہر شخص كو اس کا اہل سمجھتے ہیں‪ ،‬جیسا کہ‬
‫بعض لوگوں كے لىكچروں مىں ان كى جرأت ىہاں تك دىكھنے‬
‫مىں آئى كہ ىوں كہنے لگے ‪ :‬ﮋﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰﮊ َ[الكافرون]‪ ،‬نے‬
‫اجتہادکو ہر شخص کے لىے عام کردیاہے ۔حاالں کہ علمائے‬
‫اصولیین نے بڑے قوى دالئل كے ساتھ اجتہاد کى شرائط کو ثابت‬
‫کردیا ہے‪ ،‬جس سے عموم كا باطل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور ﮋﭬ ﭭ‬
‫ﭮ ﭯ ﭰﮊَ[الكافرون]کے بھى یہ معنی نہیں ہیں۔‬
‫اور موٹی سى بات ہے کہ ہرشخص اس کا اہل نہیں‬
‫ہوسکتا‪ ،‬کیوں كہ قیاس اور اجتہاد كى حقىقت كا جو حاصل اوپر‬
‫مذکور ہوا ہے‪ ،‬اس کی نظیر وکالء کاکسی مقدمہ کوكسی دفعہ‬
‫کے تحت میں داخل کرنا ہے۔ سو ظاہر ہے کہ اگر ہر شخص‬

‫‪77‬‬
‫اس کا اہل ہو‪،‬تو وکالت کے پاس كرنے کی حاجت ہى نہ ہو۔تو‬
‫جس طرح یہاں شرائط ہیں کہ قانون پڑھا ہوا ہو‪ ،‬یاد بھی ہو‪ ،‬اس‬
‫کی غرض بھی سمجھی ہو‪ ،‬پھر مقدمے کے بارىك اور گہرے‬
‫پہلوؤں کو سمجھتا ہو‪ ،‬تب یہ لىاقت حاصل ہوتی ہے کہ تجویز‬
‫کرے کہ یہ مقدمہ فالں دفعہ میں داخل ہے۔ اسی طرح یہاں بھی‬
‫سمجھ لىجىے۔‬
‫اب یہ دوسری گفتگو ہے کہ آیا اب اس قوت اور ملکہ كا‬
‫حامل كوئى شخص پایا جاتا ہے یا نہیں۔ یہ ایک خاص گفتگو‬
‫ت غیرمقلدین کے مابىن ہوا‬
‫ہے‪ ،‬جو جماعت ِّ مقلدین اور جماع ِّ‬
‫كرتى ہے ‪،‬جس میں اس وقت تفصىلى کالم کرنا اس جگہ كے‬
‫مقصد سے اىك زائد بحث ہے‪ ،‬کیوں کہ ىہ مقام ان غلطیوں کے‬
‫بیان کا ہے جن میں جدیدعلم والوں کولغزش ہوئی ہے۔‬
‫اس لىے اس باب میں صرف اس قدر عرض کرنا کافی‬
‫ہے کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ ایسا شخص اب بھی پایا جاتا‬
‫ہے جس مىں قىاس واجتہادكى پورى مطلوبہ صالحىت موجود‬
‫ہے‪ ،‬تب بھی سالمتی اسی میں معلوم ہوتی ہے کہ اپنے اجتہاد‬
‫اور قیاس پر اعتماد نہ كرے‪ ،‬کیوں کہ ہمارے نفوس میں غرض‬
‫پر ستی اور بہانے تالش كرنے كى عادت غالب ہے۔‬
‫اگر اجتہاد سے کام لیا جائے گا‪ ،‬توتقریبا ىقىنى سى بات‬
‫ہے كہ ہمیشہ نفس کا میالن اسی طرف ہوگا جو اپنی غرض کے‬
‫موافق ہو۔ اور پھر اس کو دیکھ کر دوسرے نا اہل لوگ بھى اس‬
‫کا بہانہ ڈھونڈ کر ‪،‬خود بھی اجتہاد کا دعوى کرنے لگیں گے۔‬
‫اور تقوی اور تدىن سب ختم ہو كر رہ جائے گا۔‬
‫او راس کی حسى نظیر یہ ہے کہ ہائی کورﭦ کے ججوں‬
‫کے فیصلے کے سامنےکسی دوسرے کو‪ ،‬حتی کہ ماتحت حكام‬
‫کوبھی قانونی دفعہ کے دوسرے معنى سمجھنے کی اجازت‬
‫صرف اس بنا پر نہیں دی جاتی کہ ان ججوڑ کو سب سے زیادہ‬
‫قانون کے معانى سمجھنے واال سمجھا گیا ہے۔ اور اگر ان کی‬
‫مخالفت کی اجازت دے دى جائے‪ ،‬تو ہر شخص اپنے طور‬

‫‪78‬‬
‫پرکارروائی کر کے ملک میں تشویش اور بدنظمى پھىالنے کا‬
‫سبب ہوجائے گا۔ بس ‪ ،‬ىہى نسبت ہم كو تمام مجتہدین کے ساتھ‬
‫سمجھنى چاہىے۔‬
‫اصو ِّل اربعہ سے متعلق تمام غلطىوں كا حاصل یہ‬ ‫*‬
‫ہے کہ‪:‬‬
‫‪ ‬قرآن کو حجت بھى مانا‪ ،‬اور ثابت بھى مانا‪ ،... ،‬مگر اس‬
‫کی داللت میں غلطی کی۔‬
‫‪ ‬اور حدیث کو حجت تومانا‪ ،‬مگر ثبوت میں کالم کیا‪ ،‬اس لىے‬
‫داللت سے بحث ہی نہیں کی۔‬
‫‪ ‬اور اجماع کو حجت ہی نہیں مانا۔‬
‫‪ ‬اور قیاس کی جگہ ایک اور نئى چیز گھڑ کر‪ ،‬احكام كے‬
‫ثبوت كے لىے اس کو اصل معیار قرار دےدیا‪ ،‬اور وہ نئى‬
‫گھڑى ہوئى چیز «رائے» ہے۔‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪79‬‬
‫انتبا ِّہ ہشـتم‪:‬‬
‫ت مالئكہ وجن‪ ،‬ومنہم‬ ‫ق حقىق ِّ‬
‫متعل ِّ‬
‫ابلىس‬
‫فرشتوں اور جنات كا وجود ‪،‬جس طرح نصوص اور‬
‫اجماع سے ثابت ہے‪،‬كبھى تو اس انكار صرف اس بنىاد پر کیا‬
‫جاتا ہے کہ اگر وہ جواہر موجود ہوتے تو محسوس ہوتے۔ اور‬
‫كبھی اس بنا پر انكار كىا جاتا ہے کہ‪ :‬كسى چىز كا اس طرح کا‬
‫وجود كہ وہ سامنے سے گزر بھى جائے اور محسوس بھى نہ‬
‫ہو‪ ،‬سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ تو انکار کی وجہ ہوئی۔‬
‫پھر چوں کہ قرآن مجىد كى آیات میں بھی جگہ جگہ ان‬
‫کے وجود کا اثبات کیا گیا ہے‪ ،‬اورقرآن کے ثبوت میں کالم نہیں‬
‫ہوسکتا تھا‪ ،‬اس لىے ان آیات میں اىسى دور اَز كار تاویلىں کی‬
‫جاتی ہیں کہ وہ بالکل تحریف كى حد میں داخل ہو جاتى ہیں۔‬
‫جن بنىادوں پر جنات اور فرشتوں كے ظاہری معانی کا‬
‫انکار کیا گیا ہے‪ ،‬ان کا غلط ہونا تو اصول ِّموضوعہ نمبر َ(‪)4‬‬
‫میں ثابت ہوچکا ہے۔ یہ تو تحقىقى جواب ہے۔‬
‫اور الزامی جواب یہ ہے کہ‪ :‬مادے کے بارے مىں تم‬
‫خود ىہ كہتے ہو كہ جب تك مادے نے موجودہ صورتىں اختىار‬
‫نہىں كى تھىں‪ ،‬اس وقت تك وہ اىك لطیف قوام كى صورت مىں‬
‫تھا‪ ،‬جس كو «مادہ سدىمىہ» ‪ ،‬اور «اثىریہ» کہتے ہىں۔ اور وہ‬
‫اىسا «جوہر »ہے جس كا تم نے بھى كبھى مشاہدہ نہیں کیا۔‬
‫اور مستزاد ىہ كہ اگر مادے كى اس كىفىت كو سمجھنا چاہىں‪،‬‬
‫تو اىك مبہم سے تخىل كے عالوہ كچھ بھى سمجھ مىں نہىں آتا‬
‫كہ جس سے تشفى ہو سكے‪ ،‬چناں چہ یونانیىن اس کے منکر‬
‫بھی ہیں‪،‬مگر( اپنے دعوے كے صحىح ہونے كے )زعم مىں‪،‬‬

‫‪80‬‬
‫اپنے موقف كى دلىل بنانے كى ضرورت پڑ جانے كى بنا پر اس‬
‫کو مان لىا جاتا ہے‪ ،‬حاالں کہ اس پر کوئی دلیل بھی قائم نہیں‬
‫ہے‪ ،‬چناں چہ (انتباہ اول) میں اس کی تحقیق بھی ہوئی ہے۔‬
‫پس جب اىسے جواہر کے محال ہونے پرکوئی عقلى دلیل‬
‫قائم نہیں ہے‪ ،‬تو عقلى لحاظ سے ان كا وجود ممکن ہوا۔ اور‬
‫جس عقلى لحاظ سےممکن چىز کے وجود پر نقلى دلیل قائم ہو‬
‫‪،‬اس کے وجود کا قائل ہونا واجب ہوتا ہے۔(اصول ِّموضوعہ‬
‫نمبر(‪) )2‬۔‬
‫اورنصوص میں ان جواہر (ىعنى فرشتوں اور جنات) کا‬
‫وجود وارد ہے‪ ،‬اس لىے اىسے جواہر کا قائل ہونا ضرور ہى‬
‫واجب ہوگا۔‬

‫اور چوں کہ نصوص میں اصل ىہ ہے كہ انہىں ظاہر پر‬


‫حمل كىا جائے‪ ،‬اس لىے اگر اس كے مخالف كوئى عقلى دلىل‬
‫ظنىت كےدرجے مىں موجود بھى ہوتى‪ ،‬تو بھى ان نصوص كى‬
‫تاویالت ِّبعیدہ کرنا باطل ٹھہرتا‪ ،‬چہ جائے كہ مقابلے مىں محض‬
‫وہم ہى ہو‪ ،‬جو كہ باالتفاق غىر معتبر ہے۔(اصول ِّموضوعہ‬
‫نمبر(‪) )7‬۔‬
‫اور بعض لوگوں نے مذكورہ بنىاد كے عالوہ كچھ‬
‫اورشبہات بھی پىش كىے ہىں‪ ،‬جو سىد احمد كى تفسىر میں مذکور‬
‫ہیں۔ سو «اَلب ُْرھَان» میں اس کا جواب دیکھ لیا جائے۔‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪81‬‬
‫انتبا ِّہ نہـم‪:‬‬
‫ت آخرت‬
‫ق واقعا ِّتـ قبر‪ ،‬وموجودا ِّ‬
‫متعل ِّ‬
‫جنت‪ ،‬دوزخ ‪ ،‬صراط‪ ،‬مىزان‬
‫ان سب حقائق کے ظاہری معانى کا بھى انکار كىا جاتا‬
‫ہے۔ اور ان ك انكار كى بنىاد بھی وہى ہے جس بنىاد پر فرشتوں‬
‫اور جنات كى حقیقت کا انکار کیا جاتا ہے۔ اور جب ان بنىادوں كا‬
‫غىر مستحكم اور بودہ ہونا (انتباہ ہشتم )میں ثابت ہوچکا‪ ،‬تو ا ُس‬
‫سے اِّس انکار کا باطل ہونا بھی معلوم ہوگیا۔اور بعض لوگوں نے‬
‫كچھ اور شبہات بھی ذكر کىے ہیں۔ ان میں سے كچھ شبہات تو‬
‫اىسے ہىں جن كو قدىم معتزلہ سے نقل كىا گىا ہے‪ ،‬اور ان کا‬
‫مسكت ومفصل جواب کتب کالمیہ میں دے دیا گیا ہے۔‬
‫اور بعض شبہات اىسے ہىں جو کسی قدر جدید عنوان سے‬
‫پیش کیے جاتے ہیں۔ان تمام شبہات كے مجموعے کا حاصل یہ‬
‫ہے کہ‪:‬‬
‫جب قبر میں مردے كے جسد میں روح نہیں رہتی‪،‬‬
‫پھراس کو الم اور نعیم(ىعنى درد اور نعمت) کا ادراك کىسے‬
‫ہوسکتاہے؟۔‬
‫پھر اگال سوال کہ‪ :‬كان کے بغىر سنتا کیسے ہے؟‪،‬‬
‫اور زبان كے بغىر جواب کىسے دىتا ہے؟‪،‬‬
‫اور جنت ودوزخ ہیں کہاں؟‪،‬‬
‫اورا ُن کی وسعت جس قدر بیان کی جاتی ہے‪ ،‬وہ کون‬
‫سے مکان میں سماسکتے ہیں؟‪،‬‬
‫اور پل صراط پر چلنا جب کہ وہ اس قدر باریک ہے‬
‫‪،‬کس طرح ممكن ہے؟‪،‬‬

‫‪82‬‬
‫اور میزان میں اعمال‪،‬جب كہ وہ اجسام ہى نہیں ہیں‪،‬‬
‫كىسے رکھے جائیں گے؟ ۔‬
‫ان سب کا مشترک جواب یہ ہے کہ‪ :‬ان سب شبہات کا‬
‫حاصل «اِّ ْستِّ ْبعَاد» ہے۔ اور «اِّ ْستِّ ْب َعاد» سے «اِّ ْستِّ َحالَ ْه» ىعنى محال‬
‫ہونا الزم نہیں آتا۔ (اصو ِّل موضوعہ نمبر (‪))3‬۔‬
‫اور جب «اِّ ْستِّ َحالَ ْه» نہیں ہے‪ ،‬تو عقلى لحاظ سے سبب‬
‫امور ممکن ہوئے۔ اورنصوص نے ان سب كے واقع ہونے کی‬
‫خبردی ہے‪ ،‬پس ُوقوع کا قائل ہونا واجب ہے۔(اصو ِّل موضوعہ‬
‫نمبر (‪))3‬۔‬
‫اور ہر ہر شبہے كا خاص خاص ‪ ،‬ىعنى علىحدہ علىحدہ‬
‫جواب یہ ہے کہ‪:‬‬
‫یہ بھی ممکن ہے کہ جسد میں اتنی روح موجود ہو جس‬
‫سے دكھ درد‪ ،‬اور نعمتوں كا ادراک اس كو ہو سکے‪ ،‬اورىہاں‬
‫كے مؤثرات سے متأثر نہ ہو‪ ،‬اور نہ ہى برزخى مؤثر سے‬
‫حركت كرے۔ جس طرح ایك شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ‪:‬‬
‫احتباس بول (ىعنى پىشاب رك جانے كى بىمارى )میں عالج کی‬
‫ضرورت سے اس کوبے ہوش کیا گیا‪ ،‬تو سالئی چڑھانے کی‬
‫تکلیف بالكل محسوس نہیں ہوئی۔ لیکن ایك قسم كى گھٹن سے دل‬
‫گھبراتا تھا‪ ،‬اور حركت نہ ہوسکتی تھی۔‬
‫اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جسد کو وہ دكھ درد‪ ،‬اور‬
‫نعمتىں نہ ملتى ہوں جو قبر مىں دفناىا جاتا ہے‪ ،‬بلكہ روح اپنے‬
‫جس مقر (ىعنى قرار گاہ) میں ہے ‪،‬وہاں اس پر سب كچھ گزر‬
‫جاتا ہو‪( ،‬اور جسد سے اس روح كا تعلق چونكہ باقى ہوتا ہے‪،‬‬
‫اس لىے روح پر گزرنے والے حاالت كا ادراك جسم بھى كرتا‬
‫ہو)۔‬
‫باقی رہا یہ سوال کہ وہ روح کہاں ہے؟۔تو ممکن ہے کہ‬
‫اس وسىع فضا كے كسى حصے مىں ىہ مستقر ہو‪ ،‬اور وہى عالم‬
‫ارواح کہالتا ہو ۔‬

‫‪83‬‬
‫اور اس امکان سے یہ شبہ بھی ختم ہوگیا کہ اگر جسد‬
‫جل جائے ىا كوئى جنگلى جانور اسے كھا لے‪ ،‬تو اس وقت اسے‬
‫عذاب وثواب وغیرہ كىسے ہوگا‪!!..‬؟۔‬
‫رہا یہ کہ بغىر کان كے سننا‪ ،‬بغىر زبان كے بولنا‪،‬‬
‫وغىرہ كىسے ہو سكتا ہے؟۔ تو اس كا جواب ىہ ہے كہ ‪ :‬اول تو‬
‫ادراک کے لىے یہ آالت عقلى لحاظ سے شرط نہىں ہىں‪ ،‬محض‬
‫عادت كى وجہ سے انہىں شرط مانا جاتا ہے‪ ،‬تو ان كا درجہ‬
‫شرائط عادىہ وعقلىہ مىں سے‬
‫ِّ‬ ‫(شرائط عقلىہ ) كا ہوا۔اور‬
‫ِّ‬ ‫صرف‬
‫ہرایک کے احكام علىحدہ ہیں۔ (اصو ِّل موضوعہ نمبر‬
‫(‪))3‬۔ممکن ہے کہ ا ُس عالم کی عادت‪ ،‬اِّس عالم كى عادت کے‬
‫خالف ہو۔‬
‫دوسرے ممکن ہے کہ وہاں روح کو کوئی اور بدن‪ ،‬جو‬
‫اُس عالم كے مناسب ہو‪ ،‬مل جاتا ہو‪ ،‬اورا ُس بدن میں بھی اىسے‬
‫ہی آالت ہوں‪ ،‬جیسا کہ بعض اہ ِّل کشف اس کے قائل بھی ہیں‪،‬‬
‫اور اس کا نام جسم مثالی رکھا ہے۔‬
‫اور جنت دوزخ کے بارے مىں بھى عىن ممكن ہے كہ‬
‫اُس وسىع فضا كے اندر ہوں جس کو اس زمانے كے فالسفہ‬
‫غیرمحدود مانتے ہىں۔ ا‬
‫ت موجودہ چلنا‪ ،‬مستبعد‬
‫اور اگرچہ پل صراط پر بہ حال ِّ‬
‫ہے‪ ،‬مگر اس سے محال ہونا الزم نہیں آتا۔( دىكھىے‪ :‬اصو ِّل‬
‫موضوعہ نمبر (‪))3‬۔‬
‫اور میزان (ىعنى ترازو)میں اعمال کا وزن كىا جانا‪ :‬اس‬
‫طرح ممکن ہے کہ ہر عمل صحىفے مىں درج ہوتا ہے ‪ ،‬اور‬
‫وہ صحىفے اجسام ہیں‪ ،‬جیسا کہ نصوص سے معلوم ہوتا ہے۔‬
‫سوممکن ہے کہ ہر اچھے عمل كو صحىفے كے ایک خاص‬
‫حصے مىں لکھا جاتا ہو۔ اورحصوں كے بڑھنے سے المحالہ‬
‫وزن بھى بڑھے گا۔‬
‫نیز ىہ بھى ممكن ہے کہ نامۂ اعمال كے بعض حصے‬

‫‪84‬‬
‫اىسے ہوں جو كمىت مىں برابر ہونے كے باوجود‪ ،‬خلوص ‪ ،‬تقوى‬
‫اور خشىت وغىرہ عوارض كى وجہ سے ہلكے اور بوجھل ہونے‬
‫مىں مختلف اور متفات ہو جاتے ہوں۔چناں چہ ہم دىكھتے ہىں كہ‬
‫دو اىسے اجسام جن كى مقدار اور ماہىت اىك جىسى ہوتى ہے‪ ،‬ان‬
‫مىں حرارت اور ٹھنڈك كا فرق ہو جانے سے وزن مىں فرق آ جاتا‬
‫ہے۔تو ہو سكتا ہے كہ برے اعمال والے صحىفوں مىں اسى طرح‬
‫ہو جاتا ہو كہ ان كا وزن ہلكا ہو جاتا ہو۔ اورجب میزان میں یہ‬
‫صحىفے تولے جائیں گے‪ ،‬تو وزن کے تفاوت سے المحالہ اعمال‬
‫کا تفاوت معلوم ہوجائے گا۔ اور حد ىثوں سے بھی اسی احتمال کا‬
‫طا َقه» اور « ِّس ِّج َّالت» کے‬
‫اقرب ہونا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ «بِّ َ‬
‫الفاظ كى تصرىح نصوص مىں ہے۔ تو اتنى بات تو واضح ہو گئى‬
‫كہ وزن تو حقىقت مىں ہوگا۔ البتہ اس وزن کی اضافت میں‬
‫سع ہے۔ پس‬
‫جوز ہوا‪ ،‬ىعنى وزن كىسے كىا جائے گا‪ ،‬اس مىں تو ُّ‬
‫ت ُّ‬
‫اگر اسی طرح وہاں بھی ہوجائے تو کیا مضائقہ ہے۔‬
‫اور جسم كے اعضاء وجوارح كے بولنے كا شبہ بھى اسى‬
‫قبىل سے ہے‪ ،‬كہ وہ بھى ُمست َ ْبعَدعادى ہے‪ ،‬محا ِّل عقلى نہىں ہے‪،‬‬
‫ىعنى عام عادت كے لحاظ سے اىسا ہونا بعىد معلوم ہوتاہے‪ ،‬ورنہ‬
‫عقلى لحاظ سے اىسا ہونا ناممكن نہىں ہے۔ اور جب سے‬
‫گراموفون دیکھا ہے‪،‬تب سے تو نطق ِّجوارح کو مستبعد کہنا‬
‫بھی بے جامعلوم ہونے لگا ہے۔‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪85‬‬
‫انتبا ِّہ دہـم‪:‬‬
‫متعلق بعض كائنات طبعىہ‬
‫ت مطہرہ کو کائنات ِّطبعیہ سے بحث کرنا‬
‫ہر چند کہ شریع ِّ‬
‫مقصود نہیں ہ‪،‬ے جیسا کہ تمہید میں تفصىل سےبیان کیا گیا‬
‫ہے‪،‬مگر مقصود كى تكمىل کے لىے تبعًا‪ ،‬کچھ مباحث اس بارے‬
‫میں مختصر طور پر ذكر كىے جاتے ہیں۔ سواگرچہ ہمىں اس‬
‫قسم كى چىزوں کی پوری حقیقت کی تحقىق وتفتىش كى اس لىے‬
‫ضرورت نہیں ہے کہ وہ شریعت كے اغراض ومقاصد سے تعلق‬
‫نہىں ركھتى‪ ،‬لىكن اىك حد تك كائنات طبعىہ كى بعض چىزوں‬
‫كا ذكر نصوص مىں كىا گىا ہے۔ تو ان چىزوں كا ‪،‬اِّن نصوص‬
‫كالم صادق ہے‪ ،‬جس قدر اور جس طور پر ذكر كىا‬
‫مىں جو كہ ِّ‬
‫گىا ہے‪ ،‬اسى طرح ماننا واجب ہے‪ ،‬اور اس کی ضد کا اعتقاد‬
‫ركھنایا دعوى کرنا سچے كالم کی تکذیب ہے‪ ،‬اس لىے جائز‬
‫نہیں۔ اس لىے ہم اىسے عقائد یا دعووں کی تکذیب کوواجب‬
‫سمجھیں گے۔چنانچہ بطور نمونہ ‪ ،‬مثال كے طور پر بعض امور‬
‫کا تذکرہ نامناسب نہ ہوگا۔‬
‫من جملہ ان کے‪ ،‬پہلے بشر کا مٹی سے پیدا ہونا ہے‪،‬‬
‫صراحت سے بىان كىا گىا ہے۔چنانچہ‬ ‫جونصوص میں‬
‫مذہب ِّارتقا كى بنىاد پر‪،‬اس مسئلے کی نسبت ىہ کہنا کہ‪ :‬حیوان‬
‫ترقی کرکے آدمی بن گیا‪ ،‬جیسا کہ ڈارون کا وہم ہے‪،‬یقینا باطل‬
‫ہوگا۔ اس لىے كہ نص تو اس کے خالف بات بتا رہى ہے۔ اور‬
‫نصوص كے بىان كے معارض کوئی عقلى دلیل ہے نہیں‪ ،‬نہ تو‬
‫ڈارون کے پاس ‪،‬جیسا کہ اس کی تقریر سے ظاہر ہے کہ اس نے‬
‫محض اپنی تخمىن اور اندازے سے یہ بات كہہ دى ہے۔ اور نہ‬
‫ڈارون کے مقلدىن كے پاس ہى كوئى عقلى دلىل ہے‪،‬جیسا کہ ان‬
‫کی تقریر سے بھى ظاہر ہوتا ہے ‪،‬بلكہ محض ڈارون کی تقلید‬

‫‪86‬‬
‫سے ایسا کہتے ہیں۔ بلکہ اگر غور کر کے دیکھا جائے تو اس‬
‫کی تقلید بھی نا تمام ہے ۔اصل میں بھی اور فرع میں بھی۔‬
‫اصل میں تو اس طرح کہ‪ :‬اس کے اس مضحكہ خىز‬
‫نظرىے كا قائل ہونے کی بنىاد اور اصل صرف ىہ بات بنى كہ‬
‫وہ دہرى تھا‪ ،‬اور هللا سبحانہ وتعالى كے خالق ہونے كا منكر تھا‪،‬‬
‫اس لىے مذہب کا قائل ہونا اس كے لىے ممكن نہ ہوا۔ اور مذہب‬
‫اپنا‬ ‫سے انكار ہى كى وجہ سے اسے ضرورت پڑى كہ‬
‫مذہب ِّارتقا ایجاد کرے۔ پس اس نے ضرورى سمجھا كہ ہر‬
‫تكون ىعنى بننےكى طبعى علت اور كىفىت نكالے۔پس‬ ‫شےكے ُّ‬
‫انسان کی پیدائش میں ا ُس نے یہ احتمال نکاال۔‬
‫اور جو شخص خالق كے وجود کا قائل ہے‪ ،‬جیسے اہل‬
‫صا اہل اسالم‪ ،‬ان کوخود سے مذہب ِّارتقا ء كا قائل‬
‫ملت‪ ،‬خصو ً‬
‫ب خلق کے قائل ہو سکتے‬ ‫ہونے کی ضرورت ہى نہىں۔ وہ مذہ ِّ‬
‫ہیں‪ ،‬اور بشر کی تخلیق بھی اسی طور سے مان سکتے ہیں‪ ،‬اور‬
‫مانتے ہىں۔ پھر ان کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ا ىسے مضحکہ‬
‫خىز مذہب کے قائل ہوں۔‬
‫اس بحث سے ثابت ہوا کہ‪ :‬جس اصولى نكتے نے ڈارون‬
‫کو صانع كے انكار پر مجبور كىا‪ ،‬خود اہل اسالم اس اصولى‬
‫نكتے میں اس سے متفق نہیں ہىں۔ پس اصل میں تو یوں تقلید نہ‬
‫ہوئی۔‬
‫رہی فرع ‪ ،‬تو اس میں اس لىے تقلید نا تمام ہے کہ‪ :‬ڈار ِّون‬
‫جو کسی حیوان کے بطور ارتقا ءکے‪ ،‬آدمی بن جانے کا قائل‬
‫ہے‪ ،‬سو کسی ایک فرد میں اس کا قائل نہیں ہے (كہ ً‬
‫مثال كوئى‬
‫بندر ترقى كرتے كرتے انسان بن گىا‪ ،‬اور پھر اس بندر سے انسان‬
‫بنے ہوئے فرد كى جو اوالد آگے چلى‪ ،‬وہ انسان پىدا ہونے‬
‫لگى)‪ ،‬اور نہ ہى اس کواس كا قائل ہونے کی کوئی طبعى‬
‫ضرورت ہے۔ بلکہ اس کا قول یہ ہے کہ جس وقت ترقی کرتے‬
‫کرتے حىوانى طبیعت میں انسان ہونے کی صالحیت پىداہو گئی‪،‬‬
‫تو ایک وقت میں ایک بڑى تعداد میں کسی حیوان کے افراد انسان‬

‫‪87‬‬
‫بن گئے۔‬
‫اور اہل اسالم چوں کہ اس نظرىے كے قائل نہىں ہو‬
‫سكتے‪ ،‬اس لىے كہ ان كاا ىمان نصوص پر ہے‪ ،‬اور نصوص مىں‬
‫ضرورى طور پر اول البشر کا تو حد وارد ہے‪( ،‬ىعنى نصوص‬
‫مىں ىہ بات كہ سب سے پہلے اىك انسان كو پىدا كىا گىا تھا‪ ،‬جس‬
‫سے آگے اس كى نسل چلى‪،‬اىسے صاف اور صرىح الفاظ مىں‬
‫بتائى گئى ہے كہ اسے ماننا ضرورى ہے)‪ ،‬لہذا‪ ،‬فرع میں بھی‬
‫موافقت نہ ہوئی۔ جیسا كہ اس زمانے میں بعضے بے باک اور‬
‫ناعاقبت اندیش گستاخ اس کے قائل ہو گئے ہىں كہ جو بندر سب‬
‫سے پہلے آدمى بنا‪« ،‬آدم» اسى كا نام ہے۔ نَعُ ْوذُ باهللِّ ِّم ْنهُ‪.‬‬
‫اس قول میں انبىاء كى جو گستاخی ہے وہ تو الگ رہی۔‬
‫افسوس تو یہ ہے کہ اس گستاخی کا قائل ہونے کے بعد بھی ڈار ِّون‬
‫کی موافقت کی دولت نصیب نہ ہوئی۔‬
‫ازیں سوراندہ‪ ،‬ازاں سو ماندہ‬
‫کی مثال صادق آگئی‪( ،‬كہ )۔‬
‫اورمن جملہ اِّن امور کے‪ ،‬رعد و برق ومطر کا تکون‬
‫ہے‪( ،‬ىعنى انہى امور طبعىہ مىں سے جن كا ذكر نصوص مىں‬
‫آىا ہے‪ ،‬بادلوں كى گرج ‪ ،‬چمك‪ ،‬كڑك اور بارش ہے)‪،‬کہ روایات‬
‫میں ان چىزوں كے بننے اور پىدا ہونے کی اىك کیفیت وارد‬
‫ہوئى ہے۔اور آج كل بعض آالت كے ذرىعے سے ان چىزوں كا‬
‫ت َك ُّون اور بننا كسى دوسرے طور پر مشاہدہ کرلیا گیا ہے۔ تو جو‬
‫باتىں نصوص مىں وارد ہىں‪ ،‬ان كى صرف اس بنا پر تكذىب‬
‫اور صرف اس بنا پر اسے جھٹال دىنا كہ ہمارا مشاہدہ دوسرى‬
‫طرح ہوا ہے‪،‬جائز نہیں۔‬
‫اور ىہ اس لىے کہ اگر دونوں میں تعارض ہوتا‪ ،‬تب تو‬
‫بے شک ایک بات کی تصدیق اور دوسرى بات كى تكذىب‬
‫ضرورى ہو جاتى‪ ،‬كہ مشاہدہ اس بات پر مجبور کرتا ہے‪ ،‬اور‬
‫اىك بات كى تصدىق‪،‬دوسرى بات كى تكذىب كو مستلزم ہوتى‪ ،‬لىكن‬

‫‪88‬‬
‫ىہاں تو تعارض كى كوئى دلىل ہے ہى نہىں‪ ،‬اس لىے اىك كى‬
‫نہىں ہے۔‬ ‫تصدىق اور دوسرے كى تكذىب كى بھى ضرورت‬
‫بلكہ عىن ممکن ہے کہ كبھی اىك نوع کے اسباب سے ان کا‬
‫تكون ہوتا ہو‪ ،‬كبھی دوسری نوع کے اسباب سے ہوتا ہو۔‬
‫اور نہ ہى روایات میں اىجاب ِّ كلى كا دعوى ہے۔ اور‬
‫مشاہدے سے تو موجبہ کلیہ حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔ دونوں جگہ‬
‫قضایا جزئىہ ‪ ،‬ىا مہملہ كہ قوت ِّ جزئىہ میں ہے‪ ،‬حاصل ہوتے‬
‫ہیں۔(ىعنى ان اشىاء كے بننے اور تكون كے بارے مىں جو خبر‬
‫نصوص دىتى ہىں‪ ،‬اور جو خبر جدىد آالت كا مشاہدہ دىتا ہے‪،‬‬
‫دونوں قسم كى خبروں مىں ىہ دعوى نہىں كىا گىا كہ ہمىشہ اسى‬
‫اىك سبب سے ىہ چىز بنے گى‪ ،‬بلكہ ان كا بىان جزئى قضىہ كے‬
‫طور پر ہوا ہے‪ ،‬كہ ان چىزوں كے تكون كا اىك طرىقہ ىہ بھى‬
‫ہے)۔تو جب اس قسم كے دو جزئى قضىوں مىں تناقض نہ ہونا‬
‫معلوم اور مسلم ہے‪ ،‬تو تناقض كا دعوى كىسے كىا جا سكتا ہے۔‬
‫پس جب تعارض نہىں ہے‪ ،‬تو دونوں كى تصدىق ممكن ہے‪ ،‬پھر‬
‫رواىات كى تكذىب كى كىا ضرورت ہے۔‬
‫اورمن جملہ اِّن امور کے‪(،‬ىعنى انہى امور طبعىہ مىں‬
‫سے جن كا ذكر نصوص مىں آىا ہے)‪ ،‬اسباب ِّ طاعون كى‬
‫رواىات ہىں‪ ،‬کہ وہ معاصی ىعنى گناہوں كى وجہ سے‪ ،‬ىا َوخز‬
‫جن‪ ،‬ىعنى جنات كے كچوكوں سے واقع ہوتا ہے۔سویہ بھی اس‬
‫مشاہدے کے معارض نہیں ہے جس مىں اس کا سبب خاص‬
‫کیڑے ثابت ہوئے ہیں۔ اس میں بھی وہی تقریر مذكورہ باال ہے‪،‬‬
‫كہ عىن ممکن ہے کہ كبھی اىك نوع کے اسباب سے ىہ بىمارى‬
‫ہوتى ہو‪ ،‬اور كبھی دوسری نوع کے اسباب سے واقع ہوتى ہو۔‬
‫اورمن جملہ اِّن امور کے‪(،‬ىعنى انہى امور طبعىہ مىں‬
‫سے جن كا ذكر نصوص مىں آىا ہے)‪،‬امراض کا متعدی نہ ہونا‬
‫ہے۔ اس کا بھی اس وقت تجربے کی بنا پر انکار کیا جاتا ہے۔ سو‬
‫غور وفكر كىا جائے تو اس میں بھی تعارض نہیں ہے‪ ،‬کیوں کہ‬
‫« َال َ‬
‫عد َْوى» کا ىہ مطلب ہو سكتا ہے كہ وہ ضروری نہیں‪ ،‬اس‬

‫‪89‬‬
‫طرح سے کہ كبھی تخلف نہ ہو‪ ،‬اور خالق كى اجازت كے بغىر‬
‫عد َْوى»‪ ،‬ىعنى متعدى‬
‫خود مؤثر ہو۔اور مشاہدہ سے اس طرح کا « َ‬
‫مرض ہرگز ثابت نہیں ہوا‪ ،‬بلکہ مشاہدہ اس کے خالف ہے کہ‬
‫كبھی عدوی نہیں بھی ہوتا۔ اورنصوں سے ہر امر کا هللا تعالى‬
‫كے ارادے پر موقوف ہونا ثابت ہوتا ہے۔‬
‫اورمن جملہ اِّن امور کے‪(،‬ىعنى انہى امور طبعىہ مىں‬
‫سے جن كا ذكر نصوص مىں آىا ہے)‪ ،‬تعد ِّد ارض‪ ،‬ىعنى كئى‬
‫زمىنوں كا ہونا ہے‪ ،‬كہ روایات میں مذکور ہے۔ اس کاصرف اس‬
‫بنا پر انکار كرنا كہ اب تك ان زمىنوں كا مشاہدہ نہىں ہوا ‪،‬جائز‬
‫نہیں‪،‬کیوں کہ عدم مشاہدہ ‪ ،‬مشاہدۂ ِّعدم کو مستلزم نہیں‪،‬اور‬
‫احتجاج ثانی سے ہوسکتا ہے نہ اول سے۔ (ىعنى دلىل دوسرى‬
‫بنىاد كو بناىا جا سكتا ہے ‪ ،‬نہ كہ پہلى بات كو‪ ،‬ىعنى مشاہدہ نہ ہونا‬
‫دلىل نہىں بن سكتا۔‬
‫رہا یہ سوال کہ‪ :‬روایات میں ان زمىنوں کا اس زمىن‬
‫كے نىچے ہونا آیا ہے‪ ،‬سوہم نے کرۂ ِّ ارض کے گرداگرد پھر‬
‫کر دیکھا‪ ،‬کسی جانب بھی ان کا وجود نہىں ہے۔‬
‫اس کا جواب یہ ہے‪ :‬ممکن ہے کہ وہ اس وسىع فضا‬
‫میں‪ ،‬ہمارى زمىن سے اس قدر دور ہوں کہ نظر نہ آتی ہوں‪ ،‬یا‬
‫بہت چھوٹی نظرآتی ہوں‪ ،‬اور ہم ان کو کواکب سمجھے ہوئے‬
‫ہوں۔ اور ان زمىنوں كا تحت ىعنى نىچے كى جانب ہونا بعض‬
‫حاالت اور بعض اوقات کے اعتبار سے ہو‪ ،‬ورنہ وضع كى‬
‫تبدىلى سے كبھی اوپر ہوجاتی ہوں‪ ،‬كبھى نىچے۔‬
‫اورمن جملہ اِّن امور کے‪(،‬ىعنى انہى امور طبعىہ مىں‬
‫سے جن كا ذكر نصوص مىں آىا ہے)‪« ،‬یاجوج ماجوج» کا وجود‬
‫ہے۔ یہاں بھی مشاہدہ نہ ہونے سے استدالل ہے‪ ،‬جس مىں استدالل‬
‫کی صالحیت كا نہ ہونا اوپر معلوم ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ جس‬
‫قطب كى اب تك تحقىق نہىں ہو سكى‪ ،‬وہاں موجود ہوں۔ اور ىہ‬
‫بھى ممکن ہے کہ کوئی بڑا جزیرہ اب تك سامنے آنے سے رہ‬
‫گىا ہو۔(اور جب موقع ہو‪ ،‬تب وہ جزىرہ ظاہر ہو جائے)۔‬

‫‪90‬‬
‫اورمن جملہ اِّن امور کے‪(،‬ىعنى انہى امور طبعىہ مىں‬
‫سے جن كا ذكر نصوص مىں آىا ہے)‪،‬آسمان کا جسم صلب (ىعنى‬
‫سخت جسم ہونا)‪ ،‬اور اس کا متعدد ہونا ہے۔ اس میں بھی اسی‬
‫مشاہدہ نہ ہونے كو دلىل بناىا گىا ہے‪ ،‬اور بارہا اس مىں استدالل‬
‫کی صالحیت كا نہ ہونا اوپر معلوم ہو چكا ہے۔‬
‫اورمن جملہ اِّن امور کے‪(،‬ىعنى انہى امور طبعىہ مىں‬
‫سے جن كا ذكر نصوص مىں آىا ہے)‪،‬بعض کواکب (ستاروں)‬
‫کا متحرک ہونا ہے‪ ،‬جىسے‪ :‬شمس اورقمر ‪ ،‬كہ نصوص میں‬
‫حرکت کو ان کی طرف منسوب فرمایا گیا ہے‪ ،‬جس سے صاف‬
‫لفظوں مىں ىہى ظاہر ہوتا ہے كہ وہ حقىقت مىں حركت كى صفت‬
‫سے متصف ہىں‪ ،‬نہ ىہ كہ حقىقت مىں تو ساكن ہوں‪ ،‬اور صرف‬
‫دىكھنے مىں اىسا لگے كہ حركت كر رہے ہىں۔‬
‫اور اس بحث سے ہمارا مقصود سورج كے ٹھہرے ہونے‬
‫کا انکار کرنا ہے‪ ،‬نہ ىہ كہ ہم زمىن كے متحرك ہونے كا انكار‬
‫كر تے ہىں۔ شریعت نے اس سے نفی یا اثبات كے اعتبار سے‬
‫بالکل بحث نہیں کی۔ ممکن ہے کہ دونوں میں خاص خاص‬
‫حرکتىں ہوتى ہوں‪ ،‬جس کے مجموعے سے یہ خاص اوضاع‬
‫مشاہدہ حاصل ہوتی ہوں۔‬
‫اورمن جملہ اِّن امور کے‪(،‬ىعنى انہى امور طبعىہ مىں‬
‫سے جن كا ذكر نصوص مىں آىا ہے)‪،‬سورج كى حركت كے‬
‫موجودہ جارى نظام كا اس طور سے بدل جانا ہے کہ وہ بجائے‬
‫مشرق کے ‪،‬مغرب كى جانب سے طلوع ہو جائے۔ وہ نصوص‬
‫ب قىامت مىں سورج كا مغرب سے طلوع ہونا مذكور‬
‫جن مىں قر ِّ‬
‫ہے‪ ،‬ان كا صرف اس وجہ سے انكار كىا جاتا ہے كہ مشاہدے‬
‫مىں ہمىشہ اىسا ہى آىا ہے كہ سورج مشرق سے نكال كرتا ہے۔تو‬
‫اس نظام کا دوامى مشاہدہ ‪ ،‬اس تبدیلى كے محال ہونے كى دلىل‬
‫نہىں ہو سكتى جیسا کہ علوم عقلیہ میں ثابت ہو چكاہے۔ اور ظاہر‬
‫بھی ىہى ہے کہ دوا م ضرورت کو مستلزم نہىں ہے(ىعنى ىہ‬
‫ضرورى نہىں ہے كہ اگر ہمارے مشاہدے مىں كوئى بات ہمىشہ‬

‫‪91‬‬
‫اىك ہى طرح ہوتى نظر آئے‪ ،‬تو اس كے خالف ہو ہى نہ سكتا ہو۔‬
‫زىادہ سے زىادہ اس كى ہمىشگى عادت كہالئے گى۔ اور اس‬
‫عادت كے خالف ہوسكنا ممكن ہوگا‪ ،‬چنانچہ اگر كسى دلىل سے‬
‫اس كا خالف ثابت ہو جائے‪ ،‬تو ممكن كا وقوع ثابت ہو جائے گا)۔‬
‫اور سورج كے مغرب سے نكلنے كے بارے مىں ىہ شبہ‬
‫ہو كہ اىسا ہونا خالف فطرت ہے ‪ ،‬تو اس کا حل (انتبا ِّہ دوم )میں‬
‫ہوچکا ہے۔‬
‫اورمن جملہ اِّن امور کے‪(،‬ىعنى انہى امور طبعىہ مىں‬
‫جن كا ذكر نصوص مىں آىا ہے)‪،‬جہت فوق میں جسم‬ ‫سے‬
‫بشری کے اس قدر بلند ہونے کا امکان ہے کہ جہاں ہوا موجود‬
‫نہ ہو‪( ،‬ىعنى انسانى جسم اتنا اوپر كى جانب چال جائے كہ وہاں‬
‫ہوا ہى نہ ہو)۔‬
‫اس وقت محض اس بنا پر اس بات كا انکار کیا جاتا ہے‬
‫كہ‪ :‬اس جگہ زندہ رہنا فطر ت كے خالف ہے ۔ اور اسی شبہے‬
‫حضور اكرم ﷺ كے جسمانى‬
‫ِّ‬ ‫نے اس بات كى راہ ہموار كى كہ‬
‫طور پر معراج کا انکار كىا جائے۔سو اس كے جواب مىں ىہى‬
‫كہنا كافى ہے كہ اوپر انتبا ِّہ دوم مىں (خالف ِّفطرت کی بحث)‬
‫مالحظہ فرما کر اس کا جواب حاصل کرلیا جائے۔‬
‫کو وسعت دی جائے‪ ،‬تو‬ ‫عقلی احتمال‬ ‫اور اگر‬
‫خالف ِّفطرت ہونے کا بھى قائل نہىں ہونا پڑتا‪ ،‬کیوں کہ اىسی‬
‫خالف‬
‫ِّ‬ ‫جگہ جہاں ہوا بھى نہ ہو بشر كا زندہ رہنا ‪ ،‬اس وقت‬
‫عادت ہے جب وہاں اىك معتد بہ وقت تك ُمكث بھى ہو‪( ،‬ىعنى‬
‫جب كافى دىر تك اىسى ہواسے خالى جگہ ٹھہرا بھى رہے)۔ اور‬
‫اگر برق وبجلى كى طرح بہت تىز حرکت کے ساتھ وہاں سے‬
‫گزر جائے‪ ،‬تو اس وقت حیات كا باقى رہنا خالف ِّفطرت بھی‬
‫نہیں۔‬
‫جیسا كہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر انگلى کوتھوڑی دیر تک‬
‫آگ میں رکھا جائے تو جل جاتی ہے۔ لیکن اگر كوئى شخص‬
‫بڑى تىزى سے جلدی جلدی انگلى كو آگ میں سے نکال كر‬

‫‪92‬‬
‫لے جائے تو نہیں جلتى‪ ،‬حاالں کہ آگ کے اندر سے عبور ہوا‬
‫ہے۔ سواگرمعراج كے قصے مىں بھى ىہ مان لىا جائے كہ اس‬
‫طبقے میں سے جس مىں ہوا نہىں ہے‪ ،‬فورا ً نکال کر اوپرلے‬
‫جاىا گىا ‪ ،‬اور وہاں اوپر جا كر پھر ہوا‪ ،‬یا ہوا کى خاصیت‬
‫جىسى کوئی دوسرى چىز فضا یا آسمان میں موجود ہو‪،‬تو اس‬
‫میں کیا حرج ہے‪!!..‬؟۔‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪93‬‬
‫انتبا ِّہ ىاز دہـم‪:‬‬
‫متعلق مسئلہ تقدىر‬

‫ف ارادۂ ِّخداوندی ہے۔‬


‫وتصر ِّ‬
‫ُّ‬ ‫اس مسئلے كى بنىاد کا علم‬
‫جوشخص بھى هللا تعالى کا‪ ،‬اور اس کی صفات ِّکمال کا قائل‬
‫ہوگا ‪،‬اس کو اس تقدىر كے مسئلے کا قائل ہونا واجب ہوگا۔ مگر‬
‫اس وقت اس مسئلہ میں بھی چند غلطیاں کی جاتی ہیں۔‬
‫بعض لوگ تو سرے سے تقدىر کا انکار ہی کردىتے ہیں۔‬
‫اور ان كے انكار كى بنىاد ‪،‬ان لوگوں کا محض یہ خیال ہے‬
‫کہ‪ :‬اس مسئلے کے اعتقاد سے تدبیر کا ابطال ہوتا ہے۔ او ر ہر‬
‫قسم كى كم ہمتى اور پست ہمتى كى اصل بنىاد تدبیر کا معطل‬
‫ہونا ہى ہے۔‬
‫اور واقعہ ىہ ہے كہ یہ خیال خود ہى غلط ہے‪ ،‬کوئى‬
‫شخص اپنے سوء فہم سے تدبىر کو باطل اور معطل سمجھ‬
‫جائے تو یہ مسئلہ اس کا ذمے دار نہىں ‪ ،‬كىوں كہ كسى نص نے‬
‫تدبیر كرنے كو باطل نہىں کیا۔ بلکہ سعی واجتہاد‪،‬اور کسب‬
‫تزود للسفر‪( ،‬ىعنى سفر كے لىے زا ِّد راہ لے لىنا)‪،‬‬
‫ِّمعیشت ‪ ،‬اور ُّ‬
‫اور دشمن كےمفاسد ومكائد اور جال سے بچنے كے لىے تدبىر‬
‫كا حكم بے‬ ‫اختىار كرنے‪ ،‬اور اس جىسے دىگر كئى كاموں‬
‫شمارنصوص میں بڑے واضح الفاظ مىں وارد ہے۔‬
‫بعض احادیث میں آتا ہے كہ جب ىہ اشکال پىش كىا گىا‬
‫كہ ‪ :‬كىا دعا اور دوا وغیرہ دافعِّ قدر ہیں‪( ،‬ىعنى كىا دعا اور‬
‫دوا سے تقدىر ٹل جاتى ہے)؟ ‪،‬تو کیا ہى مختصر اور كافى جواب‬
‫ارشادفرمایا گیا ہے کہ ‪«:‬ذَلَكَ َمنَالقدَرَكلَّهَ»‪.‬كہ‪ :‬ىہ سب تو خود‬
‫قدر كا حصہ ہے۔‬

‫‪94‬‬
‫اوربعض لوگوں نے نصوص صریحہ کودیکھ کر انکار‬
‫کی گنجا ئش تو نہ پائى‪ ،‬مگر ىہ سمجھ كر کہ اس میں انسان کا‬
‫مجبور اور غیرمختار ہونا ‪،‬جو کہ مشاہدے كے خالف ہے‪ ،‬الزم‬
‫آتا ہے‪ ،‬اس کی تفسىر بدل ڈالی‪ ،‬اور اس کی تفسىر ىہ قرار دی‬
‫کہ ‪ :‬تقدىر علم الہى كا نام ہے‪ ،‬اور علم چوں کہ معلوم میں‬
‫تصرف نہیں كرتا‪ ،‬اس لىے اس کے تعلق سے وہ اشکال الزم‬
‫نہیں آتا۔‬
‫اور اس کی مثال نجومى كے كسى بات پر مطلع ہونے‬
‫‪،‬اور اس کى پیشین گوئی کرنے سے دی ‪،‬کہ اگر وہ کہہ دے کہ‬
‫فالں تاریخ كو ‪،‬فالں شخص كنویں میں گر کر مرجائے گا‪ ،‬اور‬
‫ایسا ہی واقع ہوگیا‪ ،‬تو یوں نہ كہیں گے کہ اس نجومی نے قتل‬
‫کردیا۔‬
‫لیکن نصوص میں نظر کرنے واال دریافت کرسکتا ہے‬
‫اور عقلی مسئلہ بھی ہے کہ جس طرح کوئی واقعہ علم الہى كے‬
‫تعلق سے خالی نہیں‪ ،‬اسی طرح کوئی واقعہ هللا كے ارادے كے‬
‫تعلق سے بھی خالی نہیں ہے۔ اور تقدیر کی حقیقت بھى ىہى ہے۔‬
‫ہاں اگرکوئی شخص اپنی اصطالح میں اس کا نام«تقدىر» نہ ر‬
‫کھے تو نہ ركھے‪ ،‬لیکن كسى بھى واقعے سے‪،‬خود هللا كے اس‬
‫ارادے كے تعلق کا انکار تو نہىں كر سكتا۔‬
‫پس تقدیر کی تفسىر بد لنے سے اشکال سے کیا نجات‬
‫ہوئی‪!!..‬؟۔‬
‫پس تحقىق اس کی یہ ہے کہ‪ :‬خود ىہی مقدمہ غلط ہے کہ‬
‫ارادۂ خداوندی کے خالف كے محال ہونے سے اختیار کی نفى‬
‫الزم آتى ہے۔ اس کے دو جواب ہیں‪ :‬ایک جواب الزامى ہے‪،‬‬
‫دوسرا تحقىقى ہے۔‬
‫الزامی جواب تو یہ ہے کہ‪ :‬اگر ارادۂ خداوندی کے خالف‬
‫ہونے كے محال ہونے سے اختیار کی نفى الزم آجائے ‪،‬تو ظاہر‬
‫ہے کہ ارادۂ الہیہ‪ ،‬خود اَفعال الہیہ سے بھی تو متعلق ہے‪ ،‬تو‬
‫الزم آئے گا کہ خود هللا تعالی کا اختیار بھى اُن افعال پر باقی نہ‬

‫‪95‬‬
‫رہے۔ اور حاالں کہ اس بات کا کوئی عاقل قائل نہیں ہوسکتا۔‬
‫اور تحقىقى جواب ‪ ،‬كہ وہی حقیقت میں اس مسئلے کا‬
‫راز ہے‪ ،‬یہ ہے کہ‪ :‬ارادہ کا تعلق افعا ِّل عباد كے محض وقوع‬
‫ہی کے ساتھ نہیں‪ ،‬بلکہ ایک قید کے ساتھ ہے‪ ،‬ىعنى وقوع‬
‫باختیارہم۔(ىعنى هللا تعالى كے ارادے كا تعلق بندوں كے افعال كے‬
‫ساتھ ہوتا ہے‪ ،‬لىكن ىہ تعلق محض اتنا سا نہىں ہے كہ بندے‬
‫كے فعل كے وقوع تك ہى ہو‪ ،‬اور بس۔ بلكہ اس تعلق مىں ىہ بات‬
‫بھى داخل ہے كہ ‪ :‬بندہ اپنے اختىار سے اىك فعل كرے۔ تو جب‬
‫بندہ اپنے اختىار سے اىك فعل كرنے لگے گا‪ ،‬تو هللا كے ارادے‬
‫كا تعلق بندے كے اس فعل سے ہو جائے گا‪ ،‬اور وہ كام واقع ہو‬
‫جائے گا)۔‬
‫پس جب هللا كے ارادے كا تعلق ‪،‬اس متعلق کے وجوب‬
‫کو مستلزم ‪،‬ہے تو اس سے تو بندوں كا اختیار ‪ ،‬اور اختىار كى‬
‫موجودگى مزىد مؤكد اور پكى ہو گئى‪ ،‬نہ ىہ كہ منفى ہوئى۔ اور‬
‫ىہ بہت ہى ظاہر ہے۔‬
‫اور یہ شبہ‪ ،‬کہ اکثردیکھا جاتا ہے کہ جو اس مسئلہ کے‬
‫قائل ہىں‪ ،‬وہ بے دست وپا ہوکر بیٹھ رہتے ہیں‪ ،‬تو اس کا جواب‬
‫یہ ہے کہ‪ :‬یہ ان کی کاہلی اور سستى کا اثر ہے‪ ،‬نہ کہ اس مسئلہ‬
‫کا ۔ اگر اس مسئلے کا یہ اثر ہوتا تو صحابہ كرام علىہم‬
‫الرضوان(نعوذ باهلل) ‪،‬سب سے زیادہ كم ہمت ہوتے۔ لىكن‬
‫اگرغورکر کے دیکھا جائے تو اس کا اثر تو یہ ہے کہ‪ :‬اگر تدبیر‬
‫ضعیف بھی ہو ‪،‬جب بھی کام شروع کردے‪ ،‬جیسا کہ صحابہ كرام‬
‫ان كى نظر هللا تعالى پرتھی ‪،‬تو بے‬ ‫رضى هللا عنہم ‪ ،‬كہ‬
‫سروسامانی کے باوجود ‪ ،‬محض هللا تعالى پر توكل كر كے‬
‫‪،‬كىسے جان توڑ کر خطرات میں جا گھسے۔ اور ىہى مضمون‬
‫اس آىت مىں بىان كىا گىا ہے‪ :‬ﮋﭾﯛﯜﮁﯞﮃﭔﮅفئ َةًقليلةَڈفئ َةًﮊﮋڑڑ ک‬
‫کککﮊَ[البقرة‪.]249َ:‬‬
‫اور حدیث میں بڑى وضاحت اور صراحت سے ىہ قصہ‬
‫سرور دو عالم ﷺ كے‬
‫ِّ‬ ‫حضور اكرم‬
‫ِّ‬ ‫آیا ہے کہ‪ :‬کوئی شخص‬

‫‪96‬‬
‫اجالس میں مقدمہ ہارگیا‪ ،‬اور ہار کر کہا کہ‪«َ :‬حسبي َهللا َونعمَ‬
‫الوکيل»۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا‪« :‬إنَََّهللاََيلومَعَلَىَالعجز‪َ،‬وَلَكَنََ‬
‫علَيَكَبَالكيسَ‪َ،‬فَإذَاَغلبكََأمَرَ‪َ،‬فَقَلَ‪َ:‬حسَبَيَهللاََوَنَعَمََالَوَكَيَلَ»۔(رواہ أبو‬
‫َ‬
‫داود)‪َ .‬‬
‫البتہ اس عقىدۂ ِّ تقدىر كا یہ اثر الزم ہے کہ وہ تدبیر کو‬
‫حقیقی مؤثر نہىں سمجھے گا۔ تو یہ تو خود عقلى ونقلى طور سے‬
‫صحىح دلىل كا تقاضا ہے‪ ،‬اس پر کىا مالمت ہوسکتی‪ ،‬ہے بلکہ‬
‫اگر اس کے خالف کا اعتقاد ہو‪،‬تو وہ قابل مالمت ہے۔‬
‫اور اىسا عقىدہ ركھنے واال تدبىر اختىار كرنے كا درجہ‬
‫اتنا ہى سمجھے گا جیسا رىل كے رك جانے كے نسبت جھنڈی‬
‫کا درجہ ہوتا ہے‪ ،‬كہ نہ تو معطل ہے ‪ ،‬اور نہ مؤثر حقىقى۔ پس‬
‫وہ چوکیدار جب کسی خطرے کے وقت ریل کوروکنا چاہے گا‪،‬‬
‫تو تدبیر تو ىہی کرے گا كہ جھنڈى لہرا دے‪ ،‬مگر اس کی نظر‬
‫زبان حال وہ ىہى مترنم ہو‬
‫ِّ‬ ‫ڈرائیور یاگارڈ پر ہى ہوگی ‪ ،‬اور بہ‬
‫گا‪:‬‬
‫زلف تست مشک افشانی‪ ،‬ا َما عاشقاں‬
‫کار ِّ ِّ‬
‫مصلحت را تہمتے بر آہوئے چین بستہ اند‬
‫رہا یہ کہ جب یہ مسئلہ اس طرح عقل و نقل سے ثابت‬
‫ہے‪ ،‬تو اس کی کاوش (ىعنى اس مىں غور وفكر كرنے)سے‬
‫ممانعت کیوں بیان کی جاتی ہے۔‬
‫تو اس كى وجہ یہ ہے کہ بعض شبہات عقلى نہیں ہوتے‪،‬‬
‫بلكہ طبعى ہوتے ہیں‪ ،‬جن کی شفا کے لىے دلیل کافی نہیں ہوتی‪،‬‬
‫بلکہ وجدان كےصحىح ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ چوں کہ‬
‫صحىح وجدان والے لوگ بہت کم ہیں‪ ،‬اس لىے طبعى امور مىں‬
‫کاوش سے اىسے شبہات بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے ‪،‬جو تمدن اور‬
‫آخرت دونوں کے لىے مضر ہے۔ اس لىے نبوى حكمت وشفقت‬
‫كا تقاضا ىہی ہوا کہ اس سے روك دىا جائے‪ ،‬جىسا كہ شفیق طبیب‬
‫‪ ،‬ضعیف مرىض کوقوی غذا سے روک دىا كرتا ہے۔‬

‫‪97‬‬
* * * * *

98
‫انتبا ِّہ دواز دہـم‪:‬‬
‫اركان اسالم وعباداتـ‬
‫ِّ‬ ‫متعلق‬

‫بعض لوگوں نے ان میں یہ غلطى کی ہے کہ ان احکام‬


‫کو مقصود بالذات نہىں سمجھا‪ ،‬بلکہ اپنی رائے سے ہر حكم كى‬
‫ایک حکمت تالش كى‪ ،‬اور پھر ان حكمتوں كو مقصود سمجھنے‬
‫لگے۔ پھر اىك قدم اور آگے بڑھے اور ىہ كہا كہ ان حکمتوں‬
‫اورمصلحتوں کو عبادات كى بجائے دوسرے طرىقوں سے بھى‬
‫حاصل کىا جا سكتا ہے۔ اور پھر ىہ كہا كہ جب ىہ حكمتىں اور‬
‫مصلحتىں عبادات كے بغىر بھى حاصل ہو سكتى ہىں‪ ،‬تو پھر اُن‬
‫احکام کی ضرورت ہى نہىں ہے۔‬
‫مثال‪ :‬نماز میں تہذیب واخالق کو‪ ،‬اور وضو میں صرف‬
‫تنظىف کو‪ ،‬اور روزے میں بہىمى قوت كو زىر كرنے اور قابو‬
‫كر لىنے كو‪ ،‬اور زکاة میں اىسے لوگوں کی دست گیری کو جو‬
‫ترقی کے ذرائع پر قادر نہیں‪ ،‬اور حج میں اجتماع تمدنی اور‬
‫ترقی وتمرن وتجارت كو‪ ،‬اور تالوت ِّقرآن مىں صرف مضامىن‬
‫پر مطلع ہونے كو‪،‬اور د عامىں صرف نفس کی تسلى کو‪ ،‬اور‬
‫اِّعالئے کلمۃ هللا میں صرف امن و آزادی کو مصلحت قرار دے‬
‫کر‪،‬‬
‫جب ان مصالح کی ضرورت نہ رہی‪ ،‬یا وہ مصالح كسى‬
‫دوسرے اسباب سے حاصل ہو جائىں‪ ،‬تو ان حالتوں میں ان احکام‬
‫کو الىعنی قراردے دىا۔ اور جب نفس كو اتنا سہارا مال‪ ،‬پھر‬
‫مصالح کے حصول کا انتظار بھى نہ رہا‪ ،‬بالکل انکو چھوڑ‬
‫کرمعطل ہو بىٹھے۔‬
‫اس نظرىے كا مفصل رد‪( ،‬انتباہ سوم) کی (چھٹى‬

‫‪99‬‬
‫غلطى) کے بیان کے ضمن میں ہوچکا ہے ‪،‬مگر آسانى سے‬
‫سمجھانے كى ضرورت كى وجہ سے دوبارہ بىان كىا جاتا‬
‫ہے۔چنانچہ‪:‬‬
‫كبھی اس میں یہ خرابی ہوگی کہ احکام میں تصرف‬
‫وتبدىلى کرے گا ‪ ،‬جیسا كہ اس وقت بعض لوگوں نے قربانی میں‬
‫کیا ہے کہ قربانى سے مقصود محض اِّنفا(ىعنى خرﭺ كرنا ) تھا۔‬
‫اس وقت مال موىشى كى كثرت ہونے كى وجہ سے اس کی ىہی‬
‫اىك صورت تھی۔ اب روپیہ کی حاجت ہے ‪ ،‬لہذا‪ ،‬ا َب اس کی‬
‫صورت بدل دینى چاہىے۔‬
‫پھر یہ بھى ہے کہ حكمتیں بھى کہاں تک نکالی جائیں‬
‫گی۔ کیا کوئى شخص رکعتوں كى تعداد کی حکمت بتال سکتا‬
‫ہے؟۔ اور اگر عقل ان باتوں کے لىے کافی ہوتی‪ ،‬تو انبیاء علىہم‬
‫السالم کے آنے کی ضرورت ہى نہ تھی‪ ،‬جب کہ دنیا میں ہر‬
‫زمانے میں بہت سے عقالء اور حكماء پائے گئے ہیں۔‬
‫ا ُن‬ ‫اور اگر حقیقت میں غور کیا جائے‪،‬توصرف‬
‫مصلحتوں کا اختراع کرناجودرحقیقت سب كى سب دنىا كى‬
‫طرف لوٹتى ہیں‪ ،‬درپردہ آخرت كے مقصود ہونےكا انکا رہے۔‬
‫اگر منكرىن سے كہا جائے كہ‪ :‬آخرت كا عالم ‪ ،‬جو‬
‫مسلمانوں كے نزدىك اىك واقعى حقىقت ہے‪ ،‬آپ بھى فرض كر‬
‫لىجىے كہ اگر ہے‪ ،‬اور ظاہر ہے کہ وہ اىك دوسرا ہى عالم ہے‪،‬‬
‫تو اس کے خواص ممکن ہے کہ یہاں کے خواص سے كچھ نسبت‬
‫نہ رکھتے ہوں‪ ،‬جیسا كہ ایک اقلیم کو دوسری اقلیم سے كوئى‬
‫نسبت نہىں ہوا كرتى ‪ ،‬اور مریخ کو اس زمىن سے كوئى نسبت‬
‫نہىں ہے‪ ،‬اور آخرت كے وہ خواص ہم کومعلوم نہ ہوں‪ ،‬اور ان‬
‫کا حاصل ہونا خالص اعمال پر موقوف ہو‪،‬جن کی مناسبت و‬
‫ارتباط کی وجہ ہم کو معلوم نہ ہوسکتی ہو‪ ،‬تو اس مىں كىا عقلى‬
‫استبعاد ہے۔‬
‫اور اس سب کے عالوہ ‪،‬اگر کوئی شخص ىہى معاملہ‬
‫حكام وقت كے قوانین کے ساتھ کرنے لگے کہ ہر حكم کی ایک‬

‫‪100‬‬
‫مصلحت اور حکمت اختراع کر کے‪ ،‬اور اس مصلحت کو‬
‫دوسرے سہل طریقے سے حاصل کر کے‪ ،‬اصل قانون کی‬
‫بجاآوری سے انکار کر بىٹھے‪،‬تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ‬
‫وقت كے حکام اس کے واسطے کیا تجویز کریں گے۔‬
‫عام سى بات ہے کہ اگر کسی شخص کے نام عدالت سے‬
‫ت شہادت سمن آ جائے‪ ،‬اور وہ اطالع یابی لکھ کر‪ ،‬عین‬
‫بہ حیثی ِّ‬
‫تاریخ پر حاضر نہ ہو‪ ،‬مگر یہ کہہ کر كہ حاضرى سے مقصود‬
‫تو بس شہادت ہے‪ ،‬جس کا دوسرا آسان طریقہ بھى ہے‪ ،‬اور‬
‫رجسٹرى كے ذر یعہ تمام اظہارات قلم بند کر کے ڈاک میں بھىج‬
‫دے‪ ،‬خاص کر جب کہ عدالت كا حاكم اس شخص کے دستخط‬
‫بھی پہچانتا ہو‪،‬تو کیا ىہ شخص اس اعالن کا مستحق نہ ہو گا‬
‫جو کہ سمن میں لكھا ہوا تھا کہ‪« :‬اگر حاضر نہ ہوئے‪ ،‬تو‬
‫گرفتارى كا وارنٹ جاری کیا جائے گا»‪!!.. ،‬؟۔ یا بجائے سالم‬
‫کے ایک پرچہ لکھ کر دے دیا کرے‪ ،‬تو کیا ىہ کافى ہوگا؟۔‬
‫اور ہماری اس تقریر سےکوئی شخص یہ گمان نہ کرے‬
‫کہ ہم شرائع اور احکام کو حكم اور ا َسرار سے خالی سمجھتے‬
‫ہیں‪ ،‬یا یہ کہ اس کے اسرار پر حکما ئے اُمت کو بالکل اطالع‬
‫نہیں ہوئی۔ ضرور اس میں اسرار بھى ہیں ‪،‬اور كسى قدر اطالع‬
‫بھی ہوتی ر ہى ہے‪ ،‬اور اب بھی ہوتى ہے‪ ،‬لیکن اس كے ساتھ‬
‫ہی ذہن مىں ىہ بات پختہ ہونى چاہىے كہ امتثا ِّل امر كا دار ومدار‬
‫وہ اطالع نہیں ہے۔ اگر اطالع نہ بھی ہو‪ ،‬تو بھى شرىعت كے‬
‫اركان واوامر كا پورا كرنا واجب ہے۔‬
‫بالكل ملك كے قانون كا سا حال ہے کہ رعایا کو اس کے‬
‫ماننے میں انکشاف ِّلم (ىعنى علت كے علم ) كا انتظار جرم عظىم‬
‫ہے۔ اور پھر بھی جو كچھ بیان کردیا جاتا ہے‪ ،‬وہ محض تبرع‬
‫ہے‪ ،‬اور جس قدر اطالع ہے وہ بھی ظنى اور تخمىنی ہے۔‬
‫اوربعض احكامات اىسے ہىں كہ ان كى علت كى اطالع‬
‫تو بالکل بھی نہیں ہے۔ اور اس پر كچھ تعجب بھى نہىں ہے۔ ہم‬
‫دیکھتے ہیں کہ گھر کےنوکر کوبعض خانگى انتظامات کی ِّلماور‬

‫‪101‬‬
‫علت معلوم نہىں ہوسکتی‪ ،‬حاالں کہ وہ منتظم بھی نو کر كى‬
‫طرح مخلوق ہى ہے۔ جب مخلوق کومخلوق کے بعض اسرار‬
‫معلوم نہیں‪ ،‬حاالں کہ دونوں كے علم میں نسبت محدود ہے ‪،‬تو‬
‫اگر مخلوق كو خالق کے اسرار پر بالکل ہی اطالع نہ ہو‪ ،‬یا‬
‫صحىح اطالع نہ ہو سكے‪ ،‬کیوں کہ دونوں کے علم میں تفاوت‬
‫غیرمتنا ہی ہے‪ ،‬تو اس مىں کیا تعجب ہے ‪!!..‬؟۔‬
‫بلکہ بقول ایك فلسفى كے‪ ،‬اگر سب احکام کی تمام كى‬
‫تمام عقلى وجوہ معلوم ہوجائیں تو شبہ یہ پڑے گا کہ شاید کسی‬
‫ایک فرد‪ ،‬یا اہل عقل كى ایک جماعت نے مل كر یہ مذہب تراشا‬
‫ہو‪ ،‬کہ دوسرے عقال بھی اس کی ِّلم تک پہنﭻ گئے۔ خدائی مذہب‬
‫کی شان تو یہ ہونى چاہىے کہ اس کے اسرار تک کسی کو بالکل‪،‬‬
‫یا بتمامہ رسائی نہ ہو۔‬
‫اور ىہ بھى ذہن نشىن رہے كہ اس تقریر سے یہ گمان نہ‬
‫کیا جائے کہ جن احکام کی عقلى وجہ سمجھ میں نہىں آئی‪ ،‬وہ‬
‫عقل کے خالف ہیں۔ نہىں ہرگز نہیں۔ عقل کے خالف ہونا اور‬
‫بات ہے‪ ،‬اور عقل میں نہ آنا اوربات ہے۔ (اصو ِّل موضوعہ نمبر‬
‫(‪))1‬۔‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪102‬‬
‫انتبا ِّہ سىز دہـم‪:‬‬
‫ت باہمى وسىاسىاتـ‬‫متعلق معامال ِّ‬
‫اس کے متعلق ایک غلطی یہ کی جاتی ہے کہ معامالت‬
‫و سیاسیات کو دین اور شریعت کا حصہ نہیں سمجھتے۔ محض‬
‫تمدنی اُمور سمجھ کر اس کا مدار زمانے والوں كى رائے اور‬
‫ت زمانہ پر سمجھا جاتا ہے‪ ،‬اور اس باب میں اپنے آپ‬
‫مصلح ِّ‬
‫کوتصرف کرنے کا مختار سمجھا جاتا ہے۔ اور اسی بنا پر ربا‪،‬‬
‫ىعنى سود تک کے حالل کرنے کی فكر میں ہیں‪ ،‬اور علماء کو‬
‫بھی اس کی رائے دىتے ہیں۔ اور ان کے قبول نہ کرنے پر غیظ‬
‫و غضب کا اظہار كرتے‪ ،‬اور ر ان کوترقی کا دشمن سمجھتے‬
‫ہیں۔‬
‫خوب سمجھ لینا چاہىے کہ سب سے پہلے تو شریعت‬
‫میں کسی چیز کے داخل ہونے ىا نہ ہونے کے معیار كى تحقىق‬
‫کرلى جائے‪ ،‬تاکہ اس کا آسانی سے فیصلہ ہوجائے۔ سووہ معىار‬
‫صرف ایک ہی چیز ہے‪ :‬ثواب كا وعدہ‪ ،‬ىا كسى عذاب كى وعید۔‬
‫اس کے بعد آپ قرآن وحدیث کو ہاتھ میں لے کر پڑھو اور غور‬
‫کرو۔ ان كے ابواب مىں جگہ جگہ ثواب اور عذاب کے وعدے‬
‫اور وعیدیں نظر پڑیں گی۔‬
‫پس جب معیار كى تحقىق ہو گئى‪ ،‬تو اب معامالت اور‬
‫سىاسىات كے شرىعت كا جزو ہونے مىں کیا شبہ رہا۔ (انتباہ سوم)‬
‫کی چوتھى اور پانچوىں غلطى كے ضمن مىں اس کا ذكر تفصىل‬
‫سے ہوچکا ہے۔ البتہ شاید ان مسائل میں شبہ باقی رہے‬
‫جومنصوص نہیں ہىں‪ ،‬بلكہ صرف مجتہدین کے قیاس سے ثابت‬
‫ہیں۔ سو ان مسائل کا جزو ِّشریعت ہونا‪( ،‬انتبا ِّہ ہفتم) مىں ‪ ،‬پہلى‬
‫غلطى كے بىان كےضمن مىں بىان ہو چكا ہے‪ ،‬اور اور اسى‬

‫‪103‬‬
‫(انتبا ِّہ ہفتم ) مىں چوتھى غلطى كے ضمن مىں ىہ بھى بىان كىا جا‬
‫چكا ہے كہ غىر مجتہدكى رائے معتبر نہىں ہوتى‪ ،‬اور ىہ بھى كہ‬
‫ہم لوگ مجتہد نہىں ہىں۔‬
‫اس تقریر سے ان سب شبہات کا جواب ہوگیا‪ ،‬جو ازواج‬
‫كى تعداد‪ ،‬یا طالق ‪،‬یا سود‪ ،‬یا تجارت کی جدید صورتوں مثل‬
‫بىمہ وغىرہ‪ ،‬یا مالزمت کی نئی شاخوں‪ ،‬یا میراث‪ ،‬یا حربىوں كے‬
‫ساتھ مقاتلہ وغیرہ مسائل کے متعلق پیش کىے جاتے ہیں۔‬
‫اور اگر کسی کو معامالت و سیاسیات کے‪،‬شرىعت كا‬
‫جزو ہونے‪ ،‬ىا دائمى شریعت نہ ہونے کا شبہ اس بنا پر ہوگیا‬
‫ہو کہ ہم بعض سىاسى احکام کو دىكھتے ہىں كہ وہ تمدن كے‬
‫لىے مضر ہیں۔ پس یا تو وہ احکام الہی نہیں ہیں‪ ،‬یا ا ُس زمانے‬
‫کے ساتھ خاص ہوں گے۔تو اس کا حل( انتبا ِّہ سوم )میں‪ ،‬پانچوىں‬
‫غلطى سے متعلقہ شبہ كى تقرىر كے ضمن مىں ذكر كر دىا گىا‬
‫ہے‪ ،‬پس ہم کو اس کی بھی ضرورت نہیں کہ ان احکام کو‬
‫زبردستی مصالح ِّموہومہ پرمنطبق کر کے‪ ،‬آیات واحادیث کے‬
‫غلط معانى گڑھىں‪ ،‬اور احکام کوان کی اصلیت سے بدلیں۔‬
‫جیسا كہ اسالم كى خیرخواہی كا دعوى كرنے والے‬
‫لوگوں كو اس بات کی عادت ہوگئی ہے‪ ،‬کہ اعتراض كرنے‬
‫والے نے جس بنىاد پر اعتراض كى عمارت كو اٹھاىا ہے‪ ،‬اگر‬
‫اس بنىاد كے صحىح ثابت كرنے پر دلىل كا مطالبہ كر دىا جائے‪،‬‬
‫تو اس كو بے ادبی سمجھ کر ‪،‬اعتراض کو تسلیم کر لىتے ہىں‪،‬‬
‫اور پھر اسالم كے جس حكم پر اعتراض كىا گىا ہے‪ ،‬خود ہى‬
‫اس اعتراض شدہ حكم كو احكام كى فہرست سے نکال باہر كرتے‬
‫ہىں‪ ،‬اور اس کی جگہ دوسرا تحرىف شدہ حكم بھرتی کرکے ‪،‬‬
‫قرآن كے اس مضمون کے مصداق ہتے ہیں‪ :‬ﮋﭑﭒﭓﭔﭕپپ پی ﭚ‬
‫ﭛپیٹﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦٹٹٹﭪﭫ ﭬﭭﭮﮊَ[آلَعمران]‪.‬‬
‫اور خرابى كى اصل جڑ دنیا كى محبت‪ ،‬اور دنىا والوں‬
‫كى چاپلوسى ہے۔ میں سﭻ کہتا ہوں کہ جن دنیا والوں كى چاپلوسى‬
‫میں‪ ،‬جن بودى بنىادوں كو تسلیم کر کے ‪،‬اسالمى اصولوں کو بدال‬

‫‪104‬‬
‫جاتا ہے‪ ،‬اگر كبھى وہ اہل دنیا ‪ ،‬ہمارے صحىح اصولوں کو‬
‫تسلیم کر لیں‪ ،‬تو ان سے محبت كرنے والے ىہ سارے لوگ بھى‬
‫فورا اپنی پرانى رائے کو چھوڑ کر‪ ،‬ان بنىادوں کوغلط بتالنے‬
‫ً‬
‫لگیں گے۔ غرض اىسے لوگوں كى توجہ كا قبلہ كچھ دنىا دار‬
‫لوگوں كى رضا مندى ہے۔جس چىز میں دنىا داروں كى رضا‬
‫ہو‪ ،‬ىہ بھى اُدھرہی پھر جائیں گے‪ ،‬جىسے جہاز کا نمازی جہاز‬
‫کےگھوم جانے سے خود بھی گھوم جاتا ہے۔‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫‪105‬‬
‫انتبا ِّہ چہار دہـم‪:‬‬
‫متعلق معاشرات وعادا ِّتـ خاصہ‬

‫ان میں بھی معامالت و سیاسیات كى طرح ىہ غلطى کی‬


‫جاتی ہے کہ ان کاتعلق بھی دین سے نہیں سمجھا جاتا‪ ،‬بلکہ اس‬
‫کا مدار اپنی ذاتی آسائش اور آرائش‪ ،‬اور ذاتى پسند اور ذاتى‬
‫مصلحت پر سمجھا جاتا ہے۔ اس غلطى کا بھی اسی معیار سے‬
‫جواب سمجھ لینا چاہے جو( انتباہ سىزدہم) میں مذکور ہوچکا ہے۔‬
‫البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جن ا ُمور میں نہ جزئی‬
‫علم ہے نہ كلى‪ ،‬وہ بے شک اختیار میں ہیں‪ ،‬جس طرح چاہیں‬
‫ان میں برتاؤ رکھیں۔لىكن جو ا ُمور جزئى لحاظ سے‪ ،‬ىا كلى لحاظ‬
‫سےمنصوص ہیں‪ ،‬ان میں ہرگز کسی کے اختیار کی گنجائش‬
‫نہیں۔‬
‫جز ئى مسائل كى مثال یہ ہے کہ‪ :‬ریشمی کپڑا مرد کو‬
‫پہننا حرام ہے‪ ،‬اور یہ کہ ٹخنوں سےنىچےازار‪ ،‬شلوار وغیرہ‬
‫کا اسبال حرام ہے۔ اورمثالیہ کہ‪ :‬ڈاڑھی کٹانا یا منڈوانا حرام ہے‪،‬‬
‫اورمثال یہ کہ جاندار کی تصویر رکھنا یا تصویر بنانا حرام ہے‪،‬‬
‫اورمثال یہ کہ‪ :‬بالضرورت كے كتا پالنا معصیت اور گناہ ہے۔‬
‫اور مثال یہ کہ غیر مذبوح جانور کھانا حرام ہے‪( ،‬اورقواعد كى‬
‫رو سے جیسا ذبح جس وقت مشروع ہو‪ ،‬خواہ اضطراری یا‬
‫اختیاری وہ جائز ہے)‪،‬‬
‫روح شراب کا استعمال ناجائز‬
‫ِّ‬ ‫اورمثال یہ کہ‪ :‬شراب یا‬
‫ہے‪ ،‬دوا ہو یا غذا‪ ،‬خارجی استعمال ہو یا داخلی‪ ،‬اور مثال یہ کہ‬
‫کفار کے ساتھ تشبہ (ىعنى ان جىسى مشابہت اختىار كرنا) ناجائز‬
‫ہے‪ ،‬خواہ لباس میں ہو یا كھانےپىنے كے طرز میں ہو‪ ،‬اورمثال‬

‫‪106‬‬
‫یہ کہ ‪:‬چندہ جب طیب ِّخاطر سے نہ ہو ‪،‬یا دھوكے سے ہو تو‬
‫ناجائز ہے‪ ،‬یا جو سواری اور لباس تفاخر ‪،‬تکبر اور اظہار ِّشان‬
‫کے لىے ہو ‪ ،‬اس سے بچنا واجب ہے‪ ،‬اور اس جىسے دوسرے‬
‫مسائل۔‬
‫ان سب امور میں کوئی شخص خود مختار اور آزاد‬
‫نہىں ہے۔ اس زمانے میں آزادی کو ایک خاص مشرب ٹھہرا لىا‬
‫گیا ہے‪ ،‬اور اس کى تطبىق كا محل زىادہ تر اىسے ہى امور كو‬
‫قرار دىا گىا ہے۔ اور جو كوئى نصىحت كرے‪ ،‬تو اس سے مختلف‬
‫طور پر ا ُ لجھ پڑتے ہىں۔ كبھی ا ُن سے اِّن چىزوں كا ثبوت قرآن‬
‫مجىد سے مانگا جاتا ہے‪ ،‬اور كبھى حد ىثوں میں شبہات نکالے‬
‫جاتے ہیں‪ ،‬كبھی ان کی ِّلم اپنی طرف سے تراش کر ان میں‬
‫تصرف کیا جاتا ہے‪،‬كبھی ان کی عقلى ِّلم دریافت کی جاتی‬
‫ہے‪،‬کبھی ان احکام سے تمسخرکیا جاتا ہے ‪،‬كبھی ان عادات کى‬
‫ت‬
‫مصلحتىں بیان کی جاتی ہیں۔ ان سب امور کا جواب (انتباہا ِّ‬
‫سابقہ) میں ہوچکا ہے۔‬
‫اصل یہ ہے کہ قانونى ضوابط کے سامنے كسی کی رائے‬
‫کوئی چیز نہیں ہے‪ ،‬اور نہ ہى ِّلم کی تفتیش کی اجازت ہے۔‬
‫ب فہم كے لىے کوئی حکمت ىا سر بیان کردیا جائے‪،‬‬
‫اور اگر تقرى ِّ‬
‫تو وہ محض تبرع ہے ‪ ،‬وہ اصل جواب نہیں ہے۔ مگر مذاق‬
‫ایسا بگڑ گىا ہے کہ ان مضامین کو بڑا وقىع سمجھتے ہیں‪ ،‬اس‬
‫لىے ہم بھی تبرع كے طور پر اتنا بیان کىے دىتے ہیں کہ کیاكسى‬
‫شخص کو اپنی زوجہ کے کپڑےپہن کر مجلس میں آنا‪ ،‬محض‬
‫اسی تشبہ کی بنا پر معیوب معلوم نہ ہوگا؟ اور کیا تمدن كے‬
‫مدعى حكام كہ سب امور کا مدارمحض عقل ہی پر سمجھتے‬
‫ہیں‪ ،‬حكومتى ىا عدالتى اجالس مىں آنے والوں کے لىے لباس‬
‫میں کسی قانونی قىد پرعمل کرانے پر مجبور نہیں کرتے؟۔ اور‬
‫کیا اس کی مخالفت توہین ِّعدالت نہیں ہے؟ تو کیا شریعت کو اتنی‬
‫دست اندازی کاحق بھى حاصل نہىں ہے‪،‬جتنا اىك دنىاوى حاكم كو‬
‫ہے‪!!..‬؟۔‬

‫‪107‬‬
* * * * *

108
‫انتبا ِّہ پانز دہـم‪:‬‬
‫ق باطنى وجذباتـِّ نفسانىہ‬ ‫متعلق اَخال ِّ‬

‫ان میں بھی معامالت و سیاسیات كى طرح اىك مشترك‬


‫غلطى تو ىہ کی جاتی ہے کہ ان کو بھى دىن كا حصہ اور جزو‬
‫نہیں سمجھا جاتا‪ ،‬اور اس خیال کے غلط ہونے کی دلیل بھی وہى‬
‫ہے جو معامالت وغیرہ میں مذکور ہوئی ہے‪ ،‬ىعنى نصوص میں‬
‫خاص خاص ا َخالق پرثواب یا عقاب کا وارد ہونا بتاتا ہے كہ ىہ‬
‫دىن كا حصہ ہىں۔‬
‫اور اىك خاص غلطى یہ کی جاتی ہے کہ بعض ا َخالق‬
‫ق ذمیمہ کی فہرست میں خلط ملط کردیا‬‫حمیدہ اور بعض اخال ِّ‬
‫گیا ہے ‪ ،‬ىعنى بعض اىسے اخالق کو اچھا نام رکھ کر حمیدہ‬
‫قرار دے دیا گیا ہے جو اپنی واقعى حقیقت کے اعتبار سے‬
‫اخالق ِّذمیمہ مىں سے ہىں‪ ،‬اور بعض كے ساتھ اس كا الٹ معاملہ‬
‫كىا ہے كہ وہ اپنى واقعى حقىقت كے اعتبار سے تو اَخال ِّ‬
‫ق حمىدہ‬
‫ق ذمىمہ مىں قرار دے‬
‫ہىں‪ ،‬مگر ان كا نام برا ركھ كر انہىں اخال ِّ‬
‫دىا گىاہے۔‬
‫چناں چہ پہلى قسم میں سے ایک وہ ہے جس کوترقی‬
‫سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور اس كى حقیقت مال وجاہ كى حص‬
‫ہے۔ اور اسى قسم مىں سے ایک وہ ہے جس کا نام اعزاز رکھا‬
‫گیا ہے‪ ،‬اور حقیقت اس کی كبر ہے۔‬
‫اور اس میں سے ایک وہ ہے جس کو قومى ہمدردی کہا‬
‫جاتا ہے‪ ،‬کہ اس كى حقیقت عصبیت ہے‪ ،‬جس میں حق اور نا حق‬
‫كا امتىاز بھی نہیں کیا جاتا۔‬
‫اور اس میں سے ایک وہ ہے جس کو سیاسی حکمت‬

‫‪109‬‬
‫کہتے ہی‪،‬ں جس کی حقیقت تلبىس اور خداع ىعنى دھوكہ دہى‬
‫رفتار زمانہ کی موافقت کہا‬
‫ِّ‬ ‫ہے۔ اور اس مىں ایک وہ ہے جس کو‬
‫جاتا ہے‪ ،‬جس کی حقیقت منافقت ہے۔ اور اسى پر باقى چىزوں‬
‫كو بھى قىاس كر لىا جائے۔‬
‫اسی طرح دوسرى قسم‪ ،‬ىعنى بعض وہ اخالق جن‬
‫کوذمىمہ میں داخل کیا ہے‪ ،‬اور حقىقت اور واقع میں وہ حمیدہ‬
‫ہیں‪ ،‬ان بعض میں سے ایک قناعت ہے‪ ،‬جس کو پست ہمتى‬
‫کہتے ہیں۔اور ایک اُن میں سےتو كل و تفویض ہے جس کو تعطل‬
‫قرار دیا گیا ہے۔‬
‫اور ایک ان میں سے دىنى حمیت اور تصلب فی الدین‬
‫ہے‪ ،‬جس كا نام تعصب وتشدد رکھ دیا ہے۔اور ایک ان مىں سے‬
‫بذاذَت ہے‪ ،‬جس کوتذلل سے تعبیر کرنے ہیں۔ اور ایک ان میں‬
‫تقوی ہے‪ ،‬جس کو وہم اور وسوسہ کہنے لگتے ہیں۔اور‬
‫ٰ‬ ‫سے‬
‫ایک ان میں سےفضول صحبت سے عزلت ہے‪ ،‬جس کو وحشت‬
‫کہتے ہیں‪ ،‬اور اسى پر باقى چىزوں كو بھى قىاس كر لىا جائے۔‬
‫اور بعض اخالق ذمیمہ اىسے ہىں كہ ان کا نام نہیں بد ال‪،‬‬
‫مگر اس کے مرتکب ہیں اور اچھا سمجھ کر مرتکب ہیں۔ ایک‬
‫ان میں سے سوئے ظن ہے۔ اور ایک ان میں سے ظلم اور‬
‫غرىبوں كے حقوق سے بے پروائی ہے۔ اور اىك ان مىں سے‬
‫مسكىنوں كے ساتھ بے رحمى ہے۔ اىك ان مىں سے تحقىر ہے۔‬
‫اىك ان مىں سے قلت ادب ہے۔اور ایک ان میں اہل ِّ علم اور اہل‬
‫دىن كى غیبت اور ان كى عیب جوئی اور عیب گوئی ہے۔‬
‫اور ایک ان میں سے ریا و تفاخر ہے۔ ایک ان میں سے‬
‫اسراف ہے۔ ایک ان میں سے آخرت سے غفلت ہے‪ ،‬وغیرہ‬
‫وغیرہ۔ اور اِّن تمام اخالق کے حقائق ‪ ،‬اخالق سے متعلقہ كتب‬
‫صا حجۃ االسالم‬
‫كو دیکھنے سے منکشف ہوسکتے ہیں‪ ،‬خصو ً‬
‫امام غزالی رحمۃ هللا علىہ كى تصنىف كردہ كتب اس کےلىے‬
‫بے نظىر ہیں۔‬

‫‪110‬‬
* * * * *

111
‫انتبا ِّہ شانز دہـم‪:‬‬
‫متعلق اِّستدالل عقلى‬

‫آج کل اس کا بہت استعمال ہے‪ ،‬مگر استعمال كى اس‬


‫كثرت كے باوجود اب تک بھی اس کے استعمال میں متعدد‬
‫غلطیاں کی جاتی ہیں۔‬
‫ایک ان میں سے یہ ہے کہ دلیل عقلی کومطلقًا دلیل نقلى‬
‫پر ترجىح دی جاتی ہے۔ اس کا قاعدہ (اصو ِّل موضوعہ نمبر (‪))7‬‬
‫میں بیان ہوچکا ہے۔‬
‫ایک ان میں سے یہ ہے کہ تخمین اور استقرا ء كو دلیل‬
‫فروع شرعیہ‬
‫ِّ‬ ‫عقلی سمجھتے ہیں۔ اور ایک ان میں سے یہ ہے کہ‬
‫کو عقل سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‬
‫ایک ان مىں سے یہ ہے کہ نظىر كو ثبوت سمجھ كر‬
‫كبھى خود بھى اسى پر اکتفا کرتے ہیں‪ ،‬اور كبھی دوسرے کے‬
‫دلیل قائم کرنے كے باوجود‪ ،‬اس سے نظیر کا مطالبہ کرتے‬
‫ہیں۔‬
‫ایک ان میں سے یہ ہے کہ جن امور كا واقع ہو سكنا ممكن‬
‫ہو‪ ،‬ان كے وقوع پر عقلى دلیل كا مطالبہ کرتے ہىں اور ان‬
‫دونوں امور کا غلط ہونا (اصو ِّل موضوعہ نمبر (‪َ)5‬و نمبر(‪))6‬‬
‫مىں ثابت ہو چكا ہے۔‬
‫اور اىك ان مىں سے ىہ ہے كہ اِّ ْستِّ ْب َعادسے اِّ ْستِّ َحالَهپر‬
‫استدالل کرتے ہیں۔‬
‫اور ایک ان میں سے یہ ہے کہ عادت اور عقل كو متحد‪،‬‬
‫ىعنى اىك ہى سمجھتے ہىں۔‬

‫‪112‬‬
* * * * *

113
‫اختتامى التماسـ‬
‫سردست اسی قدر مضامىن پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اس كے‬
‫بعد اگر هللا تعالی مجھ کو‪ ،‬یاکسی اورکوتوفىق بخشىں‪ ،‬تو اسی‬
‫موضوع پر جس کی تفصیل «تمہید» میں ذكر کی گئی ہے ‪ ،‬بہت‬
‫سے مزىد مضامىن كے اضافے کی گنجائش ہے۔ گویا یہ حصہ‬
‫اول ہے‪ ،‬اور آئندہ كىے جانے والے اضافات دوسرا حصہ بن‬
‫جائىں گے۔‬
‫ڈڈﮊ ﮋڑﭺﭻکﭬ‪َ .‬وصلَّى َهللا َتعالى َعلى َخير َخلقه َمح َّمدَ‬
‫(‪)1‬‬
‫َّوآلهَوأصحابهَاألمجادَإلىَيومَالتَّنادَ ‪.‬‬

‫مرقومہ ‪ 21‬رجب ‪َ1330‬ﻫ‪،‬‬


‫[مطابقَ‪َ7‬جوالئی‪َ1912َ ،‬ء]‬
‫صانَھا هللاُ ت َ َعا َلى َ‬
‫ع ِّن ال ِّفت َن‬ ‫بھون‪َ ،‬‬
‫مقام تھانہ َ‬

‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬ ‫*‬

‫الحمد ُ هللِّ تعَالى كہ اس مبارك اور نافع كتاب كى تسہىل كا كام محض هللا‬ ‫(‪)1‬‬
‫تعالى كے فضل وكرم سے اختتام كو پہنچا۔ وال َح ْمد ُ هللِّ الَّذي بنِّ ْع َمتِّه ت َتِّ ُّم‬
‫سلَّ َم َوبَ َ‬
‫اركَ َعلَى‬ ‫صلَّى هللاُ ت َعَالَى َو َ‬ ‫آخ ًرا‪َ .‬و َ‬ ‫ش ْك ُر َّأو ًال َو ِّ‬
‫صا ِّل َحاتُ ‪َ .‬ولَهُ ال َح ْمد ُ َوال ُّ‬
‫ال َّ‬
‫صحْ بِّ ِّه َوأ ُ َّمتِّه أ َجْ َم ِّع ْین‪.‬‬
‫الرح َم ِّة‪َ ،‬و َعلَى آ ِّل ِّه َو َ‬ ‫النَّبي ِّ الكَریم‪ ،‬نبِّي ِّ ال ُھدَى َو َّ‬
‫وكتبه‪َ :‬‬
‫أحسَنَأحمَدَعبدَالشَّكَوَر َ‬
‫‪ُ 22‬جمادَى االُولى‪َ1440َ ،‬ﻫ‪،‬‬
‫[مطابقَ‪َ29‬جنوری‪َ2019َ ،‬ء]‬
‫صانَھا هللاُ تَعَالَى َ‬
‫ع ِّن ال ِّفت َن َوال ُّ‬
‫ش ُر ْور‬ ‫مقام سىٹالئٹ ٹاؤن ‪ ،‬بہاولپور‪َ ،‬‬

‫‪114‬‬

You might also like